سوہندہ قتلِ عام: ایک سڑک، ایک گھیراؤ اور گیارہ لاشیں — ٹی بی پی رپورٹ
تحریر: فرید بلوچ
سوہندہ کوئی قصبے کا مرکز نہیں، اور نہ ہی یہاں سے گزرنے والے لوگ اس زمین کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ یہ زہری کا ایک دیہی علاقہ ہے جہاں خشک پہاڑیوں، بکھرے ہوئے گھروں، کھیتوں اور باغات کے درمیان سے ایک سڑک گزرتی ہے، جو ان چھوٹی آبادیوں کو آپس میں جوڑتی ہے جن کی روزمرہ زندگی پانی، زمین، محنت اور خاندانی رشتوں پر قائم ہے۔
عام دنوں میں لوگ انہی راستوں سے اپنی زمینوں کا جائزہ لینے، فصلوں کو پانی دینے، باغات کی دیکھ بھال کرنے یا قریبی دیہات میں رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سفر کرتے ہیں۔ یہ فاصلے مقامی ہوتے ہیں، راستے مانوس اور سفر کی وجوہات غیرمعمولی نہیں ہوتیں۔
16 اپریل 2026 کو بھی زہری اور اس کے گردونواح سے تعلق رکھنے والے کئی افراد انہی معمولات کے تحت سوہندہ کے راستوں پر سفر کر رہے تھے۔
مگر دن کے اختتام تک ان میں سے گیارہ افراد ہلاک ہو چکے تھے، جبکہ ایک شخص شدید زخمی حالت میں زندہ بچ گیا۔
سوہندہ میں کیا ہوا؟
اس صبح یہ افراد ایک ساتھ روانہ نہیں ہوئے تھے۔ ان کے سفر مختلف مقامات سے شروع ہوئے تھے؛ کوئی کھیت سے آرہا تھا، کوئی باغ سے، کوئی اپنے گھر سے نکلا تھا اور کوئی قریبی بستیوں کے درمیان سفر کر رہا تھا۔ ان علاقوں میں سوہندہ، راسہ، زاواہ اور لہڑ شامل تھے۔
متاثرہ خاندانوں اور مقامی ذرائع کے مطابق فوجی آپریشن کے دوران ان افراد کو مختلف مقامات سے حراست میں لے کر سوہندہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا گیا، جو نورگامہ سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ان ہی ذرائع کے مطابق وہاں ان افراد کے ہاتھ اور پاؤں باندھے گئے، آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور بعد ازاں انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔
Sohinda Massacre: A Road, a Roundup and Eleven Dead — TBP Report
…. Follow the link below to our website for reading the full report.https://t.co/IBcubQ1SU2 pic.twitter.com/SBKgcbMZRX
— The Balochistan Post – English (@TBPEnglish) June 2, 2026
انتباہ: اس واقعے سے متعلق ویڈیو میں دل دہلا دینے والے مناظر موجود ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ نے متاثرہ افراد میں سے نو کے بارے میں معلومات جمع کیں، جن میں زخمی بچ جانے والا عبدالسلام بھی شامل ہے۔ شناخت ہونے والے بیشتر افراد کسان، زرعی مزدور یا قریبی دیہات کے درمیان سفر کرنے والے مقامی باشندے تھے۔
محمد شریف، جو ضلع قلات کے علاقے کوہنگ کے رہائشی تھے اور حالیہ عرصے میں زہری کے علاقے گراڑی میں مقیم تھے، واقعے کے روز کھیتوں سے واپس آرہے تھے۔ وہ زہری غلام بھٹ کے قریب کھیتی باڑی کرتے تھے اور فصلوں کو پانی دینے گئے ہوئے تھے۔
ان کے خاندان سے واقف ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ واپسی کے دوران انہیں سوہندہ میں روک کر حراست میں لیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “وہ ہر روز کی طرح کھیتوں میں گئے تھے۔ معمول کے زرعی کام کے بعد واپس آرہے تھے جب انہیں گرفتار کیا گیا۔”
اسی طرح چار دیگر افراد رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سفر کر رہے تھے۔ محمد رمضان، حبیب، سعید احمد اور امام بخش زاواہ کے باغات میں کام کرتے تھے اور اپنے رشتہ دار محمد قاسم ولد محمد جان جتک سے ملاقات کے لیے لہڑ گئے تھے۔

ایک اور مقام پر خاری زہری کے رہائشی منیر حیات ولد مہیم خان، وڈیرہ محمد حیات ولد وڈیرہ خدابخش کے ہمراہ زہری سے روانہ ہوئے تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق وہ محمد حیات کی زمین کا جائزہ لینے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے جب انہیں راسہ کے مقام پر روکا گیا اور بعد ازاں قتل کر دیا گیا۔
منظور احمد ولد حاجی میراجی زہری کے علاقے آرچینی میں زرعی کاموں میں مصروف تھے، جہاں وہ بورنگ مشین کے ذریعے کھیتی باڑی کے کام انجام دے رہے تھے۔ بعد میں جمع کی گئی معلومات میں ان کی شناخت بھی مقتولین میں شامل افراد کے طور پر ہوئی۔
دی بلوچستان پوسٹ کی جانب سے حاصل کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں مقتولین کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد کے مناظر دکھائی دیتے ہیں، جن میں بعض افراد کے ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے جبکہ آنکھوں پر پٹیاں بندھی نظر آتی ہیں۔
ایک روز قبل
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس سے ایک دن قبل بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا تھا کہ سوہندہ کے علاقے میں جھڑپوں کے دوران اس کے دو جنگجو مارے گئے ہیں۔
اپنے بیان میں بی ایل اے نے کہا کہ 15 اپریل کو اس کے جنگجوؤں نے پیش قدمی کرنے والے پاکستانی فوجی دستوں کو ایک ریموٹ کنٹرول دھماکہ خیز آلے کے ذریعے نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے کی جانب بڑھنے والے ایک فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔
تنظیم نے دعویٰ کیا کہ دونوں حملوں میں دس پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ اس کے دو جنگجو، تنویر مینگل اور سعداللہ، بھی مارے گئے۔
اگلے روز بی ایل اے نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فورسز اور ان کے بقول ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہ، جنہیں مقامی طور پر “ڈیتھ اسکواڈز” کہا جاتا ہے، نے “غصے اور انتقامی کارروائی” کے تحت شہریوں کو حراست میں لے کر ان میں سے گیارہ افراد کو قتل کر دیا۔
بلوچستان میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے حوالے سے متضاد دعوے کوئی نئی بات نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، متاثرہ خاندان اور مقامی مبصرین طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ مسلح تنظیموں کی جانب سے فوج کو نقصان پہنچانے کے بعد ریاستی ادارے بعض اوقات عام شہریوں کو حراست میں لیتے ہیں یا پہلے سے زیرِ حراست افراد کو مسلح جھڑپوں میں مارے گئے جنگجوؤں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
بلوچ مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار کے مطابق سوہندہ کے مقتولین کی شناخت کے حوالے سے متضاد دعوؤں کا جائزہ لیتے وقت بی ایل اے کے اپنے طرزِ عمل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: “جب بی ایل اے کے جنگجو مارے جاتے ہیں تو تنظیم عموماً ان کے نام، عسکری نام اور تنظیمی ذمہ داریوں کی تفصیلات جاری کرتی ہے۔”
تجزیہ کار نے “آپریشن ہیروف 2” کے بعد جاری کیے گئے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں بی ایل اے نے اپنے بقول ہلاک ہونے والے 93 جنگجوؤں کے نام عوامی طور پر جاری کیے تھے۔
مبینہ انتقامی کارروائیوں کا تسلسل
سوہندہ میں پیش آنے والا یہ واقعہ زہری میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا، جہاں مقامی آبادی کے مطابق پاکستانی فورسز پر حملوں کے بعد اکثر وسیع فوجی کارروائیاں شروع کی جاتی رہیں، جن کے اثرات شہری علاقوں تک پہنچتے رہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں گھروں کو نقصان پہنچا، زرعی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور روزمرہ زندگی شدید پابندیوں کی زد میں آگئی۔
یہ صورتحال 11 اگست 2025 کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی، جب بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے زہری کے بعض علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
براس کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے 13 فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا، 37 اہلکاروں کو ہلاک کیا اور فوجی سازوسامان قبضے میں لے لیا۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر ہلاک شدہ فوجیوں، تباہ شدہ گاڑیوں اور لٹکتی ہوئی پاکستانی فوجی وردیوں کی تصاویر گردش کرتی رہیں۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے اثرات صرف مسلح گروہوں تک محدود نہیں رہے۔ گھروں کو نقصان پہنچا، فصلیں، آبی ذرائع اور سولر سسٹمز تباہ ہوئے جبکہ متعدد خاندانوں نے من مانی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کی شکایات بھی کیں۔
ستمبر میں ایک فضائی حملے میں پندرانی قبیلے کے تین افراد اپنے گھر میں مارے گئے۔ دو روز بعد تراسانی کے قریب ایک ڈرون حملے میں تعزیت سے واپس آنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بی بی آمنہ، لال بی بی اور محمد حسن ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں چار سالہ بچہ اور 65 سالہ بزرگ بھی شامل تھے۔
براس کی ابتدائی کارروائیوں کے خاتمے کے باوجود بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجو زہری کے بعض علاقوں پر اپنا اثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہے اور فورسز کی متعدد پیش قدمیوں کو ناکام بنایا۔
26 ستمبر کو تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے انجیرہ میں دس فوجی گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا، چار گاڑیوں کو براہِ راست نشانہ بنایا، دو کو تباہ کر دیا اور پندرہ سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کیا۔
مقامی افراد کے مطابق اگلے روز پاکستانی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں اور بھاری نفری کے ساتھ زہری میں زمینی آپریشن شروع کیا۔ یکم اکتوبر کو نورگامہ میں کپاس کے کھیتوں کے قریب بیٹھے چار شہری ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے۔
4 اور 5 اکتوبر تک، مقامی باشندوں کے مطابق، صورتحال عملاً کرفیو میں تبدیل ہو چکی تھی۔ زہری کے واحد سول ہسپتال کو فوجی کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ نقل و حرکت پر غیرمعینہ مدت تک پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
کرفیو کے سائے میں زندگی
اس کے بعد کے مہینوں میں، مقامی آبادی کے مطابق، کرفیو زہری کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔
انجیرہ، نیچاری، پندران، نورگامہ اور کمبی سمیت متعدد علاقوں میں فوجی پابندیاں برقرار رہیں۔ دیہات کے درمیان آمدورفت محدود ہو گئی، بازار دباؤ میں چلتے رہے اور لوگوں کو خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی ذرائع کے مطابق علاقے کے واحد سول ہسپتال کی فوجی کیمپ میں تبدیلی کے باعث زخمیوں اور مریضوں کے لیے طبی سہولیات تک رسائی بھی محدود ہو گئی۔
ان پابندیوں نے زہری کو بیرونی دنیا سے بھی بڑی حد تک منقطع کر دیا۔ متعدد علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل رہیں، جس کے باعث گرفتاریوں، ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کی مکمل تعداد کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی۔
دی بلوچستان پوسٹ نے انہی حالات میں سوہندہ کے واقعے کی تفصیلات جمع کیں۔ مقامی افراد اور ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری فوجی کارروائیوں، چھاپوں اور مواصلاتی پابندیوں کے باعث ممکن ہے کہ مزید واقعات اور متاثرین کی تفصیلات ابھی منظرِ عام پر نہ آئی ہوں۔
دی بلوچستان پوسٹ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق متعدد خاندان نگرانی، چھاپوں اور خوف کے ماحول کے باعث زہری چھوڑ کر خضدار، حب چوکی اور دیگر علاقوں کی جانب منتقل ہو چکے ہیں۔
زہری کی صورتحال پر انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے بنیادی سہولیات کی بحالی، زیرِ حراست افراد کی رہائی اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے اب تک ان الزامات، طبی سہولیات کی مبینہ بندش یا زہری کے سول ہسپتال کو فوجی کیمپ میں تبدیل کیے جانے کے دعوؤں پر کوئی تفصیلی عوامی وضاحت جاری نہیں کی۔
آج بھی سوہندہ انہی خشک پہاڑیوں، کھیتوں، باغات اور بستیوں کے درمیان واقع ہے۔ مگر ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے لیے یہ سڑک اب صرف دیہی زندگی کے معمولات کی علامت نہیں رہی۔
یہ اب ان لوگوں کی یاد بھی اپنے ساتھ لیے پھرتی ہے جو معمول کے کاموں کے لیے گھروں سے نکلے تھے، مگر کبھی واپس نہ لوٹ سکے۔


















































