بی ایل اے نے اکتوبر میں جانبحق سرمچاروں کی تفصیلات جاری کردیں

0

بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے اکتوبر 2026 کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جانبحق ہونے والے اپنے چھ ارکان کی تفصیلات اپنے آفیشل چینل ہکل پر جاری کردی ہیں۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جانبحق ہونے والوں میں اورنگ زیب عرف آصف ولد حمید اللہ لانگو، نعمان جمالدینی عرف کامریڈ سمیر ولد آغا محمد جمالدینی، پرویز احمد عرف قادر ولد شکاری محمد خان محمد حسنی، فرید بلوچ عرف آبیان ولد غلام نبی لانگو، شاہ زیب بلوچ عرف احسان ولد سمیع اللہ بنگلزئی اور منیر احمد عرف نورا ولد حیبت خان جتک شامل ہیں۔

بی ایل اے کے مطابق اورنگ زیب کا تعلق قلات کے علاقے منگچر، کلی رنگی آباد سے تھا، انہوں نے 2025 میں تنظیم کے شہری گوریلا محاذ میں شمولیت اختیار کی اور قلات کے محاذ پر سرگرم رہے۔

تنظیم کے بیان کے مطابق اورنگ زیب قومی آزادی کو بلوچ قومی اقدار اور خوشحالی کا بنیادی ذریعہ سمجھتے تھے اور تنظیمی ہدایت پر شہری محاذ سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ساتھیوں کے ہمراہ شہری گوریلا سرگرمیوں میں حصہ لیا اور تنظیم کی شہری گوریلا حکمت عملی کے تحت مختلف کارروائیوں میں شریک رہے۔

بی ایل اے کے مطابق ان سرگرمیوں کا مقصد مخالف فورسز پر نفسیاتی دباؤ برقرار رکھنا تھا اور اورنگ زیب نے اس سلسلے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مختلف کارروائیاں انجام دیں۔

تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے بلوچستان میں موجود مخالف فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور قلات کے محاذ پر ہونے والی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے، وہ 24 اکتوبر 2026 کو منگچر، قلات میں ایک جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔

تنظیم کے مطابق نعمان جمالدینی عرف کامریڈ سمیر کا تعلق نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی سے تھا، 2024 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور بلوچ قومی آزادی و خودمختاری کی بحالی کو بلوچ قوم کی اجتماعی خوشحالی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

بی ایل اے کے بیان کے مطابق ان کا مسلح مزاحمت میں شمولیت کا فیصلہ قومی آزادی کے حوالے سے ان کے سیاسی و نظریاتی ادراک پر مبنی تھا، تنظیمی ہدایت پر انہوں نے ابتدائی طور پر ایک سال تک شہری گوریلا محاذ پر سرگرمیاں جاری رکھیں اور مختلف کارروائیوں میں حصہ لیا۔

“بعد ازاں 2025 میں انہیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے نوشکی، قلات اور سوراب کے محاذوں پر تنظیم کی سرگرمیوں میں حصہ لیا”

تنظیم کے مطابق وہ مختلف کارروائیوں کے علاوہ بی ایل اے کے آپریشن ہیروف دوئم میں بھی ایک متحرک رکن کے طور پر شریک تھے، نعمان جمالدینی نے شہری محاذ سے پہاڑی محاذ تک تنظیمی ذمہ داریاں انجام دیں اور شہید ہونے تک تنظیم سے وابستہ رہے، وہ 24 اکتوبر 2026 کو سوراب کے علاقے گدر میں ایک جھڑپ کے دوران جانبحق ہوئے۔

بی ایل اے کے جاری کردہ پروفائل کے مطابق پرویز احمد عرف قادر کا تعلق خاران کے علاقے ہلمرگ سے تھا، انہوں نے 2026 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور بلوچ قومی آزادی و خودمختاری کے حصول کو اپنی جدوجہد کا مقصد قرار دیا تھا۔

تنظیم کے بیان کے مطابق انہوں نے بلوچ قوم کو اپنی سرزمین پر درپیش حالات اور آزادی کی ضرورت کے ادراک کے تحت مسلح مزاحمت میں شمولیت کا فیصلہ کیا، تنظیم میں شمولیت کے بعد انہیں تربیتی کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے بنیادی تربیت حاصل کی، تربیت مکمل ہونے کے بعد انہیں سوراب کے محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے مختلف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ پرویز احمد مختلف کارروائیوں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شریک رہے اور تنظیمی سرگرمیوں کے دوران انہیں مخالف فورسز کے خلاف کارروائیوں میں پیش پیش رہنے والے رکن کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق آخری دنوں تک وہ اسی مقصد سے وابستہ رہے جس کے تحت انہوں نے تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔

تنظیم کے مطابق فرید بلوچ عرف آبیان کا تعلق کوئٹہ کے علاقے بھوسہ منڈی سے تھا، انہوں نے 2026 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور بلوچ قومی آزادی و ریاست کی آزاد حیثیت کی بحالی کو اپنی جدوجہد کا مقصد بنایا۔

بی ایل اے کے بیان کے مطابق انہیں اس بات کا ادراک تھا کہ قومی آزادی کے بغیر بلوچ قوم کے مسائل کا حل ممکن نہیں، جس کے باعث انہوں نے مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، تنظیمی ہدایت پر انہیں قلات کے محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے بنیادی فوجی تربیتی کورسز مکمل کیے، تربیت کے بعد وہ قلات کے محاذ پر سرگرم ہوئے اور تنظیم کے مطابق مختلف کارروائیوں میں فرنٹ لائن پر رہ کر حصہ لیتے رہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فرید بلوچ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تنظیم کی مختلف جنگی حکمت عملیوں اور سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا، ان میں انقلابی جذبہ اور مخالف فورسز کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے کا حوصلہ موجود تھا اور وہ آخری وقت تک تنظیمی سرگرمیوں سے وابستہ رہے، وہ 20 اکتوبر 2026 کو قلات کے علاقے رودینجو میں ایک جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔

بی ایل اے کے مطابق شاہ زیب بلوچ عرف احسان کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب مِل سے تھا، 2026 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور تنظیم کے بیان کے مطابق بلوچ قومی آزادی کے مقصد کے تحت مسلح مزاحمت کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ بلوچ قوم کو درپیش حالات اور قومی آزادی کی ضرورت کے حوالے سے ایک واضح نظریاتی سوچ رکھتے تھے اور اسی سوچ کے تحت انہوں نے تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ شمولیت کے بعد انہیں تربیتی کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے بنیادی فوجی تربیت حاصل کی اور جسمانی و ذہنی تیاری مکمل کی، تربیت کے اختتام پر تنظیمی ہدایت پر انہیں قلات کے محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے مختلف کارروائیوں میں حصہ لیا۔

بی ایل اے کے مطابق شاہ زیب بلوچ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تنظیم کی مختلف جنگی سرگرمیوں میں شرکت کی اور انہیں عملی کارروائیوں کا تجربہ بھی حاصل تھا، مخالف فورسز کے خلاف سرگرمیوں میں شریک رہے اور 20 اکتوبر 2026 کو رودینجو، قلات میں ایک جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔

تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق منیر احمد عرف نورا کا تعلق قلات کے علاقے گزگ، مشہاخل سے تھا، دسمبر 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور تنظیم کے مطابق وہ انقلابی سیاسی فکر اور قومی آزادی کے نظریے سے وابستہ تھے، شمولیت کے بعد انہیں تربیتی کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے بنیادی تربیتی کورسز مکمل کیے، تربیت کے اختتام پر انہیں قلات کے محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں وہ تنظیمی سرگرمیوں میں فعال رہے۔

بی ایل اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ منیر احمد تنظیم کی جانب سے دی جانے والی ذمہ داریوں کو انجام دیتے رہے اور قلات کے محاذ پر مختلف تنظیمی سرگرمیوں اور مسلح کارروائیوں میں حصہ لیا، وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اسی مقصد سے وابستہ رہے جس کے تحت انہوں نے تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی وہ 20 اکتوبر 2026 کو رودینجو، قلات میں ایک جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔

بی ایل اے نے اپنے بیان میں چھوں جانبحق ارکان کو بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں قربانی دینے والے ساتھی قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔