11 کارروائیوں میں 12 سے زائد فوجی اہلکار ہلاک، پولیس تھانہ، فائبر آپٹکس اور مواصلاتی ٹاور نذرِ آتش، 3 قومی مجرموں و آلہ کاروں کو سزائے موت: میجر گہرام بلوچ

53

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 9 ستمبر 2026 کو چاغی کے علاقے برامچہ میں تلاران پولیس تھانے پر حملہ کر کے اسے مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا اور وہاں موجود تمام پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کا سرکاری اسلحہ، دیگر حربی سامان اور 1 گاڑی قبضے میں ضبط کر لی۔ سرمچاروں نے تھانے کی عمارت اور تمام ریکارڈ کو نذرِ آتش کر دیا۔ بعد ازاں حراست میں لیے گئے پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کرکے بلوچیت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باحفاظت رہا کر دیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ اسی روز سرمچاروں نے سوراب کے علاقے گدر میں گریڈ اسٹیشن کے قریب قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو پیشگی گھات لگا کر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کےنشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے آواران کے علاقے پیراندر، حمل بازار میں گڑوپ کے مقام پر قابض فوج کی ایک پیکٹ چوکی پر خفیہ طریقے سےایک آئی ای ڈی بم نصب کر رکھا تھا۔ 7 ستمبر 2026 کو جب فوجی اہلکار پیکٹ پر پہنچے تو سرمچاروں نے دھماکہ کر کے انہیں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی روز سرمچاروں نے چاغی کے علاقے پدگ میں واقع راسکوہ ایٹمی سائٹ کے فائبر آپٹکس اسٹیشن پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کر دیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود تمام اہم مشینری اور آلات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ 4 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے نوغے میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر مغلی کراس کے مقام پر گھات لگا کر قابض فوج کے ایک قافلے پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ قافلے میں شامل 1 فوجی گاڑی مکمل طور پر حملے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں گاڑی پر سوار 6 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ دیگر گاڑیوں کو راکٹ لانچرز اور جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد دیگر اہلکار  بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد دشمن کا قافلہ منتشر ہو گیا اور کئی گھنٹوں تک ہلاک اہلکاروں کی لاشیں جائے وقوعہ پر پڑی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز سرمچاروں نے خضدار کے علاقے نوغے میں بابل ہوٹل کے قریب گرفتار قومی مجرم رحمت اللہ ولد حاجی محمد نور ساکن توتک، گہورو خضدار کو فائرنگ کر کے اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔ مذکورہ مجرم کو سرمچاروں نے 28 اگست 2026 کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے کیمپ پر حملے کے دوران زندہ گرفتار کیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ دورانِ تفتیش قومی مجرم رحمت اللہ نے شفیق مینگل کے کیمپ میں ہونے والی تمام مجرمانہ سرگرمیوں کا اعتراف کیا اور انکشاف کیا کہ مذہبی شدت پسند تنظیم داعش کے کارندوں کو اسی کیمپ میں جمع کیا جاتا ہے، جس کے بعد قابض فوج کی سرپرستی میں انہیں بلوچستان میں قائم دیگر کیمپوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ مجرم کے اعترافی بیان اور اس کے خلاف موجود دیگر مستند شواہد کی بنیاد پر تنظیمی عدالت کی جانب سے اسے سزائے موت سنائی گئی، جس پر 4 ستمبر کو عمل درآمد کیا گیا۔ مجرم سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں تنظیم مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 3 ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے رخشان کے علاقے گورگی میں قابض فوج کی جانب سے جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے والے یوفون کے مواصلاتی ٹاور کو اس کی تمام مشینری اور آلات سمیت نذرِ آتش کر کے ناکارہ بنا دیا۔

ترجمان نے کہا کہ یکم ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے آواران کے علاقے کولواہ میں کنیچی اور اوٹان کے درمیانی علاقے میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو سیکیورٹی فراہم کرنے والی پیدل گشتی ٹیم پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 2 فوجی اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ 30 اگست 2026 کو سرمچاروں نے تمپ کے علاقے نظرآباد میں منحرف سرمچار سجاد عرف تاج ولد نذیر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد قومی تحریک کے خلاف مخبری کرنے، تنظیم سے وابستہ افراد کے خاندانوں کی معلومات دشمن کو فراہم کرنے، لوگوں کو قابض فوج کے آگے تسلیم ہونے پر مجبور کرنے اور علاقے میں چوری، ڈکیتی و بھتہ خوری جیسے سماجی جرائم میں براہِ راست ملوث تھا۔ گرفتاری کے دوران مذکورہ شخص نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر سرمچاروں فائرنگ کرکے اسے ہلاک کردیا۔

ترجمان نے کہا کہ 28 اگست 2026 کو کوئٹہ میں بی ایل ایف کے سرمچار معمول کے گشت پر تھے کہ کسٹم آفس کے قریب پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں 1 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف پولیس اہلکاروں کو سختی سے تنبیہ کرتی ہے کہ وہ سرمچاروں کی راہ میں رکاوٹ بننے یا ان پر حملہ آور ہونے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر انہیں قابض فوج کی سہولت کار کے طور پر دیکھا جائے گا اور ان کے ساتھ بھی قابض پاکستانی فوج جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ 15 اگست 2026 کو سرمچاروں نے بارکھان کے علاقے دو سڑکہ سے ریاستی آلہ کار ذوالفقار امیر بزدار ساکن لونی، ڈوکی کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ بلوچ سرمچاروں کے کیمپ کی جانب ٹریکنگ چپ نصب شدہ موٹر سائیکل پہنچا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دورانِ تفتیش مذکورہ شخص نے اعتراف کیا کہ وہ قابض ریاست کے لیے جاسوسی کر رہا تھا اور اس کا رابطہ فوج سے مجید زرگون نے کروایا تھا۔ وہ لورالائی کیمپ کے میجر موسیٰ خان سے براہِ راست رابطے میں تھا، اور اسی کے کہنے پر اس نے 50 ہزار روپے کے عوض 20 جولائی 2026 کو موٹر سائیکل میں جی پی ایس چپ نصب کر کے رکھنی کیمپ پہنچائی تھی، جبکہ وہ سرمچاروں کے کیمپوں کی معلومات اور فون نمبر بھی قابض فوج کو فراہم کرتا رہا تھا۔ 14 روز تک جاری رہنے والی تفتیش کے بعد جرم ثابت ہونے پر تنظیمی عدالت کے فیصلے کے تحت 29 اگست 2026 کو ناکامئی کراس نزد دو سڑکہ پر اسے سزائے موت دے کر منطقی انجام تک پہنچا دیا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مذکورہ بالا تمام کارروائیوں میں قابض  پاکستانی فوج اور پولیس کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات، مواصلاتی تنصیبات کی تباہی اور قومی مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک قابض دشمن کے خلاف ہماری جدوجہد تمام تر قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔