ہارون رشید بزدار: ڈیرہ جات کے بلوچ اور سرحدوں سے آگے پھیلتی تحریک — ٹی بی پی رپورٹ
تحریر: یاران دیار
ڈیرہ غازی خان سے بولان کے پہاڑوں تک، شعبہ نفسیات کے ایک طالب علم سے بی ایل اے کمانڈر بننے والے ہارون رشید بزدار کی کہانی بلوچ سرزمین کی تاریخی تقسیم، بلوچ قوم پرست تحریک کے ساتھ نئی نسل کے سیاسی روابط اور خطے پر پاکستان کے کنٹرول کے لیے اس کے مضمرات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
ہارون رشید بزدار جن کا عرفی نام مبارک اور قلمی نام واہگ تھا، ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان کے پہاڑی علاقے چنالہ میں پیدا ہوئے، یہ علاقہ انتظامی طور پر پاکستان کے صوبہ پنجاب کا حصہ ہے، تاہم تاریخی طور پر بلوچ حکمرانی اور شناخت سے وابستہ رہا ہے۔
نفسیات کے طالب علم سیاسی کارکن، سماجی کارکن اور لکھاری کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھنے والے ہارون بالآخر بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” میں شامل ہوگئے اور اس تنظیم کے ان جنگجوؤں میں شامل ہوئے جن کا تعلق ایسے خطے سے تھا جسے بہت سے بلوچ قوم پرست اپنا تاریخی وطن سمجھتے ہیں۔
بی ایل اے نے اعلان کیا کہ ہارون 20 ستمبر 2026 کو بلوچستان کے ضلع سبی کے لہڑی محاذ پر ایک کارروائی کے دوران مارے گئے، ان کے دوستوں اور تنظیم کی جانب سے بیان کردہ ان کی زندگی ایک ایسے سوال کو جنم دیتی ہے جو ایک شخص کی زندگی سے آگے بڑھتا ہے۔ کیا صوبائی سرحدوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا کی گئی بلوچ آبادیاں دوبارہ سیاسی طور پر ایک دوسرے سے جڑ رہی ہیں، اور اس کے پاکستان کے لیے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟
ہارون نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ نفسیات میں تعلیم حاصل کی، بی ایل اے میں شمولیت سے قبل وہ کئی سال تک بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد اور بلوچ نیشنل موومنٹ سے وابستہ رہے وہ 2022 میں بی ایل اے میں شامل ہوئے۔
ان کے ساتھی انھیں ایک ایسے شوقین قاری کے طور پر بیان کرتے ہیں جن کی دلچسپی نوآبادیاتی نظام، شناخت اور مزاحمت جیسے موضوعات میں تھی۔
ان کے مطابق ہارون نے ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں نوجوانوں کے درمیان قوم پرست سیاسی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں مدد کی، انہوں نے 2022 میں کوہِ سلیمان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا اور قبائلی علاقوں کی آبادیوں کو اس آفت کے اثرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کی۔
ایک تاریخی وطن کی تقسیم
ڈیرہ جات کے خطے میں ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ فتح خان “تونسہ” ڈیرہ اسماعیل خان موجودہ بلوچستان کے سرحدی علاقے اور سندھ کے بعض علاقے شامل ہیں، اس خطے کی تاریخ بلوچ قبائل سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
پندرہویں صدی میں بلوچ سردار حاجی خان میرانی نے اس خطے کی بنیاد رکھی، جبکہ اس کے تین بڑے اضلاع کے نام ان کے بیٹوں غازی خان، فتح خان اور اسماعیل خان کے نام پر رکھے گئے۔
متعلقہ رپورٹ: بلوچستان کی تقسیم
اٹھارہویں صدی کے دوران میر نصیر خان اول نے وسیع تر بلوچ خطے کے مختلف حصوں میں خانِ قلات کی سیاسی عمل داری کو وسعت دی، بلوچ تاریخی روایات ڈیرہ جات کو بلوچ سیاسی اتحاد کی اسی وسیع تاریخ کا حصہ قرار دیتی ہیں۔
بلوچ مؤرخین جن میں عنایت اللہ بلوچ بھی شامل ہیں، کی تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے نقشوں میں ڈیرہ غازی خان کو میر نصیر خان کے دورِ حکومت میں خانِ قلات سے وابستہ علاقوں میں شامل دکھایا گیا ہے، انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا میں بھی میر عبداللہ خان کے دور میں ڈیرہ غازی خان کو براہوی اتحاد کی علاقائی عمل داری میں شامل کیے جانے کا ذکر ملتا ہے جو میر نصیر خان اول کے اقتدار میں آنے سے پہلے کا دور تھا۔
برطانوی دورِ حکومت میں اس سیاسی جغرافیے میں تبدیلی آئی 1849 میں پنجاب پر برطانوی قبضے کے بعد ڈیرہ غازی خان نوآبادیاتی انتظامی نظام کے تحت آگیا تاریخی تحقیقات میں درج ہے کہ بعد ازاں برطانوی حکام نے انتظامی بندوبست، قبائلی سرداروں کے ساتھ اتحاد، اراضی پالیسیوں اور جبری اقدامات کے ذریعے بلوچ قبائلی علاقوں پر اپنا کنٹرول مستحکم کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان جرنل آف ہسٹری اینڈ کلچر میں شائع ہونے والا محمد فیاض انور اور عرفان حسنین قیصرانی کا تحقیقی مقالہ، جس کا عنوان Settling the Frontiers: British Administrative Policy towards the Baloch Tribes of Dera Ghazi Khan (1849–1875) ہے ان پالیسیوں کا جائزہ لیتا ہے۔
مصنفین بیان کرتے ہیں کہ برطانوی حکام نے قبائلی سرداروں کو مالی اور انتظامی معاونت فراہم کرکے، آبادکاری کی اسکیموں، جرگوں اور فوجی طاقت کے ذریعے اپنی عمل داری کو وسعت دی ان کے مطابق ان اقدامات نے بلوچ قبائل کی سیاسی تنظیم کو تبدیل کیا اور منتخب سرداروں کے اختیار کو مضبوط بنایا۔
بلوچ قوم پرست مؤرخین ان پالیسیوں کو ایک وسیع تر سامراجی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں، جس کے ذریعے تاریخی طور پر ایک دوسرے سے جڑے بلوچ علاقوں کو تقسیم کیا گیا اور ان کی اجتماعی سیاسی قوت کو کمزور کیا گیا اس نقطۂ نظر کے مطابق ڈیرہ جات کو بلوچستان کے سیاسی مراکز سے الگ کرنا محض انتظامی تنظیمِ نو نہیں تھا بلکہ ایک ایسے عمل کا حصہ تھا جس نے مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور قبائلی رشتوں کی حامل آبادیوں کو تقسیم کیا۔
ان کا مؤقف ہے کہ نوآبادیاتی حکمرانی نے بلوچ آبادیوں کے درمیان تقسیم کو ادارہ جاتی شکل دی، جن میں سے بعض تقسیمیں بعد ازاں پاکستان کی صوبائی سرحدوں کے اندر بھی برقرار رہیں۔
بلوچ قوم پرستوں کے نزدیک ان تبدیلیوں نے ایک وسیع تر وطن کو منتشر کیا اور ان آبادیوں کو بتدریج ایک دوسرے سے جدا کردیا جن کی تاریخ، رشتہ داریاں اور سیاسی تجربات طویل عرصے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
یہی تاریخ واہگ بزدار کی تحریروں میں بھی دکھائی دیتی ہے اردو میں لکھے گئے اپنے مضمون، تقسیم کرو اور استحصال کرو‘‘ میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نوآبادیاتی حکمرانی نے علاقے تقسیم کرکے، قبائلی رقابتوں کو ہوا دے کر اور زبان و شناخت کے اختلافات کو گہرا کرکے بلوچ اتحاد کو کمزور کیا، انہیں بالخصوص ڈیرہ جات اور بلوچستان کے بلوچوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے پر تشویش تھی۔
انور اور قیصرانی کی تحقیق میں ڈیرہ غازی خان کو ’’یاغستان‘‘ بھی کہا گیا ہے، جس کا مطلب باغیوں کی سرزمین ہے ان کی تحقیق کے مطابق یہ اصطلاح اس دشواری کی عکاسی کرتی ہے جس کا سامنا سکھوں اور انگریزوں سمیت مختلف ادوار کی طاقتوں کو اس ضلع میں بلوچ قبائل پر اپنی عمل داری قائم کرنے کے دوران کرنا پڑا۔
مصنفین بالخصوص پہاڑی علاقوں میں آباد قبائل، جن میں گورچانی بھی شامل تھے، کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہیں، جس نے بیرونی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کے باعث اس خطے کی شہرت کو تشکیل دیا۔
تاہم موجودہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مختلف بلوچ قوم پرست حلقوں کی روایات کے مطابق ماضی قریب میں وسیع تر بلوچ قوم پرست سیاسی یا مسلح تحریک میں ڈیرہ جات کے بلوچوں کی شرکت محدود رہی تھی وہ اکثر ان علاقوں کی تاریخی اور انتظامی تقسیم کو اس فاصلے کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کی شمولیت
ہارون بزدار ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے واحد شخص نہیں تھے جو بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں سے وابستہ رہے، تنظیم نے اپنی مسلح سرگرمیوں میں شرکت سے متعلق بیانات میں مریم بزدار، جنہیں سمی کے نام سے جانا جاتا ہے، اور ان کے شوہر رشید بزدار، جنہیں میرل کہا جاتا ہے، کی شناخت بھی ظاہر کی۔
بی ایل اے کے مطابق مریم مارچ 2023 میں اس کی مجید بریگیڈ میں شامل ہوئی تھیں، جبکہ رشید پہلے ہی اس بریگیڈ کا حصہ تھے اور اس سے قبل جانبحق ہوچکے تھے۔
ان واقعات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ تحریک ڈیرہ جات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ایک وسیع تر حلقے کو اپنی جانب متوجہ کررہی ہے۔
اس رپورٹ کے لیے انٹرویو کیے گئے بی ایس او آزاد، بی این ایم اور دیگر طلبہ و سیاسی حلقوں سے وابستہ کارکنوں نے موجودہ شورش کے اس مرحلے میں، جسے اکثر پانچواں مرحلہ قرار دیا جاتا ہے، ڈیرہ غازی خان اور اس کے آس پاس کے بلوچ آبادی والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی وسیع تر بلوچ تحریک میں بڑھتی ہوئی شمولیت کی نشاندہی کی۔
انکے مطابق طلبہ تنظیموں اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے شرکت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض نوجوان مسلح گروہوں میں بھی شامل ہوئے ہیں، ان کے نزدیک یہ بلوچستان بھر میں جاری سیاسی جدوجہد کے ساتھ ڈیرہ جات کے دوبارہ جڑنے کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔
سیاسی سرگرمیوں میں اس رپورٹ کردہ اضافے کے ساتھ ساتھ، کارکنوں اور تجزیہ کاروں نے ڈیرہ غازی خان اور بلوچستان سے باہر بلوچ آبادی والے دیگر علاقوں میں بلوچ طلبہ اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ سلوک پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
اس رپورٹ کے لیے انٹرویو کیے گئے بعض کارکنوں کا مؤقف تھا کہ طلبہ اور کارکنوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے واقعات کو ایسی تحریک کے تناظر میں سمجھنا چاہیے جو مانوس جغرافیائی حدود سے آگے پھیل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام بظاہر بلوچ سیاسی سرگرمیوں کے پنجاب کے زیرِ انتظام علاقوں تک پھیلاؤ پر تشویش رکھتے ہیں، یہ واقعات کے اس رجحان کے بارے میں ان کی تشریح ہے، نہ کہ انفرادی واقعات کی کوئی باضابطہ طور پر ثابت شدہ وجہ۔
جبری گمشدگیاں اور ہلاکتیں
گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈیرہ غازی خان سے مبینہ جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی اطلاع خاندانوں، طلبہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے دی ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی “بی ایس اے سی” کے مطابق دسمبر 2023 میں غازی یونیورسٹی کے چار بلوچ طلبہ، ساکم بلوچ، امیر بلوچ، سلمان بلوچ اور زبیر بلوچ، کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب پولیس کے اہلکاروں پر مشتمل چھاپہ مار کارروائی کے دوران طلبہ کی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا تھا۔
اپریل 2026 میں زبیر بلوچ کی مبینہ گمشدگی کی اطلاع بھی سامنے آئی، جو بہاولپور بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے سابق چیئرمین اور سیاسیات میں ایم فل کے طالب علم تھے، اطلاعات کے مطابق انہیں ڈیرہ غازی خان میں ان کے گھر سے اٹھایا گیا تھا۔
بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم پانک نے جولائی 2025 کی اپنی رپورٹ میں ڈیرہ غازی خان میں جبری گمشدگی کے تین واقعات درج کیے، مارچ 2025 کے واقعات کا احاطہ کرنے والی ایک علیحدہ رپورٹ میں تنظیم نے ڈیرہ غازی خان سے جبری گمشدگی کے 13 واقعات دستاویزی شکل میں درج کیے۔
2024 میں بلوچ ایڈووکیسی اینڈ اسٹڈیز سینٹر “بی اے ایس سی” کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ضلع سے تیرہ بلوچوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا یہ اعداد و شمار الگ الگ رپورٹس اور مختلف ادوار سے متعلق ہیں۔
مئی 2026 میں دو بھائیوں، سجاد لاشاری اور ساجد لاشاری، کو لاہور میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق دونوں بھائی ڈیرہ غازی خان کے علاقے فاضل پور میں بستی لاشاری کے رہائشی تھے اور انہیں اس واقعے سے تقریباً چار روز قبل اسلام آباد میں نامعلوم اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا، ان کے خاندان نے اس واقعے کو ایک جعلی پولیس مقابلہ قرار دیا۔
سیاسی تنظیموں کے لیے ایسے واقعات ریاست اور بلوچ سیاسی سرگرمیوں کے درمیان تعلق سے متعلق ان کے مؤقف میں ایک مرکزی تشویش بن چکے ہیں۔
ان رپورٹس میں الزامات اور انفرادی واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے، جبکہ کارکنوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کردہ وسیع تر تشریح ان سیاسی حالات سے متعلق ہے جن میں یہ واقعات پیش آتے ہیں۔
طلبہ اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں
ڈیرہ غازی خان اور اس کے گردونواح میں بلوچ طلبہ اور کارکنوں کی تشویش صرف جبری گمشدگیوں تک محدود نہیں ہے، رپورٹس میں تعلیمی سرگرمیوں، سیاسی اجتماعات اور احتجاجی مظاہروں پر پابندیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
اپریل 2022 میں غازی یونیورسٹی کے پروفیسر رفیق قیصرانی نے پنجاب میں بلوچ طلبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور نسلی شناخت کی بنیاد پر ان کی پروفائلنگ کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا۔
جنوری 2025 میں بارڈر ملٹری پولیس نے تونسہ کے علاقے فضل کچ میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام کتاب میلے کو بند کروا دیا۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ انہیں ہراساں کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں جنوری 2025 میں راجن پور میں بھی ایسے ہی واقعات رپورٹ ہوئے، جہاں پولیس نے ایک کتاب میلے کو روک دیا اور طلبہ کے کتابوں کے اسٹال پر چھاپہ مارا۔
بی ایس اے سی نے یہ بھی بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کی غازی یونیورسٹی میں کتاب میلے کے انعقاد کی اس کی کوشش کو انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اگست 2024 میں پنجاب یونیورسٹی نے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والی قانون کی طالبہ اور کارکن سعدیہ بلوچ کو بلوچ سیاسی سرگرمیوں، بشمول بلوچ راجی مچی “بلوچ قومی اجتماع)” میں شرکت کے بعد معطل کردیا۔
مارچ 2025 میں بلوچ وومن فورم نے ڈیرہ غازی خان میں عالمی یومِ خواتین کے اجتماع میں مبینہ رکاوٹ ڈالنے کی مذمت کی، فورم نے الزام عائد کیا کہ حکام نے اس تقریب میں شریک خواتین کو دھمکیاں دی تھیں۔
جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کا لانگ مارچ بھی دسمبر 2023 میں ڈیرہ جات سے گزرا تھا، کمیٹی کے مطابق مقامی لوگوں نے لانگ مارچ کا استقبال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں شرکت کی تاہم اس نے الزام لگایا کہ پنجاب پولیس نے حامیوں کو روکنے کے ساتھ خواتین اور نوجوانوں سمیت 20 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ڈیرہ غازی خان میں لانگ مارچ کے شرکا کی گرفتاریوں کی مذمت کی تھی۔
دوسری جانب ڈیرہ جات کے پڑوسی علاقوں بشمول ڈیرہ غازی خان اور اس کے آس پاس کے علاقوں جیسے بارکھان، راڑہ شم، نصیرآباد اور کئی دیگر مقامات پر بلوچ مسلح تنظیموں کی مسلح سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ واقعات بذاتِ خود ڈیرہ جات میں بلوچ قوم پرست مسلح گروہوں کی حمایت کی سطح کا تعین نہیں کرتے تاہم یہ اس وسیع تر تناظر کا حصہ ہیں جس میں کارکن خطے بھر کی بلوچ آبادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی روابط کی نشاندہی کرتے ہیں۔
طلبہ کی سرگرمیوں اور سیاسی اجتماعات پر پابندیاں، گمشدگیوں کی اطلاعات، لانگ مارچ کے لیے عوامی حمایت اور قریبی اضلاع میں مسلح سرگرمیاں، یہ تمام عوامل بلوچ شناخت، سیاسی متحرک ہونے کے عمل اور ریاستی اختیار کے باہمی تعلق پر جاری بحث میں شامل ہیں۔
اس کے پاکستان کے لیے کیا معنی ہیں؟
اس کے مضمرات انفرادی جنگجوؤں کی سوانح عمریوں سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں اگر پنجاب اور بلوچستان میں آباد بلوچ آبادیوں کو آپس میں جوڑنے والے سیاسی روابط بڑھتے ہیں تو پاکستانی ریاست کو ایک ایسے چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے جو بلوچستان کے اندر جاری موجودہ تنازعے تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ قوم پرست سیاسی سرگرمیوں کے ان علاقوں تک پھیلاؤ سے بھی متعلق ہوگا جنہیں ریاست پنجاب کا حصہ قرار دے کر ان کا انتظام چلاتی ہے۔
یہاں ایسا کوئی آزادانہ طور پر ثابت شدہ ثبوت موجود نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ پاکستانی حکام ڈیرہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی مخصوص شمولیت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، اس کے باوجود، وسیع تر سوال اہم ہے۔
کیا ریاست ان پیش رفتوں کو بنیادی طور پر سکیورٹی کے زاویے سے دیکھے گی یا اس بات کو تسلیم کرے گی کہ تاریخی شناخت، سیاسی نمائندگی اور بلوچ علاقوں کی حیثیت سے متعلق شکایات بھی اس تنازعے کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہیں؟ اگر آبادیوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی شناخت یا سیاسی نظریات کی وجہ سے انہیں اجتماعی سزا دی جارہی ہے تو صرف سکیورٹی اقدامات پر مبنی ردعمل ان کی بیگانگی کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔
سیاسی حل کے لیے ضروری ہوگا کہ پُرامن سیاسی حمایت اور مسلح سرگرمیوں میں فرق کیا جائے اور مقامی آبادی کو اپنے مستقبل کے بارے میں مختلف آرا کے اظہار کی گنجائش دی جائے۔
ہارون کی کہانی پورے خطے کی سیاسی ترجیحات کا تعین نہیں کرسکتی اور نہ ہی بی ایل اے میں ان کی شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ ڈیرہ جات کے تمام بلوچ اسی راستے کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ان کی زندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تاریخی بیانیے اور سیاسی روابط نسلوں سے قائم سرحدوں کو عبور کرسکتے ہیں۔
ہارون اور ان کے سیاسی نظریات سے اتفاق رکھنے والوں کے لیے ڈیرہ جات کو بلوچستان کے ساتھ دوبارہ جوڑنا ایک ایسے تاریخی تعلق کی بحالی کا سوال تھا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اسے توڑ دیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ روابط محدود تعداد میں کارکنوں کے نظریات تک محدود رہیں گے یا خطے کے بلوچ نوجوانوں کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی پیش رفت کا حصہ بن جائیں گے، اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو ایک ایسے سوال کا سامنا ہوگا جس کا جواب صرف سکیورٹی پالیسی کے ذریعے نہیں دیا جاسکتا کیا ریاست ان علاقوں میں دیرپا سیاسی وابستگی قائم کرسکتی ہے جہاں کے باشندے ان سرحدوں کی تاریخ اور قانونی و سیاسی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں جن کے تحت ان پر حکمرانی کی جاتی ہے؟
سرحدیں نقشے پر اب بھی موجود ہیں تاریخ، شناخت اور وابستگی سے متعلق سوالات ان سرحدوں کو عبور کرکے آج بھی سفر کر رہے ہیں۔
حوالہ جات
کتاب: The Problem of “Greater Baluchistan”: A Study of Baluch Nationalism (1987)، ڈاکٹر عنایت اللہ بلوچ۔
کتاب: Baloch Nationalism: Its Origin and Development، ڈاکٹر تاج محمد بریسگ۔
تحقیقی مقالہ: Settling the Frontiers: British Administrative Policy towards the Baloch Tribes of Dera Ghazi Khan۔















































