16 جولائی کے مستونگ حملے میں قابض فوج کے 3 افسران سمیت 62 اہلکار ہلاک کیئے گئے – بی ایل اے

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے ہراول دستے فتح اسکواڈ کی قیادت میں دیگر یونٹس نے 16 جولائی بروز جمعرات کو مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں قابض پاکستانی فوج کے ایک بڑے قافلے، اس کے حفاظتی دستوں اور بعد ازاں موقع پر پہنچنے والی عسکری کمک پر تین مختلف مقامات پر مربوط، منظم اور انتہائی شدید نوعیت کے حملے کیئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں قابض فوج کے 3 افسران سمیت مجموعی طور پر 62 اہلکار موقع پر ہلاک اور بڑی تعداد میں شدید زخمی ہوگئے۔ اس شدید ترین معرکے اور دشمن کی جانب سے بھیجی گئی بھاری فضائی قوت کی موجودگی میں دو دنوں تک جاری رہنے والی خونریز جنگ کے بعد تمام دستے اپنے اہداف حاصل کرکے باحفاظت اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئے۔

ترجمان نے کہا کہ  جمعرات کی دوپہر تقریباً ۱۲ بجے، کوئٹہ سے پنجگور کی جانب پیش قدمی کرنے والے قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو بی ایل اے کے سرمچاروں نے “زراب” کی پیشگی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ یہ قافلہ ۱۸ بسوں اور درجنوں سیکیورٹی گاڑیوں پر مشتمل تھا، جس میں قابض فوج کی ۹۱ ونگ، ۱۶۴ ونگ، ۵۹ ونگ، پنجگور رائفلز، مکران اسکاؤٹس اور دشت اسکاؤٹس سمیت مختلف عسکری ونگز کے ۵۵۰ سے زائد مسلح اہلکار سوار تھے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے ہراول دستے “فتح اسکواڈ” نے کھڈکوچہ کے مقام “گُرو” پر قافلے کے اگلے حصے اور اس کی مرکزی حفاظتی گاڑیوں پر خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے اچانک حملہ کیا۔ سرمچاروں کے اس حملے میں قابض فوج کی ۴ بسیں براہِ رأست زد میں آئیں، جن میں سے ایک بس مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ کر جل کر خاکستر ہوگئی اور اس میں سوار تمام اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ اسی اثناء میں سرمچاروں نے قابض فوج کے افسران کی ایک خصوصی گاڑی کو بھی نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کردیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود ۳ اعلیٰ افسران موقع پر ہلاک ہوگئے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سرمچاروں کے دیگر دستوں نے انتہائی مہارت سے قافلے کی سیکیورٹی پر مامور بقیہ گاڑیوں کو گھیراؤ میں لے کر ان کی پیش قدمی کو مکمل طور پر مفلوج کردیا، جس سے دشمن کا دفاعی حصار درہم برہم ہو گیا۔ حملے کے فوراً بعد جب قابض فوج نے آس پاس کے کیمپوں سے اضافی کمک روانہ کرنے کی کوشش کی، تو پہلے سے پوزیشنز سنبھالے ہوئے سرمچاروں نے ان کی پیش قدمی کو دو مزید مختلف مقامات پر گھات لگا کر روکا اور ان پر تابڑ توڑ حملے کیئے۔ پے در پے ہونے والے ان حملوں کے باعث دشمن فورسز کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہ مل سکا اور پورا علاقہ کئی گھنٹوں تک دھماکوں کی آوازوں سے گونجتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ زمینی محاذ پر شدید بدحواسی اور بھاری جانی نقصان کے بعد قابض پاکستانی فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں، جنگی طیاروں، ڈرونز اور بھاری فضائی فورس کو میدان میں اتارا اور پورے علاقے کو محاصرے میں لینے کی ناکام کوشش کی، جس کے باعث یہ معرکہ متواتر دو شب وروز تک جاری رہا۔ دشمن نے جدید ترین فضائی وزمینی ٹیکنالوجی اور اندھا دھند بمباری کا بے دریغ استعمال کیا، جس سے عوامی مقامات، مسجد ومدارس متاثر ہوئے، مگر سرمچاروں نے اعلیٰ حکمتِ عملی، گوریلا جنگی مہارت اور جغرافیائی برتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام جوابی وار ناکام بنا دیئے اور اسے مزید جانی ومالی نقصان سے دوچار کیا۔ اس مہلک معرکے، مسلسل دو روز کی شدید جھڑپوں اور سنگین فضائی بمباری کے باوجود فتح اسکواڈ اور دیگر یونٹس کے تمام سرمچار مکمل طور پر محفوظ رہے اور اپنے آپریشنل اہداف کی کامیابی کے بعد باحفاظت اپنے طے شدہ کامبیٹ زونز میں منتقل ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ دو دنوں پر محیط اتنے وسيع معرکے، ۵۵۰ سے زائد اہلکاروں پر مشتمل قافلے کی تباہی اور دشمن کی تمام تر فضائی قوت کے باوجود ایک بھی سرمچار کا زخمی نہ ہونا بی ایل اے کی اعلیٰ ترین عسکری تربیت، بے مثال نظم وضبط اور زمین پر ناقابلِ تسخیر انٹیلی جنس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ فتح قابض پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے لیئے ایک واضح پیغام ہے کہ ان کی جدید ٹیکنالوجی، فضائی بمباری اور عددی برتری بلوچ سرمچاروں کے جغرافیائی علم اور قومی عزم کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہوچکی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی اپنے اس عزم کو دہراتی ہے کہ قومی آزادی کے حتمی مقصد تک قابض فوج پر اس نوعیت کے مہلک، منظم اور تزویراتی حملے مزید شدت کے ساتھ جاری رہیں گے۔