بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے قلعہ عبداللہ کے علاقے سلطان شار میں جھڑپوں کے دوران جانبحق ہونے والے اپنے پانچ ساتھیوں کی تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل “ہکل” پر جاری کردی ہیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید وقار احمد لہڑی عرف چاکر جوش ولد ثناء اللہ لہڑی، بلوچی اسٹریٹ کوئٹہ کے رہائشی تھے، انہوں نے 2022 میں بلوچ لبریشن آرمی کے شہری گوریلا محاذ پر شمولیت اختیار کی، جبکہ یکم اگست 2025 کو پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے۔
“وہ کوئٹہ اور نوشکی کے محاذوں پر سرگرم رہے اور 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں شہید ہوئے”
بی ایل اے کے مطابق وقار احمد لہڑی نے ابتدائی عرصے میں شہری محاذ پر ذمہ داریاں انجام دیں اور ضبط، رازداری، مستقل مزاجی اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت کے باعث تنظیم میں ایک قابل اعتماد شہری گوریلا کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔
تنظیم نے بتایا کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے تحمل اور احتیاط سے کام لینے کے عادی تھے اور مشکل حالات میں بھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہ ہٹنے کے لیے جانے جاتے تھے، بی ایل اے کے مطابق شہری زندگی سے مسلح مزاحمتی کردار تک ان کا سفر نظم، صبر اور اپنے مقصد سے وابستگی پر مبنی ذہنی تربیت کا بھی عکاس تھا۔
تنظیم کے مطابق یکم اگست 2025 کو وقار احمد لہڑی نے شہری محاذ سے پہاڑی محاذ کا رخ کیا، جہاں پہاڑی زندگی کے سخت حالات، طویل مسافت، دشوار گزار راستوں اور مسلسل جسمانی مشقت نے ان کی صلاحیتوں کو نئے مرحلے میں آزمایا۔
بی ایل اے نے کہا کہ وہ جسمانی برداشت اور استقامت کے باعث اس ماحول سے ہم آہنگ ہوتے گئے، تنظیم کے مطابق ساتھی انہیں جسمانی مقابلے اور سخت تربیت میں نمایاں سمجھتے تھے اور وہ مشکل حالات میں بھی اپنا حوصلہ برقرار رکھتے تھے۔
تنظیم کے مطابق کوئٹہ اور نوشکی کے محاذوں سے وابستہ رہنے کے بعد وقار احمد لہڑی 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں ہونے والی جھڑپ میں شہید ہوئے۔
بی ایل اے نے کہا کہ شہید وقار احمد لہڑی کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور ان کا مقصد و اثر آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا رہے گا۔
تنظیم کے مطابق شہید فاروق پرکانی عرف آصف ولد حاجی محمد مراد پرکانی، گوہر آباد کوئٹہ کے رہائشی تھے، انہوں نے 2026 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور نوشکی کے محاذ پر سرگرم رہے وہ 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں شہید ہوئے۔
بی ایل اے کے مطابق فاروق پرکانی نے 2026 میں بلوچ لبریشن آرمی کی مسلح مزاحمت میں شمولیت اختیار کی کم عمری میں اس راستے کا انتخاب ان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز تھا۔
تنظیم نے بتایا کہ فاروق پرکانی کم گو، سنجیدہ اور اپنی ذمہ داریوں کو اہمیت دینے والے نوجوان تھے، انہیں نوشکی کے علاقے میں تعینات کیا گیا، جہاں سخت موسمی حالات، طویل سفر اور مسلسل جسمانی مشقت کے دوران انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ رہتے ہوئے نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کو اپنایا۔
بی ایل اے کے مطابق 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ کے علاقے میں ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران فاروق پرکانی شہید ہوئے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ کم عمر ہونے اور مختصر عرصے تک تنظیم سے وابستہ رہنے کے باوجود ان کے ساتھی انہیں ایک ایسے نوجوان کے طور پر یاد کرتے تھے جو اپنے اختیار کردہ راستے کے بارے میں سنجیدہ تھا اور مشکل وقت میں پیچھے نہیں ہٹتا تھا بی ایل اے کے مطابق ان کی شہادت سے ان کے قریبی ساتھیوں میں ایک خلا پیدا ہوا اور ان سے وابستہ یادیں ان لوگوں کے درمیان باقی رہیں جو ان کے ساتھ اس سفر میں شریک رہے۔
بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید عصمت اللہ محمد حسنی عرف ملا چاکر ولد نعمت اللہ محمد حسنی، زور آباد نوشکی کے رہائشی تھے وہ حافظ قرآن تھے، انہوں نے جون 2025 میں مسلح تحریک میں شمولیت اختیار کی، جبکہ اپریل 2026 میں بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ ہوئے اور نوشکی کے محاذ پر سرگرم رہے وہ 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں شہید ہوئے۔
تنظیم کے مطابق عصمت اللہ محمد حسنی عرف ملا چاکر کی شخصیت میں مذہبی تعلیم ایک نمایاں پہلو تھی اور وہ حافظ قرآن تھے بی ایل اے نے بتایا کہ جون 2025 میں مسلح تحریک میں شمولیت کے بعد اپریل 2026 میں وہ تنظیم کا حصہ بنے اور بعد ازاں نوشکی کے محاذ سے وابستہ رہے۔
تنظیم کے مطابق وہ سنجیدہ، کم گو اور اپنی ذمہ داریوں کو اہمیت دینے والے نوجوان تھے۔
بی ایل اے نے بتایا کہ نوشکی کے محاذ سے وابستگی کے دوران ان کی زندگی کا آخری عرصہ ایسے ماحول میں گزرا جہاں روزمرہ زندگی مشکل تھی وہ اس دوران اپنے ساتھیوں کے ساتھ مختلف حالات سے گزرتے رہے اور اسی ماحول میں ان کی تنظیمی شناخت بھی مضبوط ہوئی۔
تنظیم کے مطابق حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے ان کا مذہبی پس منظر ساتھیوں کے لیے ان کی شخصیت کا ایک نمایاں حوالہ تھا، جبکہ وہ ملا چاکر کے نام سے اپنے حلقے میں پہچانے جاتے تھے۔
بی ایل اے کے مطابق 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار قلعہ عبداللہ میں ہونے والی جھڑپ کے دوران عصمت اللہ محمد حسنی عرف ملا چاکر جانبحق ہوئے۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید یاسر مینگل عرف شاہ یار ولد نور محمد مینگل، احمد وال نوشکی کے رہائشی تھے، پیشے کے اعتبار سے وہ ڈرائیور تھے 2026 میں مسلح تحریک میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں نوشکی کے محاذ سے وابستہ ہوگئے اور 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں شہید ہوئے۔
بی ایل اے کے مطابق یاسر مینگل روزمرہ زندگی میں سفر اور سڑکوں سے وابستہ رہے اور ڈرائیونگ کے پیشے کے باعث مختلف علاقوں اور لوگوں سے واسطہ رکھتے تھے ان کے قریبی ساتھی انہیں سادہ مزاج اور ملنسار طبیعت کے مالک کے طور پر جانتے تھے، جبکہ سفر اور راستوں کے معاملات سے ان کی واقفیت بھی ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔
تنظیم نے بتایا کہ نوشکی کے محاذ سے وابستگی یاسر مینگل کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ثابت ہوئی، جہاں ساتھیوں کے ساتھ گزرا ہوا مختصر عرصہ ان کی معمول کی زندگی سے مختلف تھا۔
بی ایل اے کے مطابق 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ کے علاقے میں ہونے والی جھڑپ کے دوران یاسر مینگل عرف شاہ یار شہید ہوگئے۔
تنظیم نے اپنے پانچویں ساتھی کے حالے بتایا ہے کہ عمران سرپرہ عرف عاصم ولد محمد حسین شال کے دل سریاب سے تعلق رکھتے تھے دسمبر 2024 میں انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی میں شہری گوریلا کے طور پر شمولیت اختیار کی۔
تنظیم نے کہا ہے کہ کم عمری میں اس فیصلے کے ساتھ ان کی ذاتی زندگی کا وہ دور پیچھے رہ گیا جس میں ایک نوجوان اپنے گھر، اپنی ذاتی خواہشات اور اپنے مستقبل کے لیے ایک الگ راستہ بناتا ہے، عمران نے اپنی ذاتی زندگی کو ایک قومی ذمہ داری کے تصور سے جوڑنے کا فیصلہ کیا یہ انتخاب محض ایک معمول کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ انہیں اپنی بہت سی ذاتی آسائشوں، تعلقات اور مستقبل کے امکانات سے بھی دستبردار ہونا پڑا۔
بی ایل اے کے مطابق جنوری 2026 میں وہ پہاڑی محاذ سے وابستہ ہوئے اور بعد ازاں کوئٹہ، ناگاہو اور نوشکی کے علاقوں میں رہے اس مرحلے تک ان کی زندگی اپنی پرانی سمت سے کافی دور نکل چکی تھی شہر کی وہ زندگی جس میں ذاتی ترجیحات اور روزمرہ کے معمولات کی اپنی جگہ تھی، اب ان کے لیے ایک پیچھے رہ جانے والی یاد بن چکی تھی۔
“انہوں نے اپنی زندگی کے ایک بڑے حصے کو ایک اجتماعی مقصد کے لیے وقف کر دیا اور اس راستے میں آنے والی دشواریوں اور محرومیوں کو اپنی ذمہ داری کا حصہ سمجھا”
تنظیم کے مطابق 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں ہونے والی جھڑپ کے دوران عمران سرپرہ عرف عاصم نے جام ء شہادت نوش کیا ان کی زندگی کا آخری دور اس فیصلے کی ایک عظیم تکمیل تھی جو انہوں نے تقریباً دو برس پہلے کیا تھا سریاب سے شروع ہونے والا ان کا سفر سلطان شار میں جسمانی طور پر رک گیا، مگر ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں بات یہی رہی کہ انہوں نے کم عمری میں اپنی ذاتی زندگی کے بجائے ایک اجتماعی ذمہ داری کو اپنی ترجیح بنایا۔



















































