بی ایل اے معاشی ناکہ بندی اور سیکیورٹی خدشات ایران کے ساتھ سرحدی بندش سے پاکستان میں ایل پی جی کا بحران شدت اختیار کر گیا

124

پاکستان اور ایران کے درمیان دو اہم سرحدی گزرگاہیں بند ہونے سے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمدات رک گئی ہیں۔ تاجروں کے مطابق اس صورتِ حال کے نتیجے میں ملک میں گیس کی قلت بڑھ رہی ہے اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رائٹرز رپورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت کا موقف ہے کہ ان گزرگاہوں کی عارضی بندش کا مقصد سکیورٹی خدشات سے نمٹنا اور اسمگلنگ کی روک تھام تھا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے تکنیکی مسائل کا ذکر کیا۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران سے روزانہ تقریباً 7,000 میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شمس الحق کے مطابق، گبد کی سرحدی گزرگاہ سے ہی روزانہ 4,000 میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی پاکستان پہنچتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ درآمدات اس وقت معطل ہیں۔

گبد کی سرحدی گزرگاہ بدھ کے روز پاکستان سے جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی برآمدات کے لیے دوبارہ کھول دی گئی، تاہم ایل پی جی کی درآمدات بحال نہیں ہو سکیں۔

رائٹرز کے مطابق سرحد کے دونوں جانب سیکڑوں ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، جن میں ایل پی جی لے جانے والے ٹینکر بھی شامل ہیں۔ایران کے لیے آلو، کیلے اور چاول لے جانے والے پاکستان کے 1,000 سے زیادہ کنٹینرز بھی پھنس گئے تھے۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اپنے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ اگلے حکم تک ایران سے نئے آرڈرز دینے سے گریز کریں۔

سرحد پر پھنسے ٹرک ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے سخت حالات میں انتظار کر رہے ہیں اور انہیں بنیادی سہولتوں تک محدود رسائی حاصل ہے۔

ایک متاثرہ ڈرائیور نے عبدالغنی نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے سرحد کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

پاکستان اور ایران کی تجارت
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق مالی سال 2023-24 میں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہا، جس میں پاکستان کی برآمدات تقریباً 684 ملین ڈالر تھیں۔

پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے خبردار کیا کہ اگر سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو قلت اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی مختلف قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہے، اور اس مہنگائی کے اثرات دوسری اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

سردیوں میں بحران مزید بڑھنے کا خدشہ
صارفین کو خدشہ ہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ایل پی جی کی طلب بڑھنے سے قلت اور قیمتوں کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران سے پاکستان جانے والے ایل پی جی اور دیگر ضروریات کی ایشا کے ٹرکوں پر بلوچ مسلح تنظمیوں کے حملوں کی شدت سے یہ بخران شدت اختیار کرچکا ہے ۔جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق لوٹ مار کے خاتمے تک معاشی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

مزید برآں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے ‘معاشی ناکہ بندی’ کے تحت بلوچستان کے اہم مرکزی شاہراہوں پر کئی مہینوں سے کنٹرول برقرار ہے جہاں تجارتی شاہراہوں پر پرتشدد واقعات رونماء ہوئے ہیں جبکہ کاروبار شدید متاثر ہوئی ہے۔