آپریشن الماس ۔ ٹی بی پی اداریہ

0

آپریشن الماس ۔ ٹی بی پی اداریہ

22 اکتوبر کی شام تقریباً چار بجے بلوچستان کے ساحلی شہر اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مرکزی شہر گوادر سے مسلح افراد کی شہر میں داخلے اور مختلف مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔اس حملے کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے قبول کی اور اسے ’’آپریشن الماس‘‘ کا نام دیا۔ اس کارروائی میں ایک خاتون سمیت سات فدائی شریک تھے، جو بیس گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی لڑائی کے بعد جانبحق ہوگئے۔

گوادر میں ہونے والی یہ کارروائی بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے اس نوعیت کی دوسری بڑی کارروائی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال نومبر میں نوکنڈی میں بھی اسی نوعیت کا ایک حملہ کیا گیا تھا، اس موقع پر تنظیم نے اپنے فدائی یونٹ کو متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اگر ان واقعات کو ایک تسلسل کے طور پر دیکھا جائے تو بی ایل ایف اپنی کارروائیوں کے طریقۂ کار میں تبدیلی لا رہی ہے اور اس کی عسکری حکمتِ عملی پہلے کے مقابلے میں زیادہ متنوع ہوتی جا رہی ہے۔

ماضی میں بلوچستان میں اس نوعیت کی بیشتر کارروائیوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) قبول کرتی رہی ہے، تاہم اب بی ایل ایف کی جانب سے ایسی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم مسلح تنظیمیں اپنے عملی طریقۂ کار میں تنوع پیدا کر رہی ہیں۔

گوادر میں آپریشن الماس اور اس سے قبل دالبندین میں بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی کارروائی کو بلوچستان میں جاری تحریک کے بدلتے ہوئے رجحانات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض دو الگ واقعات نہیں، بلکہ مسلح تنظیموں کے طریقۂ کار، تنظیمی ترجیحات اور اپنے سیاسی و عسکری حکمت عملی سے متعلق ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ بالخصوص بی ایل اے کی جانب سے بڑے پیمانے کی کارروائیوں کے بعد بی ایل ایف کی جانب سے اسی نوعیت کی کاروائیاں اس جانب اشارہ ہیں کہ آیا بلوچستان میں سرگرم آزادی پسند مسلح تنظیمیں اپنے روایتی گوریلا طریقۂ کار سے آگے بڑھ کر اپنی سرگرمیوں میں نئی جہتیں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک اور حالیہ وقتوں میں بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی جانب سے اپنی کاروائیوں میں جدت لانا ایک اہم بدلتے ہوئے پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تبدیلی کے مضمرات خطے کے سیاسی مستقبل، مقامی آبادی کے تحفظ اور تضاد کے حل کے امکانات کو ایک سمت لے جائینگے۔