پانچ مختلف کارروائیوں میں ایک کیپٹن اور ایس ایس جی کمانڈوز سمیت 10 فوجی اہلکار ہلاک۔ میجر گہرام بلوچ

52

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 20 جولائی 2026 کو چاغی کے علاقے دالبندین شہر میں ڈھڈّر کے مقام پر ایکسائز کی چوکی پر قبضہ کر کے تین کارندوں کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے ایک نائن ایم ایم پسٹل اور دو سرکاری گاڑیاں تحویل میں لے لیں۔
محکمہ ایکسائز کی یہ چوکی کوئٹہ-تفتان مرکزی شاہراہ پر بھتہ وصولی کے لیے عارضی طور پر قائم کی گئی تھی، جہاں عام بلوچ عوام اور شاہراہ پر نقل و حمل کرنے والوں سے ٹیکس کے نام پر بلمقاطع بھتہ وصول کیا جا رہا تھا، جو عوام کے معاشی استحصال کا ایک اور قبیح عمل تھا۔
حراست میں لیے گئے اہلکاروں کو تنظیمی اصولوں کے تحت تنبیہ کر کے اس شرط پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ آئندہ کسی بھی ایسے عوام دشمن عمل کا حصہ بننے اور قابض کے آلہ کار کے طور پر بلوچ عوام کو نقصان پہنچانے سے مکمل گریز کریں گے۔ بی ایل ایف یہ واضح کرتی ہے کہ عوام کی تذلیل اور استحصال میں ملوث کسی بھی عنصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 18 جولائی 2026 کو زامران کے علاقے زامری تیر کیک میں قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 16 جولائی 2026 کو سوراب کے علاقے دمب میں قابض فوج فرنٹیر کور (ایف سی) کے مرکزی کیمپ اور بیرونی حفاظتی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے راکٹوں، بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ کارروائی کے آغاز میں ہی سرمچاروں نے کیمپ کے بیرونی احاطے میں موجود قابض فوج کے ایک فوجی کیپٹن اور دو ایس ایس جی کمانڈوز سمیت چھ اہلکاروں پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔
اس کارروائی کے دوران چوکی پر تعینات دیگر اہلکاروں نے سرمچاروں پر فائرنگ کی، جبکہ کیمپ کے اندر سے سرمچاروں کے پوزیشنز پر مارٹر کے متعدد گولے داغے گئے۔ مستعد سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے چوکی میں موجود ایک اور اہلکار کو اسنائپر رائفل سے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر ایک فوجی کیپٹن اور دو ایس ایس جی کمانڈوز سمیت دشمن کے 7 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 15 جولائی 2026 کی صبح 6 بج کر 40 منٹ پر قابض پاکستانی فوج نے نام نہاد امن فورسز کے نام پر قائم اپنے مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے ہمراہ موسیٰ خیل کے علاقے کینگری میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں کے ایک گشتی کیمپ کو گھیرنے اور محاصرے میں لینے کی ناکام کوشش کی۔ کیمپ میں موجود مستعد سرمچاروں نے اپنی جنگی مہارت اور گوریلا حکمتِ عملی سے دشمن کو پیش قدمی کا موقع دیے بغیر پہلے ان پر حملہ کر دیا اور پھر اپنی مستحکم دفاعی سنگریں سنبھال لیں۔
اس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور قابض فوج و ڈیتھ اسکواڈ کے گماشتوں کے ساتھ یہ آمنے سامنے کی جھڑپ مسلسل چار گھنٹے تک جاری رہی۔ اس پوری کارروائی کے دوران سرمچاروں کی مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں قابض پاکستانی فوج کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد فوجی اہلکار اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے زخمی ہوئے۔
زمینی محاذ پر پسپائی اور جانی نقصان اٹھانے کے بعد دشمن نے فضائی قوت کا سہارا لیا۔ دشمن کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے جائے وقوعہ اور قریبی پہاڑی سلسلے پر تقریباً چھ گھنٹے تک اندھا دھند شیلنگ اور شدید بمباری کی، جبکہ شکست خوردہ زمینی فوج نے پورے پہاڑی علاقے کو نشانہ بناتے ہوئے مارٹر کے متعدد گولے بھی فائر کیے۔
دشمن کی اس شدید فضائی بمباری، مارٹر داغنے اور وسیع محاصرے کے باوجود، بلوچستان لبریشن فرنٹ کے تمام سرمچار اپنی جنگی مہارت اور کامیاب حکمتِ عملی کے تحت کسی بھی قسم کے جانی و مالی نقصان کے بغیر، بحفاظت دشمن کا گھیرا توڑ کر نکلنے میں کامیاب رہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 15 جولائی 2026 کو چاغی کے علاقے پدگ بادین میں سیندک پروجیکٹ سے منسلک تیل لے جانے والے ٹینکرز پر فائرنگ کر کے انہیں نقصان پہنچایا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ چاغی، زامران، موسیٰ خیل اور سوراب میں قابض فوج پر حملوں میں کیپٹن اور ایس ایس جی کمانڈوز سمیت 10 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔