افغانستان کے دارالحکومت کابل سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی متواتر درخواست و گذارشوں کے بعد ترکی اور قطر کے انٹیلیجنس سربراہان نے کابل کا دورہ کیا۔
کابل دورے کا مقصد افغانستان کے تجارتی راستوں کی بندش سمیت دیگر متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کابل سے موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق ترک و قطر حکام نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود کشیدگی کے خاتمے، باہمی مذاکرات اور تجارتی راستوں کی بحالی سے متعلق صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے اہم تجارتی راستے طویل عرصے سے متاثر ہیں۔
حالیہ مہینوں میں افغانستان نے پاکستان پر تجارتی انحصار کم کرنے اور ایران و وسطی ایشیا کے راستوں کے ذریعے متبادل تجارتی راہداریوں کو فروغ دینے کی کوششیں بھی تیز کی ہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان داخلی طور شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے، ہندوستان و افغانستان سے تجارت کی بندش کے بعد بلوچستان کے راستے ایران کے تجارت پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے “معاشی ناکہ بندی” کے تحت پابندی لگا دی ہے ۔


















































