نوشکی گرلز کالج واقعہ ۔ ٹی بی پی اداریہ

1

نوشکی گرلز کالج واقعہ ۔ ٹی بی پی اداریہ

27 اکتوبر کو بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے گرلز کالج پر حملہ کرکے تعلیمی ادارے میں توڑ پھوڑ کی۔ حملہ آوروں نے کالج میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی نقصان پہنچایا، جس کے بعد وہاں موجود اسٹاف کو تشدد اور خوف و ہراس کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے دوران مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں تین طالبات زخمی ہوگئیں۔ اسی وقت نوشکی ہی میں کلی قادر آباد میں ایک نجی اسکول، رژن میں مسلح افراد نے گھس کر انتظامیہ و اساتذہ کو زد و خوب کرکے اسکول میں پھیلائی گئی۔ مسلح افراد نے طلباء و طالبات کے کلاسز علیحدہ کرنے پر زور دیتے ہوئے دھمکی دی۔

نوشکی کا واقعہ بلوچستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں، طلبہ اور اساتذہ کو دھمکیوں، دباؤ اور تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ ضلع پنجگور میں بھی اسی نوعیت کی تعلیم مخالف سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں، جہاں طالب علموں کو نشانہ بنانے اور تعلیمی ادارے بند کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اسی طرح ضلع کیچ کے مختلف علاقوں، خصوصاً بلیدہ، تمپ اور تربت میں بھی تعلیم مخالف سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ جہاں اسکولوں کو جلائے جانے اور اسکول مالکان اور اسٹاف پہ حملہ و زخمی کرنا اور انہیں دھمکی آمیز خطوط کا ملنا شامل ہیں، مستونگ اور خاران جیسے اضلاع میں بھی تعلیمی ماحول کو متاثر کرنے والی دھمکیوں اور کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتے رہے ہیں۔

ایک جانب بلوچستان پہلے ہی بدترین تعلیمی پسماندگی، غربت، بے روزگاری، تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی اور بنیادی حقوق سے محرومی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جہاں ہزاروں بچے معیاری تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔ دوسری جانب ایسے عناصر کی سرگرمیاں اس محرومی کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہی ہیں جو مختلف طریقوں سے تعلیمی ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور علم و شعور کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال محض تعلیم کے شعبے پر حملہ نہیں بلکہ بلوچستان کے مستقبل، اجتماعی ترقی اور نئی نسل کے بنیادی انسانی حق پر براہِ راست ضرب ہے۔ اسی تناظر میں ان تعلیم دشمن سرگرمیوں اور مخالفانہ اقدامات پر ریاست کی مکمل خاموشی کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ریاست کا یہ مسلسل خاموش تماشائی بنے رہنا محض انتظامی غفلت یا بے بسی کا اظہار نہیں بلکہ اس سے یہ تاثر بھی تقویت پاتا ہے کہ ان عناصر کو کہیں نہ کہیں ریاستی سرپرستی، خاموش حمایت یا کم از کم غیر اعلانیہ تحفظ حاصل ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان گروہوں کی جانب سے بلوچستان میں تعلیم کے خلاف جاری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟ ان کے خلاف قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا اور تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ کے تحفظ کو ریاستی ترجیحات میں وہ مقام کیوں حاصل نہیں جو ہونا چاہیے۔

بلوچ عوام کو تعلیم سے محروم رکھنا محض ایک تعلیمی ناکامی نہیں، بلکہ ان کے حال کو محدود کرنے، ان کے شعور کو دبانے اور ان کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ یہ صورتحال محض انتظامی غفلت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی اور سوچے سمجھے منصوبے کی عکاسی کرتی ہے، جسے تاریخ میں نوآبادیاتی طاقتیں محکوم اقوام کو پسماندہ رکھنے، ان کی خودمختار سوچ کو محدود کرنے اور ان پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے اختیار کرتی رہی ہیں۔