21 کارروائیوں میں قابض فوج کے 20 اہلکار ہلاک – قابض ریاست بی ایل اے کو دیگر تنظیموں کیساتھ جوڑ کر متنازع و مسخ کرنا چاہتی ہے – بی ایل اے

39

ایک ہفتے میں 21 کارروائیوں میں قابض فوج کے 20 اہلکار ہلاک – بلوچ لبریشن آرمی

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرمچاروں نے ایک ہفتے کے دوران 21 کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج کے سولہ اہلکاروں سمیت چار کارندوں کو ہلاک کردیا۔ اہم شاہراہوں پر سرمچاروں کا کنٹرول برقرار رہا جبکہ معاشی ناکہ بندی کے تحت تجارتی گاڑیوں اور پلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں قابض فوج کو اس کے کیمپوں میں بھاری نقصانات سے دوچارکیا گیا جبکہ قابض فوج کی سہولت کاری میں ملوث مخبروں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا۔ قابض فوج سے جھڑپوں کے دوران ایک سرمچار شہید ہوگیا۔

ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 23 ستمبر: پسنی کے علاقے شادی کور میں سرمچاروں نے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے اہم کارندے احسان ولد برکت سکنہ شادی کور (سندھی پسو) کو ہلاک کرکے اس کا اسلحہ اور سواری ضبط کرلی۔ مذکورہ کارندہ شادی کور اور گردونواح میں فوجی جارحیت میں قابض فوج کی سہولت کاری میں براہ راست ملوث پایا گیا تھا، جبکہ گھروں پر چھاپوں اور جبری گمشدگیوں میں بھی یہ آلہ کار سرگرم رہا تھا۔ اس آلہ کار کو قابض فوج نے راستوں اور پلوں کی کلیئرینس کا کام بھی سونپ رکھا تھا۔

“25 ستمبر: کوئٹہ کے علاقے ڈغاری میں ‘تُس بُٹ’ کے مقام پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے رات کے وقت قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو ایک مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔ تھرمل اور دیگر جدید ہتھیاروں سے لیس سرمچاروں نے تین اطراف سے دشمن کے کیمپ پر بیک وقت حملہ کیا۔ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اس حملے میں دشمن کے 9 اہلکار ہلاک اور سات سے زائد زخمی ہوگئے، جبکہ دشمن کو شدید مالی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان جھڑپوں میں فرنٹ لائن پر لڑنے والے بی ایل اے کے جاں نثار سرمچار سنگت غلام نبی بلوچ عرف بولانی شہید ہوگئے۔ حملے کے اگلے روز قابض فوج نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے گھات لگا کر نشانہ بنایا، اس دوران قابض فوج کی دو گاڑیاں زد میں آئیں جس سے دشمن کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔”

“اسی روز مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ پر متعدد راکٹ گولے داغے، جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی ومالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔”

“مزید برآں، تربت کے علاقے دشت (چیر کنچتی) میں سرمچاروں نے قابض فوج کے آلہ کار عبدالوہاب ولد لال بخش کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ عبدالوہاب قابض فوج کی سرپرستی میں مسلح ہوکر دشت اور گردونواح میں قابض فوج کے لیئے سہولت کاروں کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ وہ گھروں کی چادر و چہاردیواری کی پامالی، خواتین و بزرگوں کی عزت نفس مجروح کرنے اور نوجوانوں کو جبری لاپتہ کرنے میں قابض فوج کی براہ راست معاونت کرتا تھا۔”

ترجمان نے کہا کہ 26 ستمبر: خضدار میں وڈھ کے مقام پر آر سی ڈی شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ حملے کی زد میں آکر دشمن کی تین گاڑیاں متاثر ہوئیں جبکہ تین اہلکار ہلاک اور کم از کم چھ زخمی ہوگئے۔

“اسی روز سوراب کے علاقے گدر میں قابض فوج کے کیمپ پر تعینات اہلکاروں کو بی ایل اے کے سنائپرز نے نشانہ بنایا، جن میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔”

“مزید برآں، خاران – کوئٹہ مرکزی شاہراہ پر سوتگان کے مقام پر سرمچاروں نے ہیوی مشینری کی مدد سے ایک مرکزی پل کو تباہ کردیا۔ اسی شاہراہ پر ایک اور پل کو اڑانے کے علاوہ کلی کریم بخش کے مقام پر قابض فوج کے زیرِ استعمال پوسٹ کو بھی منہدم کردیا گیا۔”

“اسی روز تجابان اور ہوشاپ کے درمیان سی پیک روٹ پر سرمچاروں نے کنٹرول حاصل کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔”

ترجمان نے مزید کہا کہ 27 ستمبر: کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر چاغی کے علاقے نوکچاہ میں سرمچاروں نے ایک تجارتی گاڑی کو سامان سمیت تحویل میں لے لیا۔

“28 ستمبر: قلات کے علاقے منگچر میں سورو کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کو ایک آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک مرکزی پل بھی تباہ ہوگیا۔”

اسی روز کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر چاغی (نوکچاہ) کے مقام پر سرمچاروں نے معدنیات لے جانے والی ایک گاڑی کو نہ رکنے پر فائرنگ کرکے نشانہ بنایا اور بعدازاں اسے نذرآتش کردیا۔”

“مزید برآں، خاران کے علاقے برشونکی سے سرمچاروں نے قابض فوج کی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور حافظ ممتاز کی سرپرستی میں چلنے والے ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے دو کارندوں (سدیس ولد محمد کریم مینگل اور جنید ولد نور محمد محمد حسنی سکنہ برشونکی) کو بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے تحت ہلاک کردیا۔”

“مذکورہ دونوں کارندوں کو سرمچاروں نے کچھ روز قبل حراست میں لیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ بلوچ آزادی پسند تنظیم کی صفوں میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے قلات کے پہاڑی سلسلے میں ایک ٹریکنگ چپ پہنچائی تھی۔ سرمچاروں نے تفتیش اور اعترافِ جرم کے بعد ان کے والدین کی ضمانت پر انہیں رہا کردیا تھا۔ تاہم، رہائی کے بعد یہ دونوں دوبارہ حافظ ممتاز کے گینگ سے مل گئے جہاں انہیں اسلحہ اور مزید ٹریکنگ چپس دیئے گئے، جن میں سے تین لجے کے علاقے میں پہنچائے گئے جہاں بعدازاں ڈرون بمباری کی گئی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اس جارحیت کے دوران بھی قابض فوج کی سہولت کاری میں ملوث رہے ہیں، اور نوشکی و خاران سے فوج کے لیئے اسلحہ چھپا کر منتقل کرنے اور راستوں کی کلیئرینس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ آلہ کاروں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ موسیٰ نامی شخص کے قتل میں بھی ملوث تھے۔”

“(واضح رہے کہ اس نیٹ ورک سے منسلک محبوب ولد مولابخش ماندائی کو بھی رواں ماہ سرمچار حراست میں لے کر اعترافِ جرم کے بعد ہلاک کر چکے ہیں)۔ سدیس اور جنید نے اس نیٹ ورک سمیت علاقے میں قابض فوج کے دیگر مرد و خواتین کارندوں کے نام اور راز افشا کیئے ہیں، جنہیں جلد بلوچ قومی عدالت کے کٹہرے میں لاکر انجام تک پہنچایا جائے گا۔”

ترجمان نے کہا کہ 29 ستمبر: نوشکی شہر میں سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ ضبط کیا اور جاسوس کیمروں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ سوموار کی شب نوشکی میں عیدگاہ روڈ پر قابض فوج کی جانب سے نصب کردہ ایک بڑا جاسوس کیمرہ بھی تباہ کردیا گیا۔

“اسی روز خاران-کوئٹہ روٹ پر دالی کے مقام پر پانچ گھنٹوں سے زائد طویل ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کی گئی، جبکہ گواڑغان کے مقام پر بھی ناکہ بندی کرکے چیکنگ کا عمل جاری رکھا گیا۔”

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے بیان میں کہا کہ قابض فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے حالیہ دنوں میں زیارت، شعبان اور دیگر علاقوں میں چند دنوں کے اندر 71 سے زائد افراد کی ہلاکت کے جو دعوے کیئے گئے ہیں، وہ سراسر من گھڑت، فرضی اور زمینی حقائق کے منافی ہیں۔ یہ مضحکہ خیز اعداد وشمار اور خیمہ تراشی پر مبنی بیانیئے دراصل میدانِ جنگ میں سرمچاروں کے ہاتھوں لگنے والی شدید ہزیمت، کیمپوں پر ہونے والے تباہ کن حملوں اور بھاری جانی و مالی نقصانات کے بعد قابض ریاست کی بوکھلاہٹ اور شکست خوردہ ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی شکست کو چھپانا اور عوام کی توجہ اصل نقصانات سے ہٹانا پاکستانی عسکری مشینری کا پرانا طریقہ کار ہے۔

جیئند بلوچ نے کہا کہ مزید برآں، قابض ریاست اور اس کے ادارے دانستہ طور پر یہ لائحہ عمل اختیار کیئے ہوئے ہیں کہ بی ایل اے اور خطے کی دیگر عسکری تنظیموں (جیسے تحریک طالبان پاکستان) کو جوڑ کر پیش کیا جائے تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ سب ایک ہی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ اس مصنوعی اور فریب پر مبنی تشہیر کا واحد مقصد بین الاقوامی سطح پر بلوچ قومی تحریک کی خالصتاً سیاسی، سیکولر اور قومی آزادی پر مبنی نظریاتی جدوجہد کو متنازع بنانا اور اسے مسخ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس پروپیگنڈے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کرتے ہیں کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ماسوائے ‘براس’ کے کسی بھی دوسری تنظیم، گروہ یا عناصر کے ساتھ کوئی تنظیمی، نظریاتی یا عملی تعلق نہیں ہے۔ بی ایل اے ایک مکمل طور پر خود مختار، منظم اور قومی سطح پر جڑیں رکھنے والی آزادی پسند تحریک ہے، جو صرف اور صرف مقبوضہ بلوچستان کی آزادی، قومی وسائل کے تحفظ، ایک آزاد وخودمختار و خوشحال بلوچ وطن کے حصول کے لیئے برسرِ پیکار ہے۔

جیئند بلوچ نے کہا کہ اس نوعیت کے بوگس دعوے اور نفسیاتی حربے نہ تو سرمچاروں کے عزم وحوصلے کو کمزور کرسکتے ہیں اور نہ ہی بلوچستان میں جاری حقیقت پر مبنی مزاحمت کو چھپا سکتے ہیں۔ بلوچ قوم اور عالمی برادری یہ بخوبی جانتی ہے کہ بی ایل اے کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں، مربوط حکمت عملی اور زمینی کنٹرول ہی قابض فوج کے زوال اور شکست کا اصل سبب ہیں۔