ڈاکٹر حکیم لہڑی: انتخابی حکومت پر یقین سے آزادی کے مطالبے تک – ٹی بی پی رپورٹ

1

ڈاکٹر حکیم لہڑی: انتخابی حکومت پر یقین سے آزادی کے مطالبے تک

ٹی بی پی رپورٹ

تحریر: فرید بلوچ

8 اکتوبر کو ڈاکٹر حکیم لہڑی کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ان کے تابوت کو بلوچستان کے سُرخ، سبز اور نیلے پرچم سے ڈھانپا گیا، جبکہ سیاسی رہنما، کارکنان اور رشتہ دار ان کی آخری رسومات میں شریک ہوئے، اس طرح پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان کے سیاسی سفر کا اختتام ہوا۔

ڈاکٹر حکیم لہڑی 7 اکتوبر کو کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے، ایک وقت تھا جب وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ پارلیمان کے ذریعے سیاسی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ وہ نیشنل عوامی پارٹی “نیپ” سے وابستہ رہے، جس نے 1972 میں سردار عطا اللہ مینگل کی قیادت میں بلوچستان کی پہلی منتخب قوم پرست حکومت قائم کی تھی، انہوں نے کئی برس بعد اپنی سیاسی سوچ کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا۔

میں پہلے اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ ہم منتخب پارلیمانی حکومت کے ذریعے حالات تبدیل کرسکتے ہیں، تاہم زندگی کے آخری برسوں تک ڈاکٹر حکیم لہڑی اس یقین سے دستبردار ہوچکے تھے اور بلوچستان کی مکمل آزادی کے کھلے حامی بن گئے تھے۔

ان کی سیاسی سوچ میں یہ تبدیلی کئی دہائیوں پر محیط اس کشمکش کے دوران آئی جو بلوچ قوم پرست تحریکوں اور پاکستانی ریاست کے درمیان جاری رہی، اس کا آغاز 1973 میں سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کی برطرفی اور اس کے بعد ہونے والے تصادم سے ہوا۔

بلوچ اور پشتون سیاسی شخصیات، کارکنان اور لواحقین، ڈاکٹر حکیم لہڑی کی آخری رسومات کے دوران ان کے تابوت کے پاس جمع ہیں، جسے بلوچستان کے پرچم سے ڈھانپا گیا ہے۔ (ٹی بی پی)

ایک سیاسی کارکن کی تشکیل

ڈاکٹر حکیم لہڑی کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا، جب طلبہ کارکن فوجی حکمران ایوب خان اور ون یونٹ نظام کے خلاف منظم ہورہے تھے، ون یونٹ نظام کے تحت پاکستان کے مغربی علاقوں کو ایک انتظامی اکائی میں ضم کردیا گیا تھا۔

وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن “بی ایس او” کے بانی ارکان میں شامل تھے اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کے قریبی ساتھی بن گئے تھے، جن سے ان کی واقفیت 1966 سے تھی۔

طلبہ تحریک کے باعث ان کا حکام سے ٹکراؤ بھی ہوا، انڈیپنڈنٹ اردو کو 2022 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر حکیم لہڑی نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایوب خان کے خلاف احتجاج کے دوران ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کو کراچی میں گرفتار کیا گیا، جس کے بعد انہیں بلوچستان کی مچھ جیل منتقل کردیا گیا۔

لہڑی کے مطابق وہ اپنے دوست کے لیے جیل میں ضروری سامان لے کر جاتے تھے، تاہم حکام انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

سیاسی تعلیم بھی ان کی نسل کی تربیت کا ایک اہم حصہ تھی، بعدازاں انہوں نے یاد کیا کہ اس دور میں سیاست، تاریخ اور ثقافت پر باقاعدگی سے لیکچرز ہوا کرتے تھے۔

بعد میں ڈاکٹر حکیم لہڑی نیشنل عوامی پارٹی “نیپ” سے وابستہ ہوگئے، اس جماعت میں بلوچ اور پشتون قوم پرست رہنما شامل تھے اور یہ صوبائی خودمختاری اور قومی حقوق کے زیادہ وسیع اعتراف کی حامی تھی۔

نیپ کے دور کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ ایک پشتون دوست کے ساتھ ایک ہی ہاسٹل کے کمرے میں رہتے تھے، دونوں بائیں بازو کے مفکرین کی تحریریں پڑھتے اور مواد کا اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرتے تھے۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا وہ اس کا پشتو میں ترجمہ کرتا تھا، جبکہ میں اسے بلوچی میں منتقل کرتا تھا اور وہ بہت شاندار وقت تھا۔

1970 میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد نیپ بلوچستان کی ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری، ڈاکٹر حکیم لہڑی سردار عطا اللہ مینگل کے قریب ہوگئے اور ان کی حکومت کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔

حکومت سے پہاڑوں تک

فروری 1973 میں بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد، اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے سردار عطا اللہ مینگل کی قیادت میں قائم حکومت برطرف کردی۔

اس وقت نیپ کے رکن ڈاکٹر حکیم لہڑی بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اس اقدام کے ردعمل میں پاکستانی فورسز کے خلاف مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

بی بی سی اردو کو 2021 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی برطرفی کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوں پر چلے گئے اور بلوچ جنگجوؤں میں شامل ہوگئے۔

بعدازاں انہوں نے چمالانگ کی لڑائی میں حصہ لیا جو 1973 سے 1977 تک جاری رہنے والے تصادم کی اہم لڑائیوں میں سے ایک تھی اس دوران پاکستانی فورسز نے بلوچ جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کیں۔

ڈاکٹر حکیم لہڑی نے یاد کرتے ہوئے کہا میں چمالانگ میں موجود تھا جب پاکستانی فوج کے ایک ڈویژن نے علاقے پر بمباری شروع کردی, انہوں نے جن ہیلی کاپٹروں کا ذکر کیا، وہ امریکی ساختہ کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹر تھے جن کے دونوں اطراف میں بندوقیں نصب تھیں۔

انہوں نے کہا جب ہم چمالانگ میں تھے تو امریکی ہیلی کاپٹر سارا دن ہمارے سروں پر منڈلاتے رہتے تھے۔

ڈاکٹر حکیم لہڑی کے اندازے کے مطابق چند ہزار بلوچ جنگجوؤں کے مقابلے میں تقریباً 17 ہزار پاکستانی فوجی تعینات کیے گئے تھے۔

“انہوں نے کہا یہ یک طرفہ جنگ تھی”

1978 میں افغانستان میں موجود بلوچ خاندان؛ یہ وہ لوگ تھے جو اس تنازعے کے دوران ہونے والے فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہو گئے تھے، اور اسی تنازعے میں ڈاکٹر حکیم لہڑی نے مسلح مزاحمت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ (میر محمد علی تالپور کا ذاتی تصویری آرکائیو)

منظم سیاست میں واپسی

1970 کی دہائی کے تصادم کے بعد ڈاکٹر حکیم لہڑی دوبارہ منظم سیاست میں واپس آگئے اور بزرگ قوم پرست رہنما میر غوث بخش بزنجو کی قائم کردہ پاکستان نیشنل پارٹی (پی این پی) میں شامل ہوگئے۔

وہ نیپ کے ان سابق کارکنوں میں شامل تھے جو اس جماعت کی قیادت کا حصہ بنے۔

قوم پرست سیاست میں بعدازاں ہونے والی تقسیم اور انضمام کے باوجود ان کی سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں، 1996 میں پاکستان نیشنل پارٹی “لہڑی گروپ” کے نام سے معروف ایک دھڑے نے دو دیگر قوم پرست گروہوں کے ساتھ انضمام کیا، جس کے نتیجے میں بلوچستان نیشنل پارٹی “بی این پی” قائم ہوئی۔

بائیں سے: نواب خیر بخش مری، ڈاکٹر حکیم لہڑی، بابو عبدالرحمن کرد، اور سردار عطاء اللہ مینگل 1992 میں کوئٹہ میں۔ (آرکائیو)

بعدازاں ڈاکٹر حکیم لہڑی نے 2002 کے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل کانگریس “بی این سی” کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیا۔

اس کے بعد وہ بی این سی کے صدر بھی رہے اور جنوری 2005 میں کوئٹہ میں منعقدہ ایک گول میز کانفرنس میں جماعت کی نمائندگی کی۔ اس اجلاس میں قوم پرست اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے پاکستانی ریاست پر زور دیا کہ بلوچستان کے سیاسی شکووں اور تحفظات کو مذاکرات کے ذریعے دور کیا جائے اور فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت کی۔

اپنی الگ ریاست کا تصور

اگست 2006 میں بزرگ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی پاکستانی فوجی کارروائی میں مارے گئے، جس کے بعد ڈاکٹر حکیم لہڑی نے کوئٹہ میں ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

اگلے ماہ انہوں نے قلات میں خان آف قلات میر سلیمان داؤد احمدزئی کی جانب سے بلائے گئے ایک بڑے بلوچی جرگے سے خطاب کیا۔

جرگے نے سابق ریاستِ قلات سے متعلق تاریخی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو عالمی عدالتِ انصاف “آئی سی جے” میں اٹھانے کے منصوبے کا اعلان کیا، اس کے علاوہ فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور بلوچستان کے وسائل پر زیادہ اختیار دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

نومبر 2008 میں ڈاکٹر حکیم لہڑی نے کوئٹہ کے نیو کاہان کیمپ میں نوابزادہ بالاچ مری کی پہلی برسی کے موقع پر منعقدہ عوامی جلسے سے بھی خطاب کیا، مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستانی اسمبلیاں بلوچ عوام کو درپیش مسائل حل نہیں کرسکتیں، جبکہ انہوں نے مزاحمتی تحریک کی حمایت پر زور دیا۔

مقررین نے اس موقع پر کہا مسلح مزاحمت ہی ہمارا مقصد حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے، 2009 تک ڈاکٹر حکیم لہڑی بلوچ ریپبلکن پارٹی “بی آر پی” کے سینئر رہنما بن چکے تھے، جو بلوچستان کی آزادی کی حامی تھی۔

اسی سال پاکستانی حکومت نے بلوچستان کے مسائل اور محرومیوں کے ازالے کے لیے سیاسی و معاشی اقدامات پر مشتمل آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کا اعلان کیا، تاہم ڈاکٹر حکیم لہڑی نے اس اقدام کو مسترد کردیا۔

انہوں نے اس موقع پر کہا ہم اب بدعنوان پاکستانی اشرافیہ کے ساتھ رہنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ “ہم آزادی چاہتے ہیں”

سال 2011 میں سوئس اخبار لہ تاں کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر حکیم لہڑی نے آزاد بلوچستان کے قیام کے امکان پر بات کرتے ہوئے سوویت یونین اور یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کی مثالیں پیش کیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا، یوگوسلاویہ بھی ٹوٹ گیا۔ تو پھر ایک دن ہمارا اپنا ملک کیوں نہیں ہوسکتا؟

ڈاکٹر حکیم لہڑی، 2011 میں کوئٹہ میں ’لے ٹام‘ (Le Temps) کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران۔ (پال مینیسن/لے ٹام)

پاکستان کے 2013 کے عام انتخابات سے قبل پارلیمانی سیاست سے ان کی مخالفت مزید واضح ہوگئی، اس وقت بعض قوم پرست جماعتوں نے گزشتہ انتخابات کے بائیکاٹ کے بعد دوبارہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم ڈاکٹر حکیم لہڑی نے قوم پرست جماعتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں، ان کا مؤقف تھا کہ انتخابات بلوچ قومی مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔

الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہماری جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی بلوچستان کی آزادی پر یقین رکھتی ہے بلوچ عوام آزاد ہونا چاہتے ہیں اور ایک آزاد ملک چاہتے ہیں، کیونکہ ہم یہاں غلام ہیں۔

انہوں نے مزید کہا انتخابات ہمارا مسئلہ نہیں ہیں، یہ پاکستان کا مسئلہ ہے ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان یہاں سے چلا جائے اور بلوچوں کو اختیار اور آزادی دے۔

آنے والی نسلیں

اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بھی ڈاکٹر حکیم لہڑی آزادی کے مطالبے پر قائم رہے، جبکہ ان کی سیاسی زندگی کے آغاز میں ان کے ساتھ موجود قوم پرست رہنماؤں کی نسل بتدریج رخصت ہوتی گئی۔

ستمبر 2022 میں سردار عطا اللہ مینگل کی وفات کے ایک سال بعد اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کے انتقال کے چند ماہ بعد ڈاکٹر حکیم لہڑی سے پوچھا گیا کہ آیا بزرگ قوم پرست رہنماؤں کی وفات سے قیادت کا خلا پیدا ہوگیا ہے؟

انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا زندہ قومیں اپنے رہنما خود پیدا کرتی ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ قوم پرست سیاست گہری تقسیم کا شکار ہوچکی ہے، تاہم اس امید کا اظہار کیا کہ بدلتے ہوئے حالات بالآخر مختلف سیاسی قوتوں کو دوبارہ متحد کردیں گے۔

اپریل 2024 میں کراچی یونیورسٹی خودکش حملے کی دوسری برسی کے موقع پر ایک تقریر میں ڈاکٹر حکیم لہڑی نے بلوچ مزاحمت کی مختلف نسلوں کا ذکر کیا، انہوں نے 1839 میں خان محراب خان کی برطانوی افواج کے ساتھ مزاحمت، آغا عبدالکریم خان اور نواب نوروز خان کی جدوجہد، اور میر غوث بخش بزنجو اور میر گل خان نصیر کی سیاسی مہمات اور قید کا حوالہ دیا۔

انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی فوجی کارروائیوں اور نواب اکبر خان بگٹی، بالاچ مری اور دیگر بلوچ کارکنوں کی ہلاکتوں کو بھی یاد کیا۔

موجودہ مسلح تحریک کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر حکیم لہڑی نے شاری بلوچ کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے اپریل 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں تین چینی شہری اور ایک پاکستانی ڈرائیور مارے گئے تھے، انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” کے ان جنگجوؤں کی بھی تعریف کی جو 2024 کے اوائل میں تین بڑی کارروائیوں میں شریک تھے۔

ڈاکٹر حکیم لہڑی نے ایک مرتبہ 1970 کی دہائی میں چمالانگ کے مقام پر بلوچ جنگجوؤں کی تعداد کم ہونے کے باوجود پاکستانی ہیلی کاپٹروں کے ان کے سروں پر منڈلانے کا ذکر کیا تھا اور اس لڑائی کو ’’یک طرفہ جنگ‘‘ قرار دیا تھا۔

تقریباً پانچ دہائیوں بعد وہ نئی نسل کی تعریف کررہے تھے، جس نے آٹھ ہفتوں کے اندر مچھ اور کولپور میں آپریشن درۂ بولان شروع کیا، گوادر پورٹ اتھارٹی کے سخت حفاظتی انتظامات والے کمپلیکس پر حملہ کیا اور تربت میں پی این ایس صدیق کو نشانہ بنایا، جو پاکستان کا دوسرا بڑا بحری ہوائی اڈہ ہے۔

انہوں نے کہا ہمارے بزرگوں کا لگایا ہوا درخت اب سایہ دے رہا ہے اور پھل لا رہا ہے آج بلوچستان ایک آتش فشاں بن چکا ہے۔

“ریاست نے کہا تھا کہ وہ بلوچوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، لیکن آتش فشاں میں آہنی ہاتھ بھی پگھل جائیں گے۔”