بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچ سرمچاروں نے مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کے 7 آلہ کاروں و مخبروں کو حراست میں لیا۔
جیئند بلوچ کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں معروف پروفیسر اور ادیب غمخوار حیات کے قاتل کو بھی گرفتار کرلیا گیا، زیرِ حراست تمام آلہ کاروں کو مکمل اور شفاف تفتیشی عمل سے گزارا گیا، اور قابض فوج کی سہولت کاری، مخبری اور قومی غداری کے سنگین جرائم ثابت ہونے پر بلوچ قومی عدالت نے ان تمام کارندوں کو سزائے موت کا حکم سنایا، جس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق 19 اکتوبر کو سرمچاروں نے کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں قابض فوج کے 2 آلہ کاروں، احسان اللہ ولد منان خان اور حاجی نور ولد تاج محمد، کی سزائے موت پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں ہلاک کردیا۔
انہوں نے کہا مذکورہ کارندوں نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ طویل عرصے سے قابض فوج کے لیئے راشن اور دیگر جنگی رسد کی فراہمی میں براہِ راست ملوث تھے۔
جیئند بلوچ کے مطابق آلہ کار احسان اللہ نے اعتراف کیا کہ وہ 2019 سے قابض فوج کو رسد پہنچانے کا کام کررہا تھا، اور اس نے ایف سی ہیڈکوارٹر سمیت غزہ بند، مچھ میں قابض فوج کی 135 ونگ، 162 ونگ اور 107 ونگ کے علاوہ مارگٹ میں 152 ونگ اور 172 ونگ تک رسد پہنچانے کی تفاصیل کا اعتراف کیا۔
بی ایل اے ترجمان کے مطابق اس کام کے لیئے قابض فوج کے میجر معین نے احسان اللہ کو خصوصی پاس کارڈ جاری کر رکھے تھے، دوسرے آلہ کار حاجی نور نے اعتراف کیا کہ وہ قابض فوج کو رسد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مختلف سیکیورٹی پوسٹوں سے قابض فورسز اور گیس کمپنی کے اہلکاروں کو نقل و حرکت کے دوران سہولت کاری فراہم کرنے میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔
بی ایل اے کے مطابق 30 اکتوبر کو کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک کے مقام پر ہی زیرِ حراست قابض فوج کے 2 مزید کارندوں، نصرت اور عیسیٰ محمد، کی سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد کرکے انہیں ہلاک کردیا گیا۔
انکے مطابق مذکورہ دونوں کارندوں نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ قابض فوج کے ہمراہ مسلح ہوکر فوجی جارحیت، آپریشنز اور علاقے میں ان کی سہولت کاری میں ملوث رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا وہ دشمن فوج کے لیئے نئے مخبر و آلہ کار بھرتی کرنے اور علاقے میں ان کو لاجسٹک رسد پہنچانے کا کام بھی کرتے رہے ہیں، آلہ کاروں نے اعتراف کیا کہ وہ مسلح جتھاجات کے ہمراہ قابض فوج کی نقل و حرکت کو سیکیورٹی فراہم کرنے اور راستوں کی کلیئرنس کا کام بھی انجام دیتے رہے ہیں۔
بیان کے مطابق 13 اکتوبر کو کوہلو کے علاقے بالا ڈھاکہ سے حراست میں لیئے گئے استحصالی کمپنی کے لیے کام کرنے والے 2 آلہ کاروں، نور احمد اور خان محمد ولد گل خان، کی سزائے موت پر عملدرآمد کرتے ہوئے سرمچاروں نے انہیں 13 اکتوبر کو ہلاک کردیا۔
جیئند بلوچ نے کہا مذکورہ دونوں کارندے گزشتہ طویل عرصے سے استحصالی کمپنی کی سیکیورٹی فورس کے ساتھ منسلک تھے، دورانِ تفتیش ان آلہ کاروں نے اعتراف کیا کہ وہ استحصالی پروجیکٹس کے تحفظ کے علاوہ قابض فوج کے لیئے رسد لے جانے، راستوں کی کلیئرنس اور دشمن کے لیئے مخبری کا کام کرتے رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق تنظیمی پالیسی کے تحت مذکورہ افراد سمیت اس کمپنی سے منسلک دیگر تمام افراد کو یہ کام ترک کرنے کے لیئے بارہا تنبیہ کی گئی تھی، تاہم یہ افراد مسلسل قابض فوج کے ایما پر قومی مفادات کے خلاف ان سرگرمیوں میں ملوث رہے۔
جیئند بلوچ نے کہا ہے 8 اکتوبر کے روز بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے نوشکی سے زیرِ حراست ملٹری انٹیلی جنس “ایم آئی” کے کارندے محمد مراد کو سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہلاک کردیا۔
ترجمان کے مطابق قسرمچاروں نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران نوشکی شہر سے مراد ولد غلام مصطفیٰ مینگل، سکنہ قادر آباد، نوشکی کو حراست میں لے کر تفتیش کے عمل سے گزارا تھا۔
ترجمان کے مطابق دورانِ تفتیش آلہ کار مراد نے اعتراف کیا کہ وہ قابض پاکستانی فوج کا کارندہ تھا اور ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شبیر سے منسلک ہوکر کام کررہا تھا، اس نے قادر آباد، کلی مینگل اور کلی بادینی کے علاقوں میں مخبری، متعدد بلوچ گھروں پر فوجی چھاپوں اور عام شہریوں کو جبری لاپتہ کرنے میں قابض فوج کی براہِ راست سہولت کاری کا اعتراف کیا۔
“آلہ کار نے تفتیش میں انکشاف کیا کہ مارچ 2025 میں کلی قادر آباد میں بی ایل اے کے سرمچار جہانزیب مینگل عرف بالاچ کی مخبری اور اس کے گھر پر فوجی چھاپے کے دوران وہ عبید نامی شخص کے ہمراہ قابض فورسز کی سہولت کاری میں ملوث تھا، اس جھڑپ کے دوران بی ایل اے کے شہری گوریلا جہانزیب مینگل نے تنہا کئی گھنٹوں تک دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور شدید زخمی ہونے کے بعد جامِ شہادت نوش کیا”
ترجمان نے کہا ہے قابض فوج کے اس آلہ کار نے مزید انکشاف کیا کہ رواں سال مئی میں اس نے معروف پروفیسر اور ادیب غمخوار حیات کو قتل کیا، اس نے اعتراف کیا کہ اسے قابض فوج کے کارندے شبیر اور ایف سی کمانڈنٹ کی جانب سے پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کا ٹاسک دیا گیا تھا، جس کے لیئے اسے موٹر سائیکل اور اسلحہ فراہم کیا گیا تھا، اور اس نے اسی روز کلی مینگل اسٹیڈیم کے قریب فائرنگ کرکے انہیں شہید کردیا تھا۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی قابض پاکستانی فوج، اس کے خفیہ اداروں اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کے تمام مقامی آلہ کاروں، مخبروں اور استحصالی پروجیکٹس کی سہولت کاری میں ملوث عناصر کو سخت تنبیہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر قومی غداری، مخبری اور وطن فروشانہ سرگرمیوں سے دستبردار ہوجائیں۔
انہوں نے کہا بلوچ لبریشن آرمی کا فعال انٹیلی جنس نظام اور آپریشنل یونٹس قومی دشمنوں کے ہر قدم اور سرگرمی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، بلوچ سرزمین پر قابض فورسز کا ساتھ دینے والے کسی بھی آلہ کار کو نہ تو معاف کیا جائے گا اور نہ ہی وہ بلوچ قومی عدالت کے حتمی انصاف اور سرمچاروں کے وار سے بچ سکے گا۔
ترجمان نے کہا دشمن کی عارضی مراعات، چند روپوں کا لالچ اور تحفظ کی جھوٹی ضمانتیں تمہیں قومی جرم اور اس کے عبرتناک انجام سے ہرگز نہیں بچاسکتیں، لہٰذا تاخیر کیئے بغیر ان مجرمانہ اعمال سے تائب ہوکر دشمن کی آلہ کاری سے الگ ہوجائیں، ورنہ تمہارا انجام بھی ان تمام غداروں سے مختلف نہیں ہوگا۔
جیئند بلوچ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی یہ قومی جنگ قابض پاکستانی فورسز کے مکمل انخلاء اور آزاد وخودمختار بلوچستان کے قیام تک پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی۔

















































