بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ کونسل، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل بہاولپور کے رکن اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طالب علم ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم تاحال ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایک طالب علم کو اس کی تعلیمی اور سماجی زندگی سے زبردستی محروم کرنا، اسے نامعلوم مقام پر منتقل کرنا اور اس کے خاندان کو مسلسل بے خبری اور اذیت میں مبتلا رکھنا کسی بھی مہذب معاشرے، بنیادی انسانی حقوق، آئینی ضمانتوں اور قانون کی حکمرانی کے سراسر منافی ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیاں محض چند افراد کی گمشدگی کا معاملہ نہیں بلکہ شہری آزادیوں، بنیادی انسانی حقوق اور آئینی ضمانتوں کی سنگین پامالی ہیں۔ کسی بھی ریاستی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اور عدالتی نگرانی سے بالاتر ہو کر کسی شہری کی آزادی سلب کرے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام یا شواہد موجود ہیں تو اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہیے، نہ کہ اسے غیر معینہ مدت تک نامعلوم مقام پر رکھ کر اس کے خاندان کو کرب اور بے یقینی میں مبتلا کیا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتی ہے جہاں بلوچ طلبہ اپنی تعلیم، مستقبل اور روزمرہ زندگی کے حوالے سے مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد علم، شعور اور فکری آزادی کو فروغ دینا ہے، لیکن جب ایک طالب علم خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے تعلیمی ماحول اور طلبہ برادری کو متاثر کرتے ہیں۔ بلوچ طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے، تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اپنی رائے کے اظہار کا وہی حق حاصل ہے جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب نے واضح کیا کہ بلوچستان اور بلوچ طلبہ کے خلاف جبری گمشدگیوں کا تسلسل ایک اجتماعی انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ طلبہ، نوجوانوں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور عام شہریوں کی گمشدگیاں پورے معاشرے میں خوف اور خاموشی مسلط کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے، سیاسی شعور اور تنظیمی وابستگی کو جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ ان حقوق کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کرنا اس مسئلے کو مزید سنگین بناتا ہے۔
کونسل نے متعلقہ حکام سے دوٹوک مطالبہ کیا کہ ثقلین بلوچ کو فوری طور پر بحفاظت منظرِ عام پر لایا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت اور موجودہ حیثیت سے آگاہ کیا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی قانونی الزام موجود ہے تو انہیں بلا تاخیر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ مزید برآں، جبری گمشدگیوں کے تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور اس غیر قانونی عمل کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ترجمان نے کہا کہ جبری گمشدگی نہ کسی مسئلے کا قانونی حل ہے اور نہ ہی اسے کسی صورت جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ ریاستی طاقت کی اصل بنیاد قانون کی بالادستی، آئینی ذمہ داریوں کی پاسداری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ ثقلین بلوچ کی گمشدگی پر خاموشی اختیار کرنا نہ صرف ان کے خاندان کے دکھ اور کرب کو نظرانداز کرنا ہے بلکہ قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے بھی انحراف ہے۔
آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب نے تمام طلبہ تنظیموں، وکلا، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ ثقلین بلوچ کی بحفاظت بازیابی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ یہ محض ایک طالب علم کی بازیابی کا معاملہ نہیں بلکہ شہری آزادی، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔


















































