کریک ڈاؤن کے سائے میں: بی ایس او آزاد کے نئے چیئرمین سے گفتگو — ٹی بی پی انٹرویو
مرتب: یاران دیار
بلوچستان میں چند ہی سیاسی نام ایسے ہیں جو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) جتنی پائیدار اہمیت رکھتے ہوں۔
1967 میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے، جسے بلوچ قوم پرست پاکستان کی جانب سے 1948 میں بلوچستان کے جبری الحاق کے انیس برس بعد وجود میں آنے والی تحریک قرار دیتے ہیں، وقت کے ساتھ صرف ایک طلبہ تنظیم سے کہیں زیادہ حیثیت اختیار کرلی۔ یہ ایک سیاسی نرسری بنی، ایک انقلابی درسگاہ، ایک ثقافتی تحریک، اور بہت سے بلوچ قوم پرستوں کے نزدیک جدید بلوچ سیاست کی ریڑھ کی ہڈی۔
اس کا اثر آہستہ مگر گہرائی کے ساتھ بلوچ سماج میں پھیلتا گیا۔ دور دراز اضلاع اور تحصیلوں کے اسکولوں سے لے کر تربت اور خضدار کے کالجوں تک، کوئٹہ اور کراچی کی یونیورسٹی ہاسٹلوں سے لے کر سیاسی حلقوں تک، نسل در نسل طلبہ اس کے سرکلز سے گزرتے رہے۔ کچھ ادیب اور دانشور بنے۔ کچھ سیاستدان۔ کچھ مارے گئے۔ کچھ لاپتہ ہوئے۔ اور کچھ نے ہتھیار اٹھا لیے۔
بلوچ سیاسی حلقوں میں بی ایس او نے بالآخر وہ مقام حاصل کیا جس کا دعویٰ خطے کی شاید ہی کوئی دوسری تنظیم یا جماعت کرسکی ہو: “مَدر آرگنائزیشن”۔
لیکن خود بی ایس او کی تاریخ مسلسل تقسیم، ہنگامہ خیزی اور بلوچ سیاست کے وسیع تر انتشار سے گہری طرح متاثر رہی۔
وقت کے ساتھ نظریاتی اختلافات شدت اختیار کرتے گئے، خاص طور پر پارلیمانی سیاست، مسلح جدوجہد اور مکمل آزادی کے سوال پر۔ نتیجتاً تنظیم کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ مگر ان دھڑوں میں ایک ایسا بھی ابھرا جس نے غیر مصالحتی سیاست کی شہرت حاصل کی۔
یہی دھڑا بعد میں بی ایس او آزاد کہلایا۔
“آزاد” محض ایک لاحقہ نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی مؤقف تھا۔ ان گروہوں کے برعکس جو پاکستان کے پارلیمانی ڈھانچے کے اندر سیاست کرنے پر آمادہ تھے، بی ایس او آزاد نے کھل کر ایک آزاد بلوچستان کے تصور سے خود کو وابستہ کیا۔
وسیع پیمانے پر یہی روایت بیان کی جاتی ہے کہ 2000 کی ابتدائی دہائی میں اس دھڑے کو اس کے پہلے چیئرمین ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے دور میں منظم شکل دی گئی۔ بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کے گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر اللہ نذر آج بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی قیادت کرتے ہیں، جو پاکستان میں ایک کالعدم مسلح تنظیم قرار دی جاتی ہے۔ متعدد بلوچ قوم پرست بیانیوں کے مطابق، ڈاکٹر اللہ نذر کے مسلح جدوجہد کی طرف جانے کا سفر ان کی بی ایس او آزاد کی چیئرمین شپ کے دوران جبری گمشدگی اور بعد ازاں کوئٹہ کی ہدہ جیل میں قید سے جڑا ہوا تھا، جو مجموعی طور پر تقریباً دو برس پر محیط رہا۔ رہائی کے بعد، روایت کے مطابق، وہ “پہاڑوں کا رخ کر گئے” اور ریاست کے خلاف ایک نئے محاذ پر مسلح مزاحمت شروع کردی۔
وہ واحد نمایاں طالبعلم نہیں تھے جنہوں نے یہ راستہ اختیار کیا۔ بی ایس او آزاد کے دوسرے چیئرمین بشیر زیب بلوچ آج بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ ہیں، جسے نہ صرف بلوچستان یا پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی طاقتور ترین شورش پسند تنظیموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کارکنوں کے مطابق ان کا دور بھی تنظیم کے خلاف شدید کریک ڈاؤن سے عبارت تھا۔ ریکارڈز، رپورٹس اور مستقل الزامات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس عرصے میں متعدد ساتھی جبری لاپتہ کیے گئے، کچھ کی مسخ شدہ لاشیں بعد میں برآمد ہوئیں جبکہ کئی آج تک لاپتہ ہیں، جن میں اُس وقت کے وائس چیئرمین زاکر مجید بھی شامل ہیں، جنہیں 2009 سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار قرار دیا جاتا ہے۔
پھر تیسرے چیئرمین آئے: زاہد کرد بلوچ۔ بی ایس او کے طلبہ انہیں ایک بہادر، محنتی اور منفرد شخصیت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ وہ بھی 2014 سے لاپتہ ہیں۔ جیسا کہ کریمہ بلوچ نے عوامی طور پر الزام عائد کیا تھا، انہیں “پاکستانی سکیورٹی فورسز، بشمول فرنٹیئر کور (ایف سی) اور خفیہ اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔”
اور پھر کریمہ بلوچ کا ذکر سرسری انداز میں ممکن نہیں۔
زاہد کرد بلوچ کی گمشدگی کے بعد وہ بی ایس او آزاد کی چیئرپرسن بنیں، اور یوں بی ایس او کی تاریخ میں اس منصب تک پہنچنے والی پہلی خاتون قرار پائیں۔ 2016 میں بی بی سی نے انہیں اپنی “100 ویمن” فہرست میں شامل کیا۔ بلوچ قوم پرست حلقوں میں “بانُک” کے لقب سے جانی جانے والی کریمہ نے 2015 میں اپنی جان کے خطرات کے پیش نظر کینیڈا میں پناہ لی، جہاں وہ مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی جانب سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف سرگرم آواز بنی رہیں۔ 22 دسمبر 2020 کو ان کی لاش ٹورنٹو کے ساحلی علاقے سے برآمد ہوئی۔ ان کے اہل خانہ، متعدد سیاستدانوں، کارکنوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے ان حالات کو مشکوک قرار دیتے ہوئے پاکستانی ریاست کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
پاکستان کی جانب سے بی ایس او آزاد پر باضابطہ پابندی 2013 میں عائد کی گئی، مگر کارکنوں کا اصرار ہے کہ کریک ڈاؤن اس سے کم از کم پانچ سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔ قیادت یا تو لاپتہ ہوچکی تھی، یا مار دی گئی تھی، یا زیرِ زمین چلی گئی تھی۔ پابندی کے بعد بی ایس او سمیت دیگر قوم پرست تنظیموں کی ظاہری سیاسی ساخت نمایاں طور پر تبدیل ہوگئی: اجتماعات، سیمینارز اور خاص طور پر وہ اہم کونسل سیشن، جن میں نئے چیئرمین منتخب کیے جاتے تھے، خفیہ انداز میں ہونے لگے۔
یہی پس منظر ہمیں نئے منتخب چیئرمین تک لے آتا ہے، کیونکہ آج بی ایس او آزاد کیا ہے، اس سوال کو ان دباؤوں سے الگ نہیں کیا جاسکتا جن سے وہ گزری ہے۔ اور اس کے باوجود، برسوں کی گرفتاریاں، پابندیاں اور جبری گمشدگیاں بھی بی ایس او آزاد کو ختم نہیں کرسکیں۔
بی ایس او آزاد کے نئے چیئرمین زرّین بلوچ
حال ہی میں تنظیم نے اپنا 24 واں کونسل سیشن منعقد کیا، جس میں زرّین بلوچ کو نیا چیئرمین منتخب کیا گیا۔
دی بلوچستان پوسٹ سے گفتگو میں زرّین نے محض تنظیمی سیاست پر بات نہیں کی، بلکہ خوف، نظریات، جبر، تنقید، انقلابی نظم و ضبط اور اس تحریک کی نفسیات پر بھی گفتگو کی جو برسوں سے شدید دباؤ کے ماحول میں کام کر رہی ہے۔
وہ اپنے سیاسی سفر کا آغاز اسکول کے زمانے سے جوڑتے ہیں۔
“میں نویں جماعت میں تھا جب پہلی بار سیاسی شعور پیدا ہوا،” انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا۔
ان کے مطابق وہ سال بلوچ سیاسی منظرنامے میں ایک گہری تبدیلی کے سال تھے۔
ایک طرف بلوچ نوجوانوں میں قوم پرستانہ تحریک پھیل رہی تھی، جبکہ دوسری جانب، ان کے بقول، فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیاں، دیہی علاقوں میں بمباری، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں اور سیاسی شعور کو کچلنے کی منظم کوششیں شدت اختیار کر رہی تھیں۔
“مقصد خوف پیدا کرنا تھا،” انہوں نے کہا۔ “لوگوں کو جدوجہد چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔”
مگر ان کے مطابق، جبر خود سیاسی شعور کا سبب بن گیا۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ اسکول کے زمانے میں ان کی ملاقات بی ایس او کے کارکنوں سے ہوئی، ایسے وقت میں جب تنظیم نظریاتی تربیت پر خاص توجہ دے رہی تھی۔
“وہ ہمیں بلوچ تاریخ، قومی غلامی، انقلابی فکر اور شہداء کی قربانیوں کے بارے میں سکھاتے تھے،” انہوں نے کہا۔
ان کی گفتگو میں بی ایس او ایک روایتی طلبہ تنظیم سے زیادہ ایک فکری نیٹ ورک دکھائی دیتی ہے۔
سیاسی لٹریچر، ان کے بقول، “سیل سسٹم” کے ذریعے گردش کرتا تھا۔ پمفلٹ اور رسائل خاموشی سے طلبہ، اسکولوں اور جلسوں کے درمیان منتقل کیے جاتے تھے۔ 2013 کی پابندی کے بعد بھی، وہ کہتے ہیں، نظریاتی ڈھانچہ برقرار رہا۔
“پابندی سیاسی تربیت کو نہیں روک سکی،” انہوں نے کہا۔
ایک واقعہ نے ان پر خاص طور پر گہرا اثر ڈالا: سابق جنرل سیکریٹری رضا جہانگیر کا قتل۔
“رضا جان کی شہادت نے ہم میں سے بہت سوں کو بدل دیا،” انہوں نے دھیمی آواز میں کہا۔ “مجھے بھی۔”
وہ یاد کرتے ہیں کہ قتل کے بعد ہونے والے احتجاجوں میں انہوں نے حصہ لیا اور آہستہ آہستہ تنظیم کے قریب آتے گئے۔
ایک اور موڑ 2013 کے آواران زلزلے کے بعد آیا۔
بی ایس او کے کارکنوں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، امداد جمع کی اور متاثرین تک پہنچائی۔
زرّین کے لیے یہ تجربہ سیاست کو جذباتی وابستگی سے نظریاتی وابستگی میں بدلنے والا ثابت ہوا۔
“ان دنوں مسلسل ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے سے میری تحریک کے ساتھ وابستگی مضبوط ہوئی،” انہوں نے کہا۔
بالآخر زاہد بلوچ کی چیئرمین شپ کے دوران انہوں نے باقاعدہ طور پر بی ایس او میں شمولیت اختیار کی۔
“تب سے،” انہوں نے کہا، “تنظیم نے میری زندگی کی رہنمائی کی ہے۔”
باہر سے دیکھنے والوں کے لیے شاید سب سے حیران کن سوال یہی ہے کہ ایک ایسی تنظیم جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے کالعدم ہے، آخر کیسے برقرار ہے۔
زرّین اس خیال کو رد کرتے ہیں کہ تنظیم محض ایک “انڈر گراؤنڈ” ڈھانچہ بن کر رہ گئی ہے۔
“لوگ انڈر گراؤنڈ کا لفظ اس طرح استعمال کرتے ہیں جیسے تنظیم سماج سے غائب ہوگئی ہو،” انہوں نے کہا۔ “لیکن بی ایس او آج بھی عوام میں ہے۔ آج بھی طلبہ کے درمیان موجود ہے۔”
کچھ حوالوں سے، ان کے مطابق، جبر نے تنظیم کو مزید منظم بنایا۔
ان کا کہنا ہے کہ برسوں کے کریک ڈاؤن نے بی ایس او آزاد کو اس طرف دھکیلا جسے وہ “سیاسی بلوغت” کہتے ہیں۔
تنظیم نے، ان کے بقول، اپنی ناکامیوں، دھڑے بندیوں اور اندرونی رقابتوں کا جائزہ لیا۔
“ہمیں اپنی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑا،” انہوں نے کہا۔ “بقا کے لیے یہ ضروری تھا۔”
بی ایس او کے کونسل سیشنوں کی تاریخ دھڑوں، اختلافات اور شخصی تنازعات سے بھری پڑی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بلوچ طلبہ سیاست میں بار بار تقسیم کیوں جنم لیتی رہی، تو زرّین نے غیرمعمولی صاف گوئی سے جواب دیا۔
“ہماری غلطیوں کو چھپانا نہیں چاہیے،” انہوں نے کہا۔
پھر داغستانی ادیب رسول حمزاتوف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“اگر تم ماضی پر گولی چلاؤ گے، تو مستقبل تم پر توپ سے حملہ کرے گا۔”
ان کے مطابق بلوچ سیاست کے گہرے مسائل میں سے ایک “شیلٹر کلچر” رہا ہے — ایسی سیاست جو اجتماعی نظم و ضبط کے بجائے شخصیات، سرپرستی اور ذاتی خواہشات کے گرد گھومتی ہے۔
“جب لوگوں کو وہ عہدہ یا جگہ نہیں ملتی جو وہ چاہتے تھے، تو مایوسی شروع ہوجاتی ہے،” انہوں نے کہا۔
اور یہی مایوسی، ان کے مطابق، اکثر دھڑے بندی میں بدل جاتی ہے۔
برسوں سے ناقدین تنظیم پر جذباتی سیاست اور اختلاف رائے برداشت نہ کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
زرّین اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
“اگر بی ایس او تنقید برداشت نہ کرسکتی تو بہت پہلے ختم ہوچکی ہوتی،” انہوں نے کہا۔
بلکہ ان کے مطابق، تنقید انقلابی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
“تنقید کمزوری نہیں،” انہوں نے کہا۔ “تنقید کے بغیر تنظیمیں کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔”
تاہم ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ تحریک اب بھی سطحی اور نمائشی تنقید کا شکار ہے۔
“بے معنی نعرے بازی اور غیر سنجیدہ مباحث اکثر غالب رہتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
ان کے نزدیک انقلابی سیاست سنجیدگی، نظم و ضبط اور اس چیز کا تقاضا کرتی ہے جسے وہ بار بار “سائنسی” نقطۂ نظر کہتے ہیں۔
یہ زبان — سائنسی سیاست، انقلابی نظم و ضبط اور نظریاتی بلوغت — ان کی پوری گفتگو میں مسلسل ابھرتی رہتی ہے۔
یہ بی ایس او آزاد کی اس وسیع فکری روایت کی عکاسی کرتی ہے جو نوآبادیاتی مخالف ادب، انقلابی نظریات اور قوم پرستانہ سیاسی تربیت سے گہرے طور پر متاثر ہے۔
گفتگو کے کئی مقامات پر زرّین اس سوال کی طرف لوٹتے رہے کہ آج بلوچ نوجوانوں کو سب سے بڑا خطرہ کیا درپیش ہے: محض جسمانی جبر نہیں، بلکہ نظریاتی جذب و تحلیل۔
ان کے مطابق، جدوجہد اب صرف گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں یا فوجی آپریشنز تک محدود نہیں رہی۔ اس سے بھی بڑا خطرہ وہ ہے جسے وہ ریاستی تعلیمی ڈھانچے، بیوروکریسی اور ثقافتی انجینئرنگ کے ذریعے بلوچ سماج کو بتدریج غیر سیاسی بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بی ایس او آزاد خود کو بلوچستان میں موجود دیگر طلبہ تنظیموں سے کس طرح مختلف سمجھتی ہے، تو زرّین نے جواب محض تنظیمی نہیں بلکہ تہذیبی انداز میں دیا۔
ان کے مطابق، بی ایس او آزاد خود کو ایک وسیع تر “ڈی کالونائزیشن” کے عمل کا حصہ سمجھتی ہے، ایسا عمل جس کا مقصد بلوچ نوجوانوں کے فکری، ثقافتی اور سیاسی شعور کی ازسرِ نو تشکیل ہے۔
انہوں نے تنظیم کو وسیع بلوچ قومی تحریک کا “ایک مضبوط ستون” قرار دیا، اور کہا کہ اس کی سیاست روایتی طلبہ سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر “انقلابی تربیت” تک جاتی ہے۔
زرّین کے نزدیک تنظیم کا مقصد صرف متحرک کرنا نہیں، بلکہ تبدیلی پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے طویل گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں میں منشیات کلچر، “بیوروکریٹک ذہنیت”، سیاسی بے حسی، “غلامانہ سوچ” اور سماجی زوال کا مقابلہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق، بی ایس او آزاد یہ کام نظریاتی تعلیم، انقلابی ادب اور سیاسی نظم و ضبط کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
مرحوم بلوچ دانشور صبا دشتیاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام “دیمک کی طرح انسانی صلاحیتوں کو کھاتا ہے۔”
اس کے جواب میں، ان کے مطابق، بی ایس او کا کردار ایک نسل کی “ازسرِ نو تعلیم” ہے۔
“وہ اطاعت، انحصار اور فرمانبرداری سکھاتے ہیں،” انہوں نے ریاستی نظام کے بارے میں کہا۔ “ہماری ذمہ داری ایسے سیاسی باشعور نوجوان پیدا کرنا ہے جو تاریخ، مزاحمت اور اپنی قومی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوں۔”
گفتگو کے دوران وہ بار بار “سائنسی سیاست”، “تاریخی تشکیل” اور “اجتماعی انقلابی فریضے” جیسی اصطلاحات استعمال کرتے رہے — وہ اصطلاحات جو بی ایس او آزاد کی نظریاتی لغت میں گہرائی سے پیوست ہیں۔
ان کے نزدیک تنظیم کی بنیادی شناخت صرف بلوچ آزادی کی حمایت نہیں، بلکہ نظریاتی ہم آہنگی پر اصرار ہے۔
“ہماری قومی المیہ یہ ہوتا اگر بی ایس او خود مکمل طور پر ذاتی مفادات اور دھڑے بندیوں میں بٹ جاتی،” انہوں نے کہا۔
اس کے برعکس، زرّین کے مطابق، بی ایس او آزاد اُس چیز کی نمائندگی کرتی ہے جسے وہ “انقلابی بنیادوں پر وحدت” قرار دیتے ہیں۔
کسی تنظیم کا نام لیے بغیر، زرّین نے پارلیمانی جماعتوں سے وابستہ قوم پرست طلبہ گروہوں پر سخت تنقید کی۔ ان پر موقع پرستی، مفاہمت اور سیاست کو ذاتی ترقی تک محدود کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے ایسے گروہوں کو “پاکٹ ٓارگنائزیشن” قرار دیا، جو ان کے بقول “ذہنی کرپشن”، “ہجومی سیاست” اور ریاست کے ساتھ مفاہمتی سیاست میں پھنس چکی ہیں۔
ان کے مطابق، سیاسی شعور رکھنے والے بلوچ نوجوانوں میں اب ایسی تنظیموں کی کوئی سنجیدہ ساکھ باقی نہیں رہی۔
ایک موقع پر ان کی تنقید خاصی سخت ہوگئی۔
“یہ نام نہاد گروہ بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو کولڈ اسٹوریج میں جما رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔ “یہ قومی مجرموں کے مترادف ہیں۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ یہ تنظیمیں ایسی سیاسی طور پر غیر فعال نسلیں پیدا کر رہی ہیں جو مزاحمت کی صلاحیت سے محروم ہیں، اور ان کے مطابق نوجوانوں کے شعور کو کمزور کرنا کھلے جبر سے بھی زیادہ ریاستی مفادات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
زرّین کے نزدیک، بی ایس او آزاد کا متبادل ایک ایسی نسل کی تعمیر میں پوشیدہ ہے جو فنی مہارت، نظریاتی نظم و ضبط اور فکری تیاری رکھتی ہو۔
ان کے مطابق، تنظیم اب صرف انقلابی ادب اور سیاسی نظریات پر ہی نہیں بلکہ سائنسی تعلیم، تکنیکی صلاحیت اور جدید تنظیمی طریقہ کار پر بھی بڑھتی ہوئی توجہ دے رہی ہے۔
“ہم صرف ایک نئے سماج کی تعمیر کے لیے سماجی علوم کا مطالعہ نہیں کر رہے،” انہوں نے کہا۔ “ہم ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو مستقبل کی ریاست کی حفاظت بھی کرسکے اور اسے تعمیر بھی کرے۔”
گفتگو پھر تعلیم کے سوال کی طرف مڑ گئی، جو پوری نشست کے دوران ایک مسلسل اور گہرے نظریاتی موضوع کے طور پر موجود رہا۔
انٹرویو لینے والے نے نشاندہی کی کہ ناقدین اکثر بی ایس او آزاد کی سیاست میں ایک واضح تضاد کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ایک طرف تنظیم پاکستان کے تعلیمی نظام پر شدید تنقید کرتی ہے، مگر دوسری طرف اس نے اب تک اپنا کوئی متبادل ادارہ جاتی تعلیمی ڈھانچہ قائم نہیں کیا۔
ان سے پوچھا گیا کہ ایک فعال تعلیمی نظام کے بغیر قومی ترقی آخر کیسے ممکن ہے؟
زرّین نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پورا زاویہ ہی بدل دیا۔
ان کے مطابق، ایک مکمل قومی تعلیمی نظام صرف وسیع تر قومی آزادی کی تحریک اور اس کے اداروں کے ذریعے ہی اجتماعی طور پر وجود میں آسکتا ہے۔ مگر اپنی تنظیمی ساخت کے اندر، وہ کہتے ہیں، بی ایس او پہلے ہی ایک خودمختار تعلیمی ماڈل پر کام کر رہی ہے۔
“بی ایس او خود ایک انقلابی تعلیمی نظام کے طور پر کام کر رہی ہے،” انہوں نے کہا۔
اگرچہ تنظیم کے پاس باقاعدہ اکیڈمیاں یا تعلیمی ادارے موجود نہیں، لیکن ان کے مطابق، بی ایس او نے اندرونی شعبے اور ذیلی شعبے قائم کیے ہیں جو سیاسی تعلیم، ادب، تحقیق اور کارکنوں کی تربیت پر کام کرتے ہیں۔
ان کے مطابق، تنظیم کا ادبی ونگ علمی اور نظریاتی موضوعات پر کتابیں اور رسائل تیار کرتا ہے، جبکہ ورکشاپس اور تربیتی نشستوں کے ذریعے کارکنوں کو “نظریاتی اور عملی دونوں سطحوں پر” تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
زرّین کے مطابق، بی ایس او اب خود کو محض ایک سیاسی تنظیم نہیں بلکہ “ایک مکمل انقلابی نرسری” کے طور پر دیکھنے لگی ہے۔
ان کے نزدیک، موجودہ حالات میں سیاسی تنظیموں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکا ہے۔
تحریک کے ارتقا کے ساتھ، ان کے بقول، “آزادی کے تصور” کا ثقافتی اور فکری سطح پر دفاع ناگزیر ہوچکا ہے۔
ثقافت اور فکری اثر و رسوخ کے حوالے سے ان کی تشویش اس وقت مزید نمایاں ہوگئی جب گفتگو بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے ریاستی یا عسکری سرپرستی میں ہونے والے یوتھ پروگرامز، فیسٹیولز اور سیمینارز کی طرف مڑی۔
زرّین کے نزدیک، یہ پروگرام محض عام عوامی سرگرمیاں نہیں بلکہ کہیں زیادہ منظم نوعیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے انہیں “نوآبادیاتی انتظامیہ” کے آلات قرار دیا، جن کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو جسمانی طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ فکری طور پر بے اثر بنانا ہے۔
“ریاست کی مسلسل کوشش یہی ہے کہ نوجوانوں کو نظریاتی موت کی طرف دھکیلا جائے،” انہوں نے کہا۔
ان کے مطابق، سول سروس کلچر، سوشل میڈیا برانڈنگ اور “ترقی یافتہ بلوچستان” کے بیانیے دراصل ایسے “مصنوعی بلوچ” پیدا کرنے کی کوشش ہیں جو مزاحمتی سیاست، زبان اور تاریخی شعور سے کٹے ہوئے ہوں۔
ان کا مؤقف تھا کہ ایسے پروگرام مقامی سیاسی و ثقافتی شناخت کی جگہ ریاست کے رویے، زبان اور دنیا کو دیکھنے کے انداز کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
زرّین کے نزدیک، یہ عمل اُن پرانے نوآبادیاتی نظاموں سے مشابہ ہے جو کبھی یورپی سلطنتیں استعمال کرتی تھیں۔
برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی نظاموں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی اسی طرح تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو بیوروکریسی کے ذریعے ریاستی مشینری میں جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
“وہ تعلیم یافتہ بلوچوں کو اپنی مشین کے پرزے بنانا چاہتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
اس کے مقابلے میں، ان کے مطابق، مزاحمتی تحریکوں کو اپنے فکری نظام تعمیر کرنے ہوں گے جو اجتماعی طور پر ریاستی بیانیے کا مقابلہ کرسکیں۔
گفتگو کے کئی مواقع پر انہوں نے یہ تاثر دیا کہ بلوچستان کا تنازعہ اب بڑھتے ہوئے نفسیاتی نوعیت اختیار کرچکا ہے۔
“یہ ہماری وجود، شناخت، نظریے اور جذبات پر حملہ ہے،” انہوں نے کہا۔
تاہم، جبر کے باوجود، ان کا اصرار تھا کہ ریاست مزاحمت کے سماجی اثرات کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
“اس طویل جنگ نے ایک مضبوط اعصاب رکھنے والی نسل پیدا کی ہے،” انہوں نے کہا۔ “اب وہ دشمن کے فریب کو پہچانتی ہے۔ انہیں گمراہ کرنا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔”
گفتگو بالآخر بلوچ شورش سے جڑے ایک قدیم اور متنازع سوال کی طرف بڑھ گئی: کیا ایک منتشر قوم پرست تحریک واقعی ایک جدید ایٹمی ریاست کا مقابلہ کرسکتی ہے؟
برسوں سے پاکستانی ریاستی بیانیہ مسلح مزاحمت کو جدید دور میں تاریخی طور پر فرسودہ اور عسکری طور پر ناممکن قرار دیتا آیا ہے۔
زرّین نے اس مفروضے کو تقریباً فوراً مسترد کردیا۔
ان کے مطابق، ایسے بیانیے خود نوآبادیاتی جنگ کا حصہ ہیں، جن کا مقصد محکوم اقوام میں احساسِ کمتری پیدا کرنا ہے۔
“ان بیانیوں کا مقصد مظلوم قوموں کے فکری اعتماد کو تباہ کرنا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے جدید میڈیا جنگ کا موازنہ اُن پرانے نوآبادیاتی دلائل سے کیا جو کبھی افریقہ میں استعمال کیے جاتے تھے، جہاں محکوم آبادیوں کو خود حکمرانی کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا۔
گھانا کے انقلابی رہنما کوامے نکرومہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی گفتگو تاریخی طور پر ابھرتی ہوئی انقلابی تحریکوں کو دبانے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، حقیقت بیان کرنے کے لیے نہیں۔
زرّین کے نزدیک، جدید جنگ صرف جسموں کے خلاف نہیں بلکہ ذہنوں کے خلاف بھی لڑی جاتی ہے۔
افواہیں، غلط معلومات، خوف اور نفسیاتی تھکن، ان کے مطابق، اب ریاستی طاقت کے مرکزی ہتھیار بن چکے ہیں۔
اس کے جواب میں، ان کے مطابق، مزاحمتی تحریکوں کو سیاسی شعور اور ثقافتی شناخت دونوں کا تحفظ کرنا ہوگا۔
“ہمیں دشمن کے بیانیے سے زیادہ اپنے مزاحمتی بیانیے کو مضبوط کرنا ہوگا،” انہوں نے کہا۔
اپنے مؤقف کے حق میں انہوں نے بار بار بیسویں صدی کی نوآبادیاتی مخالف جنگوں، خاص طور پر ویتنام، کا حوالہ دیا۔
ان کے مطابق، جب طاقتور ریاستیں یہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ جدید دور میں کسی ریاست کو شکست نہیں دی جاسکتی، تب بھی آزادی کی تحریکیں قربانی، تنظیم اور عوامی حمایت کے ذریعے کامیاب ہوتی رہیں۔
انہوں نے مشرقی تیمور، کوسووو، جنوبی سوڈان، صومالی لینڈ اور روجاوا میں کرد انتظامیہ جیسی حالیہ تحریکوں کا بھی حوالہ دیا، جنہیں وہ اس بات کی مثال سمجھتے ہیں کہ منظم قوم پرست تحریکیں آج بھی مسلح جدوجہد کے خلاف عالمی دباؤ کے باوجود سیاسی حقائق بدل سکتی ہیں۔
ایک مرحلے پر انہوں نے سرد جنگ کے بعد “پرامن جدوجہد” اور لبرل جمہوریت کے گرد بننے والے عالمی بیانیے پر بھی تنقید کی۔
ان کے مطابق، طاقتور ریاستیں عدم تشدد کے فریم ورک صرف اصولی بنیادوں پر فروغ نہیں دیتیں بلکہ اس لیے بھی کہ کامیاب مسلح آزادی کی تحریکیں موجودہ عالمی طاقت کے ڈھانچوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔
تاہم، مسلح مزاحمت پر زور دینے کے باوجود، وہ بار بار عوامی شعور، تنظیم اور فکری تیاری کی اہمیت کی طرف لوٹتے رہے۔
“صلاحیت کے بغیر جرات نامکمل ہے،” انہوں نے کہا۔ “لیکن جرات کے بغیر صلاحیت بھی نامکمل ہے۔”
انہوں نے اصرار کیا کہ بلوچ تحریک پاکستان کی تباہی نہیں چاہتی بلکہ اُس چیز سے آزادی چاہتی ہے جسے وہ جبری قبضہ قرار دیتے ہیں۔
سابق بی این ایم چیئرمین غلام محمد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
“ہم صرف اپنی آزادی کے طلبگار ہیں۔”
گفتگو کا آخری حصہ نظریاتی مباحث سے ہٹ کر مستقبل پر مرکوز ہوگیا۔
جب ان سے اگلے دو برسوں کے دوران اپنی ترجیحات کے بارے میں پوچھا گیا، تو زرّین نے تنظیمی تنظیمِ نو، نظریاتی تعلیم اور تکنیکی موافقت پر مبنی ایک ایجنڈا پیش کیا۔
انہوں نے انقلابی سیاست میں “سائنسی” اور “اکیڈمک” طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق، بی ایس او آزاد سیاسی مطالعاتی پروگراموں کو تیز کرے گی، انقلابی ادب کو وسعت دے گی، تنظیمی یادداشت کو بہتر بنائے گی اور ایک زیادہ قابل کیڈر ڈھانچہ تشکیل دے گی۔
خاص طور پر، انہوں نے کہا، ٹیکنالوجی، فنی تعلیم اور جدید مہارتوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ان کے نزدیک، مستقبل کی سیاسی جدوجہد صرف جذباتی وابستگی پر نہیں بلکہ مہارت پر بھی منحصر ہوگی۔
“ہم ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں جو جدوجہد اور جنگ کے جدید تقاضوں کا سامنا کرسکے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ریاست اب “اجتماعی یادداشت” کو زیادہ پیچیدہ اور ہائبرڈ طریقوں سے مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کے مقابلے میں، ان کے مطابق، بی ایس او علم کو ثقافتی مزاحمت کے مرکز میں رکھنا چاہتی ہے۔
ڈیجیٹل قوم پرستی، فکری رسائی اور سیاسی تعلیم، ان کے مطابق، تنظیم کی آئندہ سمت میں مزید اہم کردار ادا کریں گے۔
انٹرویو کے اختتام تک زرّین کا لہجہ نظریاتی تجزیے سے ہٹ کر براہِ راست سیاسی اپیل کی طرف مڑ گیا۔
ان کا آخری پیغام براہِ راست بی ایس او کے کارکنوں اور وسیع تر بلوچ نوجوانوں کے لیے تھا۔
انہوں نے نوجوان کارکنوں پر زور دیا کہ وہ “ضائع شدہ انقلابی زندگی”، بد نظمی اور سیاسی غیر مستقل مزاجی سے بچیں۔
اس کے برعکس، انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، فنی تعلیم اور فکری ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔
“ہمارا نعرہ واضح ہے،” انہوں نے کہا۔ “ہر کارکن کو ٹیکنالوجی، سائنس، جدید علم اور جدید مہارتیں سیکھنی چاہئیں۔”
ان کے مطابق، بلوچ ریاست کی مستقبل کی تعمیر ، ایک اصطلاح جو وہ بار بار استعمال کرتے رہے، فنی صلاحیت رکھنے والے اور سیاسی طور پر منظم نوجوانوں پر منحصر ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست کے نئے پروگرام صرف مزاحمت کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ قومی محکومی کے احساس کو ہی ختم کرنے کے لیے ترتیب دیے جارہے ہیں۔
ان کے نزدیک، یہ خطرہ وجودی نوعیت رکھتا ہے۔
انہوں نے ریاست پر الزام لگایا کہ وہ بلوچ اخلاقیات، تاریخی یادداشت اور صدیوں پر محیط “نفسیاتِ مزاحمت” کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
“اب ذمہ داری نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے،” انہوں نے کہا، “کہ وہ قومی مستقبل کا تعین کریں اور اس کا دفاع کریں۔”
انہوں نے بلوچ طلبہ پر زور دیا کہ وہ “پاکستانی نوآبادیاتی بیانیوں” کی مزاحمت کریں، اور الزام عائد کیا کہ ریاست فیسٹیولز، تعلیمی اداروں اور فوجی سرپرستی میں ہونے والی تقریبات کے ذریعے نوجوانوں کو قوم پرست تحریک سے دور کرنا چاہتی ہے۔
بار بار وہ اجتماعی ذمہ داری کی طرف لوٹتے رہے۔
“اجتماعی غلامی کے سامنے ذاتی آزادی کی کوئی حیثیت نہیں،” انہوں نے کہا۔
اختتام کے قریب ان کی زبان مزید بھاری، تقریباً مرثیہ نما ہوگئی۔
ان کے مطابق، نظریاتی سیاست کو ترک کرنا یا جاری تنازعے کے دوران صرف ذاتی مفادات کا پیچھا کرنا اُن لوگوں کی قربانیوں سے غداری کے مترادف ہے جو اس تحریک میں مارے گئے یا لاپتہ ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایس او کے کارکنوں کو اب ایک “دفاعی ڈھال” کے طور پر کام کرنا ہوگا، تاکہ نئی نسلوں کو سیاسی جذب و تحلیل سے محفوظ رکھا جاسکے۔
چاہے کوئی ان کی سیاست سے اتفاق کرے یا نہیں، یہ گفتگو محض ایک معمول کے تنظیمی انٹرویو سے کہیں بڑی چیز کو آشکار کرتی ہے۔
زرّین کی قیادت میں، بی ایس او آزاد خود کو صرف پابندیوں میں گھری ایک طلبہ تنظیم نہیں بلکہ ایک نظریاتی ادارے کے طور پر دیکھتی ہے، جو ایک طویل تنازعے کے اندر بقا کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسا تنازعہ جس نے بلوچ سیاست کی کئی نسلوں کو پہلے ہی تشکیل دے دیا ہے۔
اس کی زبان نوآبادیاتی مخالف فکر، انقلابی یادداشت اور اس یقین سے بھری ہوئی ہے کہ سیاسی جدوجہد صرف مسلح تصادم تک محدود نہیں بلکہ ثقافت، تعلیم اور تاریخی شعور تک پھیلی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی، تنظیم شدید متنازع بھی ہے ۔ اس کے حامی اسے مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ پاکستانی ریاست اسے “علیحدگی پسند سیاسی نظام” کا حصہ قرار دیتی ہے جس نے دہائیوں پر محیط ” تنازعے کو ہوا دی”۔
تاہم ایک بات ناقابلِ تردید ہے: بلوچ نوجوانوں کے سیاسی تخیل میں بی ایس او آزاد کی مسلسل موجودگی۔
پابندیوں، جبری گمشدگیوں، دھڑے بندی اور شورش کے عشروں بعد بھی، تنظیم اب بھی اپنی جدوجہد کو محض عارضی بے چینی کا مرحلہ نہیں بلکہ ایک نسلی و تاریخی منصوبے کے طور پر پیش کرتی دکھائی دیتی ہے، ایسا منصوبہ جو یادداشت، قربانی اور بلوچستان کے مستقبل کے نامکمل سوال میں پیوست ہے۔
اور شاید اسی معنی میں، بی ایس او آزاد کی کہانی اب محض ایک “انڈر گراؤنڈ” طلبہ تنظیم کی کہانی نہیں رہی۔ یہ، تنازعے کے ہر فریق کے لیے، جدید بلوچ سیاست کی اُس بڑی اور تاحال نامکمل داستان کا حصہ بن چکی ہے۔

















































