بلوچستان کی آزادی کے لیے متحرک مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے اپنے آفیشل چینل ’’ہکل‘‘ پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے ڈرون حملوں کی ویڈیو فوٹیج جاری کردی ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں بی ایل اے کے جنگجوؤں کو ڈرونز کے ذریعے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں، کیمپوں اور چوکیوں سمیت فورسز کے حمایت یافتہ مسلح گروہ ’’ڈیتھ اسکواڈ‘‘ کے ارکان کی نشاندہی کرکے انہیں نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کو ڈرون حملوں سے بچنے کے لیے بھاگتے اور حملوں کی زد میں آتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے، تنظیم کے مطابق یہ حملے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آئیں۔
یاد رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے اپریل 2026 میں آپریشن ’’ھیروف دوئم‘‘ کے دوران نئے فضائی یونٹ ’’قاضی ایرو ہائیو رینجر‘‘ قہر (QAHR) کے قیام اور اسے آپریشن میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مذکورہ آپریشن کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے کیے گئے تھے، جبکہ ڈرون حملوں کے ذریعے گوادر پورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
بی ایل اے کے مطابق ’’قہر‘‘ فضائی یونٹ اس کی عسکری ترقی کا وہ مرحلہ ہے جس کا مقصد بلوچ مزاحمت کو جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے، یونٹ اس کے اس فکری وژن کا تسلسل ہے جس کے تحت مزاحمت کو محض ردعمل کے بجائے منصوبہ بند، سائنسی اور پائیدار حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانے پر یقین رکھا جاتا ہے۔
تنظیم نے اس یونٹ کو اپنے سینئر کمانڈر عبدالباسط زہری عرف قاضی کی فکری اور تنظیمی میراث سے منسوب کیا ہے، بی ایل اے کے مطابق عبدالباسط زہری عرف قاضی نے مزاحمتی صفوں میں ٹیکنالوجی، تحقیق اور ادارہ جاتی تعمیر کو بنیادی اہمیت دی اور ’’قہر‘‘ کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔
















































