خیبرپختونخوا پولیس نے ہفتے کو بتایا ہے کہ کوہاٹ کی پولیس لائنز میں جمعے کو مسجد میں خودکش دھماکے کے بعد حملہ آوروں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 16 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
گذشتہ روز نماز جمعہ کے وقت کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش حملے کے بعد مسلح حملہ آور پولیس لائنز میں داخل ہوئے، جس کے بعد مسلح جھڑپوں کا آغاز ہوا۔
پولیس کا یہ کمپاؤنڈ ضلعی سطح کے پولیس ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، سپیشل برانچ اور پولیس کے کئی دیگر یونٹس کے اہم دفاتر واقع ہیں۔
ہفتے کو پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے رات بھر جاری رہنے والی کارروائی کے بعد پولیس لائنز کی عمارت کے اہم حصے کلیئر کر لیے ہیں۔
پولیس کے مطابق: ’کارروائی کے دوران مجموعی طور پر آٹھ دہشت گرد جان سے گئے۔‘
ایک پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’عسکریت پسندوں کے حملے اور خودکش دھماکے میں اب تک 16 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 31 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔‘
جمعے کی رات گئے کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ واقعے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بڑی اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے اور کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔
اتحاد المجاہدین پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔



















































