نوشکی: فورسز کے ہاتھوں ایک شخص قتل، دو گرفتار

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پیرا ملٹری فورس ایف سی نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل جبکہ دو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوممقام منتقل کردیا ہے۔ فائرنگ سے قتل ہونے والے شخص کی شناخت نور اللہ ولد خالق داد سکنہ چمن کے نام سے ہوئی ہے۔ مقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد افغانستان سے سامان پاکستان منتقل کررہے تھے کہ فورسز نے فائرنگ کرکے ایک کوقتل جبکہ دو کو حراست میں لیا ہے۔ لواحقین کے مطابق کل رات مقتول کی لاش کو کوئٹہ میں لواحقین کے حوالے کیا گیا ہے، تاہم حکام کا موقف اس حوالے سے سامنے نہیںآیا ہے۔ خیال رہے بلوچستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان اور ایران سرحدوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ گذشتہ دنوں چاغی کے علاقے دالبندین میں ایف سی اہلکاروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس میں سوار ایک خاتون شدید زخمیہوئی۔ واقعہ کے بعد لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے فورسز کے خلاف نعرہ بازی کی جبکہ مشتعل افراد نے ایف سی کی ایک گاڑی کو آگ لگادی۔ اس دوران مظاہرین نے کی مبینہ تشدد سے ایک ایف سی اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔

وی بی ایم پی کا احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4684 دن مکمل ہوگئے، بی ایس او پجار کے چیرمین زبیر بلوچ، ثنا بلوچ اور بلال...

پاکستانی وزیراعظم کا دورہ گوادر، دو نوجوان لاپتہ

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے پاکستانی فورسز نے نوجوان طالب علم سمیت دو افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔

کوئٹہ: میڈیکل اسٹوڈنٹ الائنس کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

بلوچستان میڈیکل کالج اسٹوڈنٹس الائنس کا مطالبات کے حق میں احتجاج کا سلسلہ جاری، طلباء کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

کراچی پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کیلئے احتجاج

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھےہیں۔  احتجاجی کیمپ میں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے شریک ہیں ان لاپتہ افراد کو بلوچستان اور سندھ کےمختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔  بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ نے ہفتہ کے روز کراچی پریس کلب کے باہر لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سےلگائے جانے والے احتجاجی کیمپ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کراچی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد ایک پرامن اورجمہوری تحریک ہے لاپتہ افراد کے لواحقین قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر بلوچ لاپتہ افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف تحریکچلارہے ہیں حکومت اور اس کے ادارے قانون کا احترام کرکے لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کریں۔ آمنہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جمہوری جدوجہد کا احترام کیا جائے اور قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر سندھ میں لاپتہافراد کی بازیابی کو یقینی بنائیں اور ہماری جمہوری اور قانونی تحریک کو دبانے کے لئے طاقت کا استعمال نہ کریں۔  انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ماورائے قانون کے مرتکب ہورہے ہیں جس سے سندھ میں بھی انسانی حقوق کی پامالیہورہی ہے۔ اس وقت بے شمار افراد سی ٹی ڈی اور وفاقی اداروں کے قید میں ہیں وہ بے گناہ ہیں۔

بلوچستان: جبری گمشدگی کے شکار پانچ افراد بازیاب

بلوچستان سے مختلف اوقات میں جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے پانچ افراد بازیاب ہوگئے ہیں- بازیاب افراد کو مختلف اوقات میںحراست بعد لاپتہ کردیا گیا تھا- تفصیلات کے مطابق ‏رواں سال 25 اپریل کو آبسر تربت سے  جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے طالب علم کلیم شریف اور 23 اپریلکو گومازی سے فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے یوسف اکبر منظر عام پر آگئے ہیں- دونوں نوجوانوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے ہے اور گزشتہ روز بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں- پنجگور سے اطلاعات کے مطابق لاپتہ راشد ولد واحد بخش آج بازیاب ہوگئے ہیں- راشد کی بازیابی کی تصدیق انکے قریبی ذرائع نےکی ہے- ادھر بلوچستان کے ضلع کیچ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مند گوبرد کے رہائشی لاپتہ دو نوجوان وسیم ولد سلیم اور وسیم ولد شوکتآج بازیاب ہوکر گھروں کو پہنچ گئے ہیں- اسی طرح رواں مہینے بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد کی تعداد 16 ہوگئی- اس سے قبل 21 جون کو بلوچستان سے مختلف اوقات میں جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے آٹھ افراد منظر عام پر آگئے تھے جنمیں سے چار افراد بازیاب ہوگئے تھیں تاہم چار افراد تاحال نوشکی سی ٹی ڈی کے تحویل میں ہیں کراچی سے جبری گمشدگی کےشکار تین افراد 23 جون کو بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں، جن میں علی ولد بخشی، اسرار ولد انورعمر اور نواز علی ولد ناصرشامل ہیں- نوشکی میں سی ٹی ڈی کے حوالے کئے گئے افراد میں پیرجان ولد سردو سکنہ ایرو، پسند علی ولد چار شمبے سکنہ کساک بلیدہ،عبدالصمد ولد رحیم بخش سکنہ ایریکان، پھلان حان ولد خدا بخش شامل ہیں -تاہم پولیس کی جانب سے ان افراد پر عائد کئے گئےکسی بھی طرح کی کیس کی تفصیلات میڈیا کو فراہم نہیں کئے گئے ہیں-

پانی کا مسئلہ، گوادر کے رہائشی ایک بار پھر احتجاج پر مجبور

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پانی کی قلت بدستور جاری عوام کا احتجاج تفصیلات کے مطابق گوادر کے علاقے دربیلا میں پانی بحران...

کوئٹہ: وی بی ایم پی کا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کوئٹہ میں قائم طویل بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4683 دن مکمل ہوگئے، پشتونخوا میپ کے مرکزی عہدیدار قادر آغا،...

پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ گوادر، لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں جمعہ کے روز پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ کے موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر سراپا احتجاج...

شہید ساجد عرف سگار اور شہید ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بی...

بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 19جون 2022 بروز اتوار کو پنجگور کے علاقےپروم انجیر کوہ کے مقام پر ہمارے اور ساتھی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچار  معمول کی گشت پر تھے کہ ان کا سامناقابض پاکستانی فوج اور ان کے زرخرید ڈیتھ اسکواڈ کارندوں سے ہوا جس سے ایک طویل جھڑپ کا آغاز ہوگیا۔ اس طویل اور خونیجھڑپ میں قابض فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ کارندوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور وطن کی دفاع میں سرمچار ساجدبلوچ عرف سگار سمیت ساتھی تنظیم بی ایل ایف کے پانچ ساتھی سرمچاروں کیپٹن ظہورحمل عرف بالی، اکبر عرف حمل، سکینڈلیفٹیننٹ ساجد محمود عرف سمیر، صابرقادر عرف تاھیر ، عطا عرف ناصر نے جام شہادت نوش کی۔  انہوں نے کہا کہ شہید ساجد جان عرف سگار ولد حسین سکنہ چتکان پنجگور گزشتہ دو سالوں سے بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے  پلیٹفارم سے مسلح جد وجہد سے وابستہ تھے۔ وہ ایک بہادر و جفاکش سرمچار تھے اور بلوچستان کی آزادی کےلیے دشمن کے خلافمسلح سرگرمیوں میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے رہے اور آخری سانس و خون کے آخری قطرے تک دشمن کےخلاف لڑتے رہے۔  ترجمان نے کہا کہ بلوچ نیشنلسٹ آرمی ساجدبلوچ عرف سگار اور ساتھی شہید سرمچاروں کو خراج عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتیہے۔ اس عزم کو دہراتے ہیں کہ قابض کے خلاف آخری گولی اور آخری سرمچار تک ہماری مسلح کاروائیاں مزید تیزی کے ساتھ جاریرہیں گے۔

تازہ ترین

عالمی برادری بلوچستان پر پاکستانی مظالم کا نوٹس لے – بی این ایم جرمنی...

بلوچ نیشنل موومنٹ کی طرف سے کیے گئے ایک مظاہرے میں شرکاء نے مطالبہ  کیا ہے کہ عالمی برادری بلوچستان پر پاکستان کےمظالم کا...

ریاستی ادارے منشیات فروشی میں ملوث ہیں – منشیات کے عالمی دن بلوچستان میں...

انسداد منشیات کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی، ساحلی شہر گوادر، تربت، پنجگور اور دیگر علاقوں...

جیکب آباد میں سندھ رینجر پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی...

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جیکب آباد میں پاکستانی رینجر پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی...

کراچی: جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاج دوسرے روز جاری رہا

بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے بھوک ہڑتالی کیمپ دوسرے روز بھی کراچی پریس کلب کے سامنے جاری رہا- کراچی سے جبری...

مکران یونیورسٹی میں متنازع کردار وائس چانسلر کی تعیناتی قبول نہیں-طلباء و سیاسی تنظیموں...

مبینہ طور پر جامعہ بلوچستان اسکینڈل میں ملوث وائس چانسلر کے مکران یونیورسٹی میں تعیناتی پر طلباء و سیاسی تنظیم کا احتجاج،...