بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 29 ستمبر 2026 کو آواران کے علاقے بزداد میں قائم پاکستانی فوج کی حفاظتی چوکی پر گرنیڈ لانچر کے گولے داغے جو اپنے اہداف پر جا لگے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے 29 ستمبر 2026 کو دوسری کاروائی میں سوراب کے علاقے مل میں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر 5 گھنٹوں سے زائد وقت تک ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ ناکہ بندی کا مقصد علاقے میں اپنا کنٹرول برقرار رکھ کر فورسز اور ان کے سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا۔ دریں اثناء سوراب تبلیغی اجتماع کی دعا کے بعد آنے والے مجمع سے سرمچاروں نے خطاب بھی کیا۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں ہمارے سرمچاروں نے 28 ستمبر 2026 کو مند میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ اس کا مقصد علاقے میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنا اور فورسز و ان کے سہولت کاروں کی نقل و حمل اور تحرک پر نظر رکھنا تھا۔ اس دوران سرمچاروں نے پاکستان کے معاشی مفادات سے منسلک ٹرکوں کو روک کر ان کے ٹائر برسٹ کیے اور ڈرائیوروں کو تنبیہ کے بعد رہا کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے جنگجوؤں نے 28 ستمبر 2026 کو جھاؤ کے علاقے سیاہ دمب میں قائم فورسز کی چوکی کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے جنگجوؤں نے 25 ستمبر 2026 کو مند کے علاقے ریک بازار میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی اور اس دوران وہاں سے گزرنے والے پاکستان کے معاشی مفادات سے منسلک چار ٹرکوں اور ایک بوزر گاڑی کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ 24 ستمبر 2026 کو مند کے علاقے مہیر میں فورسز کی حفاظتی چوکی میں آئی ای ڈی بم نصب کیا، جیسے ہی دو فوجی اہلکار چوکی میں پہنچے تو سرمچاروں نے دھماکے سے چوکی کو اڑا دیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔
ترجمان نے کہا کہ ہمارے سرمچاروں نے مند میں کاروائیوں کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے 24 ستمبر 2026 کو مند کے علاقے بلوچ آباد میں فورسز کے قافلے کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ سرمچاروں نے اسی مقام پر کھڑی فورسز کی ایک گاڑی پر شدید فائرنگ کر کے اسے مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا۔
24 ستمبر 2026 کو قومی مجرم نصرت تگاپی عرف سنجو کی سزائے موت پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص کو 16 ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے خاران شہر میں بائی پاس کے قریب چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا۔ بلوچ قومی عدالت میں جرم ثابت ہونے پر 24 ستمبر کو مسکان قلات کے مقام پر اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی روز ہمارے سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقے لاڑاندری اور آواران بیلہ روڈ پر قائم پولیس چوکی پر حملہ کر کے اس پر کنٹرول حاصل کیا اور وہاں موجود تمام عسکری سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس کے بعد شاہراہ پر ناکہ بندی کی گئی جس کا مقصد علاقے میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنا اور فورسز و ان کے سہولت کاروں پر نظر رکھنا تھا۔
22 ستمبر 2026 کو خضدار کے علاقے بلبل سلمان جو کے مقام پر قائم چوکی کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے شدید حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ حملے کے بعد فورسز نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے سرمچاروں پر حملہ کرنے کی کوشش کی جسے مستعد سرمچاروں نے فائرنگ کر کے پسپا کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف کے متحرک جنگجوؤں نے 21 ستمبر 2026 کو وڈھ کے علاقے روستو میں فورسز کے قافلے پر گھات لگا کر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ہمارے اسناپئر ٹیم نے 15 ستمبر 2026 کو مشکے کے علاقے سنیڑی میں قائم چوکی پر تعینات اہلکار کو اسناپئر سے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ 7 ستمبر 2026 کو قومی مجرم سمیع اللہ ولد شفیع اللہ ساکن خضدار گونکو کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص نصراللہ کی سرپرستی میں قومی جنگ کے خلاف متحرک تھا اور ان کا نیٹ ورک علاقے میں بھتہ خوری منشیات اور دیگر سماجی برائیوں میں براہ راست ملوث تھا۔ سمیع اللہ اور اس کے دیگر ساتھیوں کو فورسز کی جانب سے مسلح کیا گیا ہے تاکہ وہ سرمچاروں کا تعاقب کریں اور فورسز کو بروقت اطلاع دے سکیں۔ مذکورہ شخص کو سرمچاروں نے گرفتار کر کے قومی عدالت میں پیش کیا، جہاں اس نے قومی غداری اور اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا جس پر قومی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی اور 7 ستمبر 2026 کو اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔











































