شہید تابش وسیم زہری — جس کے قلم سے وجود کو خطرہ تھا – زرنور بلوچ

0

شہید تابش وسیم زہری — جس کے قلم سے وجود کو خطرہ تھا

تحریر: زِرنود بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ شاعر صرف شعر نہیں لکھتے، وہ اپنے عہد کی گواہی لکھتے ہیں۔ کچھ قلم صرف کاغذ پر نہیں چلتے، بلکہ خاموشی کے سینے پر لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ تابش بھی ایسا ہی شاعر تھا۔ زہری کی سرزمین سے اٹھنے والی ایک ایسی آواز، جس کے لفظوں میں وطن کی محبت، آزادی کا خواب، مزاحمت کی روح اور انقلاب کی تڑپ موجود تھی

اس کی شاعری میں نفرت نہیں تھی۔ اس میں درد تھا، لاپتہ بھائیوں کی یاد تھی، بے گھر ماؤں کے آنسو تھے، اور ایک زخمی وطن کی چیخ تھی۔ اس نے لکھا کہ ہم بے گھر ہیں اور ہمارے بھائی لاپتہ ہیں۔ یہ الفاظ اتنے طاقتور تھے کہ انہیں برداشت نہیں کیا جا سکا۔
پھر وہ رات آئی۔ تابش وسیم کو اٹھا لیا گیا۔ ڈیڑھ سال سے زیادہ گمنام قید خانوں میں رکھا گیا۔ تشدد کیا گیا۔ اور آخر میں اسے “مقابلے” کا بہانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔

تابش وسیم کا جرم صرف شاعری تھی۔ اس کے الفاظ ایٹم بم نہیں تھے، کیمیائی ہتھیار نہیں تھے۔ مگر ریاست کو یہ الفاظ چبھتے تھے۔ کیونکہ قلم نے بندوق کو چیلنج کر دیا تھا۔ اس کی شاعری ان تمام لاپتہ بلوچوں؛ راشد، ذاکر، زاہد، شبیر، حیات، دین محمد، کی آواز بن گئی تھی جنہیں خاموش کر دیا گیا تھا۔

ایک مختصر مگر انتہائی گہری سطر آج بھی اس کے کردار اور فکر کی عکاسی کرتی ہے:

“میرے قلم، میرے وجود کو خطرہ ہے۔۔۔!!!”

یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ جیسے آنے والے وقت کی ایک پیش گوئی تھی۔ ایک شاعر جو جانتا تھا کہ اس کے الفاظ معمولی الفاظ نہیں؛ وہ سوال بن سکتے ہیں، آواز بن سکتے ہیں اور خاموشی کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔

مگر تابش کے لیے موت اس کے قلم کا اختتام نہیں تھی۔

اس کا وجود ختم ہوا، مگر اس کے لفظ باقی رہے۔
اس کی آواز چھین لی گئی، مگر اس کی شاعری باقی رہی۔
اس کا قلم خاموش ہوا، مگر اس کے لکھے ہوئے لفظ آج بھی سوال کرتے ہیں۔

اور شاید اسی لیے اس کی وہ سطر آج پہلے سے کہیں زیادہ معنی رکھتی ہے:

“میرے قلم، میرے وجود کو خطرہ ہے۔۔۔!!!”

کیونکہ تاریخ گواہ ہے
قلم کو مٹانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، مگر قلم سے پیدا ہونے والے خیال کو نہیں۔
شاعر کو خاموش کیا جا سکتا ہے، مگر اس کی شاعری کو نہیں۔

تابش کی زندگی مختصر تھی، مگر اس کے لفظ مختصر نہیں۔
اس کا سفر ختم ہوا، مگر اس کی شاعری کا سفر جاری ہے۔
اس کی آواز خاموش ہوئی، مگر اس کے اشعار آج بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔

اور شاید شاعر کے لیے اس سے بڑی زندگی کوئی نہیں کہ:

اس کے جانے کے بعد بھی اس کے لفظ زندہ رہیں۔

تابش چلا گیا، مگر اس کا قلم اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ گیا اور کچھ سوال وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے، بلکہ ہر آنے والی نسل کے سامنے دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس کی شاعری میں جو مزاحمت، آزادی اور انقلاب کی گونج سنائی دیتی تھی، وہی جذبہ اس کی سیاسی جدوجہد میں بھی نظر آتا تھا۔ وہ قلم کو اپنا ہتھیار سمجھتا تھا اور طلبہ کی سیاسی جدوجہد کو اپنے نظریات کے اظہار کا ایک میدان۔

تابش کی شخصیت کا ایک اہم پہلو اس کی طالب علم سیاست سے وابستگی تھا۔ وہ ان نوجوانوں میں شامل تھا جو سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی اور تعلیمی ادارے صرف کتابیں پڑھنے کی جگہیں نہیں بلکہ شعور، سوال اور اجتماعی فکر کی تشکیل کے مراکز بھی ہیں۔ اس کے لیے طالب علم سیاست محض تنظیمی سرگرمی یا کسی عہدے کا نام نہیں تھی؛ یہ اپنے معاشرے کے مسائل کو سمجھنے، اپنے ساتھی طلبہ کی آواز بننے اور اپنے نظریات کو عملی زندگی میں پیش کرنے کا راستہ تھی۔

اس کی سیاست میں اس کے شاعر کا دل اور اس کے شاعر میں اس کی سیاسی بصیرت موجود تھی۔ وہ جو بات شعر میں کہتا تھا، اسی فکر کو سیاسی شعور میں بھی زندہ رکھتا تھا۔ اس کا قلم سوال اٹھاتا تھا اور اس کی سیاسی وابستگی ان سوالات کو اجتماعی گفتگو کا حصہ بناتی تھی۔

تابش کی مزاحمتی شاعری کو اگر غور سے پڑھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ اپنے گرد موجود حالات کو سمجھنے کی ایک کوشش تھی۔ اس کے الفاظ میں آزادی کی خواہش، جبر کے خلاف سوال، اور اپنی شناخت و سرزمین سے وابستگی نمایاں تھی۔ یہی فکری کیفیت اسے طالب علم سیاست کی طرف بھی لے گئی، جہاں نوجوان نسل اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھاتی ہے۔

وہ ان نوجوانوں کی نمائندگی کرتا تھا جو خاموش رہنے کو آسان راستہ تو سمجھ سکتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ اسے اپنا راستہ بھی مانیں۔ تابش کے لیے سوال کرنا، سوچنا، لکھنا اور اپنی بات کہنا اس کے شعور کا حصہ تھا۔ اس کا قلم نوجوان ذہنوں میں سوال پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، اور اس کی سیاسی وابستگی اس بات کی علامت تھی کہ وہ اپنے خیالات کو صرف صفحات تک محدود رکھنے کے بجائے اجتماعی زندگی میں بھی دیکھنا چاہتا تھا۔

تابش کی داستان صرف ایک شاعر اور طالب علم سیاسی کارکن کی داستان نہیں، بلکہ ایک ایسے خاندان کی داستان بھی ہے جس نے اپنے ایک عزیز کو اپنی آنکھوں کے سامنے چھینتے ہوئے دیکھا اور پھر اس کی واپسی ایک ایسی خبر کی صورت میں ہوئی جسے کوئی باپ، کوئی ماں، کوئی بہن اور کوئی خاندان آسانی سے برداشت نہیں کر سکتا۔

بتایا جاتا ہے کہ تابش کو اس کے بیمار والد کے سامنے اٹھایا گیا۔ ایک بیمار باپ کے لیے اس سے بڑھ کر بے بسی کا لمحہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا بیٹا اس سے جدا کر دیا جائے، مگر وہ اسے روک نہ سکے۔ اس لمحے میں ایک باپ کے دل پر کیا گزری ہوگی، اس کا اندازہ شاید وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کا ٹکڑا چھن جانے کا منظر دیکھا ہو۔ ایک باپ نے اپنے بیٹے کو زندہ اپنی آنکھوں سے جاتے دیکھا، اور پھر اسی بیٹے کو اس حالت میں واپس پایا جس کا تصور بھی ایک باپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔

اسی سلسلے میں اس کے کزن لیاقت وسیم کو بھی اٹھائے جانے کی بات سامنے آتی ہے۔ تقریباً دو سال بعد اس کی بازیابی ہوئی۔ ایک ہی خاندان کے دو نوجوانوں کے گرد ایسے واقعات کا سایہ اس خاندان کے لیے کس قدر بھاری رہا ہوگا، اسے صرف ایک خبر یا ایک مضمون میں سمیٹ دینا ممکن نہیں۔ لیاقت وسیم اپنی بازیابی کے بعد ڈرا نہیں بلکہ اسنے جوائن کیا اور اس ظالم ریاست کو دکھایا کے جتنی مرضی وہ ہمیں قید کرے ڈرائے لیکن بلوچ پیچھے ہٹنے والو میں سے نہیں ہے اور لیاقت وسیم نے ہیروف ۲ ماہ فدائی کر کے خود کو ہمیشہ کے لیے امر کر لیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔