سرمچار ایک نام نہیں – دلاور بلوچ

33

سرمچار ایک نام نہیں

تحریر: دلاور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

سرمچار بلوچستان کی مٹی کا بیٹا ہے۔ سرمچار اپنی زندگی کے ہر دن، ہر لمحہ اپنی قوم اور مظلوم بلوچوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ ہر رات سونے سے پہلے اپنی قوم کی غلامی اور قابض سامراج کے بارے میں سوچتا ہے۔ ہر بلوچ سرمچار یہ سوچ کر اپنی زندگی کے عیش و آرام بلوچ قوم کے کل کے لیے قربان کرتا ہے کہ بلوچ عوام، بلوچ قوم اپنی باقی کی زندگی اس غلامی سے آزاد ہو کر جیئے اور آنے والی ہر بلوچ نسل اپنی زندگی کو آزادانہ طور پر گزارے۔ بلوچ سرمچار قبیلے یا نسل سے بالاتر ہو کر آزادی کے نظریے کا فرزند ہے۔ جب ایک سرمچار جدوجہد کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے عیش و آرام کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ ہر سرمچار کے لیے ایک ہی چیز معنی رکھتی ہے: بلوچ قوم کی عزت، بلوچستان کی آزادی، اور قابض سامراج کو اپنی سرزمین سے دور کرنا، اپنی سرزمین کو آزاد کرنا۔

سرمچار کی زندگی

سرمچار آزاد انسان کی علامت ہے۔ سرمچار کی زندگی خاموشی میں گزرتی ہے۔ ایک سرمچار بے نام ہو کر اپنی زندگی گزارتا ہے۔ سرمچار بننا آسان نہیں۔ ایک سرمچار اپنی زندگی کے ہر وقت مشکل سے گزارتا ہے۔ وہ دسمبر کے مہینے میں برفیلی پہاڑوں سے ہوتے ہوئے، جولائی کے تپتی ہوئی دھوپ اور گرمی کے دنوں اور اونچے پہاڑوں سے سفر کر کے، تھوڑی سی خشک روٹی اپنی ہمیل میں رکھ کر، خود کی زندگی کو اس لیے تکلیف دہ بناتا ہے تاکہ میری قوم کو اس ریاست سے آزادانہ زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ ہر سرمچار کے بدن پر پھٹے ہوئے کپڑے ہوتے ہیں، مگر اس کے دل میں محبت بھری ہے: محبت وطن سے، محبت عوام سے، محبت ایک آزاد کل سے۔ لیکن ہر سرمچار یہ بھی جانتا ہے کہ اس کی زندگی میں شہادت بھی ہو سکتی ہے، مگر وہ ان سب کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی اپنی قوم کے کل کی آزادی کے لیے قربان کرتا ہے۔ اس کا کھانا کم، نیند مختصر، مگر روح بلند اور شعلہ‌ور ہوتی ہے۔ سرمچار کا گھر پہاڑوں کے پتھر ہیں، مگر اس کا دل بلوچستان کے سمندر اور میدان ہیں۔

سرمچار کی قربانی کا مقصد

ہر سرمچار اپنی زندگی کے عیش و آرام چھوڑ کر اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی قوم اپنی باقی کی زندگی آزادی سے گزار سکے۔
جب دوسرے اپنے کل کی فکر میں ہوتے ہیں، تو ایک سرمچار جان ہتھیلی پر رکھ کر بلوچستان کے مستقبل کی فکر کرتا ہے اور خود کی زندگی اس قوم کے نام کرتا ہے۔ سرمچار کا مقصد طاقت یا حکومت نہیں، بلکہ ایک آزاد بلوچستان اور اس میں آزاد بلوچ قوم، اور اس قوم کو قابض ریاست پاکستان اور ایران سے آزاد کرنا اور ان کے ظلم و جبر سے آزاد کرنا ایک سرمچار کا مقصد ہوتا ہے۔ سرمچار تاریخ کا وہ خاموش ہیرو ہے جس کا خون کل کی آزادی کا مرکب بنتا ہے۔

سرمچار کے آخری الفاظ

ایک سرمچار کی زندگی اس کی زندگی کے ہر آخری دن ہوتی ہے، مگر وہ یہ سب جانتے ہوئے بھی اپنی زندگی اس امید سے گزارتا ہے کہ میرے جانے کے بعد ہر بلوچ ایک سرمچار بن کر اس سرزمین کی حفاظت کرے گا اور بلوچستان ایک دن ایک آزاد ریاست بن کر دنیا کے نقشے میں پھر سے ایک آزاد ملک ہوگا۔ ہر سرمچار اپنی آخری الفاظ میں یہ کہہ کر خود کو قربان کرتا ہے کہ اس کی شہادت اور یاد بلوچستان کی پہاڑوں میں ہمیشہ کے لیے آواز بن کر رہے گی اور آنے والا ہر بلوچ اس سرمچار کو اپنا ہیرو سمجھ کر اس کی مثال بنائے گا۔ ہر سرمچار اپنی آخری الفاظ میں یہ کہہ کر خود کو قربان کرتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد اس کی قوم اس کی جگہ آ کر بلوچستان کو ایک آزاد ملک بنانے کا خواب پورا کرے گی۔

سرمچار کا زیور

سرمچار کا زیور اس کی بندوق اور اس میں کچھ گولیاں اور ایک پانی کا ڈبہ ہوتا ہے، مگر اس کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اور ان کو ایک سرمچار اپنا زیور سمجھ کر ان کا خیال خود سے زیادہ کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی جان اور آس اس کی بندوق، اس میں گولیاں اور پانی کا ڈبہ ہوتا ہے۔ ان سب کی حفاظت کر کے ایک اونچے پہاڑ میں اپنی زندگی گزارتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔