فضائی یونٹ “قہر” کے ڈرون حملوں میں پاکستانی فوج کے 7 اہلکار ہلاک۔ بی ایل اے

0

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کیا ہے کہ تنظیم کی فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر (QAHR)” نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سوراب، خاران اور قلات میں قابض فورسز پر 3 کامیاب فضائی کارروائیاں کی ہیں، جن میں دشمن کے 7 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوگئے، جبکہ قابض فوج کو بھاری مالی و لاجسٹک نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ترجمان کے مطابق 26 اکتوبر کو سوراب کے علاقے تارکی ڈیم کے مقام پر قائم قابض فوج کے کیمپ پر”قہر (QAHR)” نے پے در پے 9 ڈرون حملے کیئے، جن میں کامیابی کے ساتھ دشمن کی سپلائی اور حفاظتی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان شدید دھماکوں کے نتیجے میں قابض فوج کو سنگین جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔

ترجمان نے کہاکہ 29 اکتوبرکو خاران کے علاقے پتکن میں واقع قابض فوج کے مرکزی کیمپ کو “قہر (QAHR)” نے گائیڈڈ ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے دشمن کے مارٹر پِٹ سمیت مختلف دفاعی پوزیشنوں پر کامیابی سے 5 ڈرون حملے کیئے، جن کے نتیجے میں دشمن کے 2 اہلکار موقع پر ہلاک اور مزید 3 شدید زخمی ہوگئے، جبکہ کیمپ میں موجود عسکری و دفاعی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔

بیان میں کہاکہ 30 اکتوبر کو قلات کے علاقے رودینجو میں مرکزی شاہراہ پر پیش قدمی کرنے والے قابض پاکستانی فوج کے قافلے پر “قہر (QAHR)” نے تباہ کن ڈرون حملے کیئے۔ دشمن پر 3 پے در پے ڈرون بمباری کے فوری بعد، شاہراہ پر پہلے سے موجود بی ایل اے کے زمینی دستے نے حواس باختہ دشمن پر گھات لگا کر مسلح حملہ کیا۔ ان مربوط ڈرون و زمینی حملوں کے نتیجے میں قابض فوج کے 5 اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ 2 فوجی گاڑیاں شدید تباہی کا شکار ہوئیں۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR – Qazi Aero Hive Rangers) کو تنظیم نے اپنے سینئر کمانڈر عبدالباسط زہری عرف قاضی کی فکری و تنظیمی میراث سے منسوب کرکے قائم کیا تھا، جس کے آپریشنل ہونے کا باضابطہ اعلان 12 فروری 2026 کو کیا گیا تھا۔ “قہر” یونٹ نے اپنے ابتدائی اور تاریخی آپریشنز ‘آپریشن ہیروف دوم’ کے دوران انتہائی کامیابی کے ساتھ سرانجام دیئے تھے، جن میں گوادر پورٹ کی حساس عسکری و بندرگاہی تنصیبات پر کیئے گئے منظم ڈرون حملے سب سے نمایاں تھے۔ بی ایل اے کی یہ تکنیکی و فضائی پیش رفت گوریلا جنگ کو جدید سائنسی و تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا وہ تاریخی سنگِ میل ہے جو دشمن کی زمینی فورسز کے لیئے جنگی توازن بگاڑنے، ان کی صفوں میں خوف پھیلانے، اور فضا سے دشمن کے حساس مراکز کو نشانہ بنانے کی کامل صلاحیت فراہم کرتا ہے۔