سوراب واقعہ – ٹی بی پی اداریہ

1

سوراب واقعہ

ٹی بی پی اداریہ

بلوچستان کے ضلع سوراب کے علاقے گدر گوْندان میں 12 اگست کی صبح پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ غیر مصدقہ عوامی ذرائع جانبحق و زخمی افراد کی تعداد ستائیس بتائی جارہی ہیں۔ اس واقعے کے خلاف لواحقین نے لاشوں کے ہمراہ کوئٹہ کراچی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ واقعے پر بلوچ قوم پرست جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی شدید مذمت سامنے آئی ہے۔

ڈی ایچ کیو سوراب کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق واقعے کے بعد اسپتال میں چھ لاشیں لائی گئیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جاں بحق افراد کی عمریں دو سے 50 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق 16 زخمی بھی لائے گئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جن کی عمریں ایک سے 40 سال کے درمیان ہیں۔ دوسری جانب مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض لاشیں فوجی اہلکار اپنے تحویل میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے، جس کے باعث متعدد لاشیں اسپتال منتقل نہیں ہوسکیں اور ان کی تعداد و شناخت سے متعلق مکمل تفصیلات بھی سامنے نہیں آسکیں۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد بعض افراد تاحال لاپتہ بھی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا شدید دھماکے باعث ان کی باقیات نہیں مل سکے ہیں۔

سوراب کا یہ واقعہ پہلا نہیں۔ بلوچستان میں ماضی میں بھی پاکستانی جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی کارروائیوں سے عام آبادی متاثر اور شہری جاں بحق ہوتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں بین الاقوامی میڈیا کو آزادانہ رسائی حاصل نہیں، جبکہ مقامی صحافی بھی ریاستی دباؤ کے ماحول میں کام کرتے ہیں۔ ایسے میں فوجی کارروائیوں اور عام آبادی کے متاثر ہونے کے واقعات کی آزادانہ رپورٹنگ تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ بعد ازاں ریاستی اداروں اور پاکستانی میڈیا کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ سامنے آتا ہے، جبکہ متاثرہ لوگوں کی گواہیاں اور زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

سوراب کا واقعہ کسی ریاستی غلطی یا محض ایک فوجی آپریشن کا افسوس ناک نتیجہ نہیں۔ یہ اسی قبضہ گیر نظام کی ایک اور خونیں تصویر ہے جس نے دہائیوں سے بلوچستان کے سیاسی اختیار، وسائل اور عوامی آواز کو اپنی طاقت کے تابع رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام آباد بلوچستان پر حکمرانی کا دعویٰ ضرور کرسکتا ہے، مگر محض طاقت کے استعمال سے حکمرانی کا اخلاقی یا سیاسی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ جنگی طیاروں کی گھن گرج، گھروں کی تباہی، شہریوں کی ہلاکتیں، جبری گمشدگیوں اور خوف کے ذریعے کسی سرزمین کے لوگوں کو تابع رکھا جاسکتا ہے، ان کی آزادی کے سوال کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔