صحافیوں کا کوئٹہ دورہ، بلوچستان کی تصویر کتنی مکمل؟
ٹی بی پی اداریہ
گزشتہ ہفتے اسلام آباد سے پاکستان کے متعدد صحافیوں کو پاکستانی فوج کی نگرانی میں کوئٹہ کا دورہ کرایا گیا۔ اس دورے کے دوران انہیں بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام اور بلوچستان حکومت کے متنازع وزیراعلیٰ کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ریاستی حکام نے بلوچستان کے مسئلے، جاری مسلح مزاحمت اور حکومت کی پالیسی کے حوالے سے اپنا مؤقف ان کے سامنے رکھا۔ ریاستی حکام کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت، مذاکرات اور سیاسی عمل میں ہے۔ بریفنگ کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ سال بلوچستان میں ہزاروں افراد سے رابطے اور ملاقاتیں کی گئیں، جبکہ رواں سال بھی بڑی تعداد میں لوگوں سے رابطے کیے گئے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم ان کی جانب سے اس عمل کا حصہ بننے سے انکار کیا گیا۔ دوسری طرف، ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ کی جانب سے اس دعوے کی تردید بھی سامنے آئی ہے۔ اسی بریفنگ میں بلوچستان میں جاری مسلح قوم پرست تحریک کے حوالے سے ایک طویل المدتی منصوبے یا تقریباً دس سالہ روڈ میپ کا ذکر بھی کیا گیا، جس کا مقصد ریاستی حکام کے مطابق اس مسلح تحریک کو قابو کرنا یا اس کا خاتمہ کرنا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال مذاکرات کے مفہوم کا بھی ہے۔ کیا مذاکرات مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کرنے، جرگے منعقد کرنے یا چند وفود سے بات چیت کرنے کا نام ہے؟ اگر پاکستان واقعی مذاکرات کو مسئلے کا حل سمجھتی ہے تو مذاکرات کی حدود، شرائط، فریقین اور ایجنڈا کیا ہوگا؟ کیا مذاکرات صرف ان افراد سے کیے جائیں گے جو ریاست کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہیں، یا ان سیاسی قوتوں تک بھی رسائی کی کوشش کی جائے گی جو پاکستان سے شدید تضادات رکھتے ہیں؟ کیا انکے ایجنڈے کو تسلیم کیا جائے گا؟
یہاں ایک اور بھی اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ ریاستی مؤقف کے مطابق مسلح تحریک محدود افراد تک محدود ہے تو پھر اس کے مقابلے کے لیے ایک دہائی پر محیط حکمتِ عملی کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ریاست کی جانب سے ایک طرف مسلح تحریک کو محدود قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی بات کی جاتی ہے۔ بظاہر یہ دونوں بیانیے ایک دوسرے کے ساتھ تضاد رکھتے ہیں۔
بلوچستان میں میڈیا مکمل بلیک آوٹ ہے، اس صورت میں صحافیوں کے ایک محدود اور ریاستی نگرانی میں ہونے والے دورے سے بلوچستان کی مکمل تصویر کشی مقصد نہیں ہے، بلکہ صحافیوں کو ایک مخصوص بیانیے سے آگاہ کرنا مقصد ہے۔ بلوچستان کا مستقبل کسی ایک پریس کانفرنس، کسی ایک جرگے، کسی ایک سیاسی جماعت، کسی ایک شخصیت یا کسی ایک ریاستی بیانیے سے طے نہیں ہوگا۔ بلوچستان کا مستقبل کسی بند کمرے میں بیٹھ کر کیے گئے فیصلے سے بھی متعین نہیں کیا جاسکتا۔ اس سرزمین کے مستقبل کا حقیقی حق اس کے عوام کو حاصل ہے، کیونکہ جو فیصلے ان کی زندگی، شناخت، وسائل، سیاسی حقوق اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں، ان میں سب سے بنیادی حق بھی انہی کی ہے۔













































