کتابوں کی بند دکان کے سامنے نشہ – ایک تلخ حقیقت – ملک عیسیٰ خان رند

1

کتابوں کی بند دکان کے سامنے نشہ – ایک تلخ حقیقت

تحریر: ملک عیسیٰ خان رند

دی بلوچستان پوسٹ

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید بازاروں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ معاشرے کی اصل ترقی اس بات سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہاں کتاب، علم، مطالعہ اور فکر کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔ جس شہر کی گلیوں میں کتابوں کی دکانیں آباد ہوں، جہاں نوجوان کتابیں تلاش کرتے پھریں اور جہاں کتاب فروش علم کے سفیر سمجھے جائیں، وہ شہر فکری زندگی کی علامت ہوتا ہے۔

مگر افسوس کہ کوئٹہ شہر کی تصویر بتدریج بدل رہی ہے۔ کبھی شہر کے مختلف مقامات پر قائم کتابوں کی دکانیں طلبہ، اساتذہ، ادیبوں، سیاسی کارکنوں اور عام قارئین سے آباد رہتی تھیں۔ لوگ نئی کتاب آنے کا انتظار کرتے، دکانوں پر کھڑے ہو کر کتابوں کے صفحات دیکھتے اور اپنی محدود آمدنی میں سے بھی کتاب خریدنے کی کوشش کرتے تھے۔ آج کئی قدیم بک شاپس بند ہو چکی ہیں یا ان کا کاروبار پہلے جیسا نہیں رہا۔ اس تحریر کا مقصد اور زیرِ نظر تصویر بھی اسی بدلتی ہوئی صورتحال کی ایک افسوس ناک جھلک پیش کرتی ہے۔ ایک طرف “گوشہ ادب” جیسی کتابوں کی قدیم دکان کا بند دروازہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ اسی کے عین سامنے چند نشئی افراد سر ڈھانپ کر نشہ کرتے بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ منظر محض ایک دکان کے بند ہونے کا منظر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں کتاب اور مطالعے کے کم ہوتے ہوئے مقام پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

کتابوں کی دکان صرف ایک کاروباری جگہ نہیں ہوتی۔ یہ دراصل معاشرے کی فکری زندگی کا ایک مرکز ہوتی ہے۔ کتابوں کی دکان پر طالب علم کو نصابی کتاب ملتی ہے، محقق کو حوالہ ملتا ہے، ادیب کو نئی تخلیق ملتی ہے اور عام قاری کو دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ ملتا ہے۔

لیکن جب کتاب خریدنے والے کم ہوتے جائیں تو کتاب فروش کے لیے دکان چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات، کاروباری مشکلات، ڈیجیٹل ذرائع سے مطالعے کی طرف منتقلی اور لوگوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات نے کتابوں کے روایتی کاروبار کو متاثر کیا ہے۔

آج بہت سے لوگ کتاب خریدنے کے بجائے چند منٹ کی ویڈیو، مختصر پوسٹ یا سوشل میڈیا کی تحریر کو ترجیح دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کتاب کے لیے مختص جگہ سکڑ رہی ہے اور غیر ضروری معلومات کے لیے ہماری اسکرین کا وقت بڑھ رہا ہے۔

کتب بینی کے زوال کی ذمہ داری صرف نوجوان نسل پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ معاشرے میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کے لیے گھر، تعلیمی ادارے، حکومت، ادبی تنظیمیں، کتاب فروش اور خود قارئین سب کو کردار ادا کرنا چاہیے۔

اگر گھر میں کتاب موجود نہ ہو، اسکول اور کالج میں نصاب سے باہر مطالعے کی حوصلہ افزائی نہ ہو تو نئی نسل میں کتاب سے محبت کیسے پیدا ہوگی؟

ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کتاب خریدنا صرف ایک فرد کا ذاتی شوق نہیں بلکہ معاشرے میں سرمایہ کاری ہے۔ ایک شخص کی خریدی ہوئی کتاب کبھی کسی طالب علم کے ہاتھ لگ سکتی ہے، کسی نوجوان کی سوچ بدل سکتی ہے، کسی لکھنے والے کو متاثر کر سکتی ہے اور معاشرے میں سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کر سکتی ہے۔

اس تحریر کا تکلیف دہ پہلو یہ تصویر ہے کہ بند کتابوں کی دکان کے سامنے چند نشئی افراد بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے انداز سے واضح ہوتا ہے کہ نشہ آور اشیاء استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن تصویر میں جو منظر دکھائی دے رہا ہے وہ شہر میں منشیات اور نشے کے مسئلے کی طرف ایک سنجیدہ سماجی توجہ ضرور دلاتا ہے۔

ایک طرف وہ جگہ ہے جہاں کبھی کتاب، علم اور مطالعہ موجود تھا، اور دوسری طرف اسی جگہ کے سامنے ایسا منظر دکھائی دے رہا ہے جو معاشرتی محرومی اور نشے کے مسئلے کی علامت محسوس ہوتا ہے۔ اور یوں سرعام شہر کے مرکز جناح روڈ اور سرکلر روڈ کے سنگم پر واقع کتابوں کی معروف دکان “گوشہ ادب” کے سامنے فٹ پاتھ پر نشئی افراد ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ یہی تضاد ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہماری شہری ترجیحات کہاں جا رہی ہیں؟

نشے کے عادی افراد کو صرف مجرم سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ نشہ ایک پیچیدہ سماجی مسئلہ ہے۔ اور یوں سرعام ان کو نشہ کرتے دیکھنا اور خاموش رہنا ہماری معاشرتی ذمہ داریوں پر سوالیہ نشان ہے۔ ان نشئی افراد کی ہمت تو دیکھیں، نہ قانون کا خوف اور نہ قانون نافذ کرنے والوں کا ڈر ہے۔

کوئٹہ ایک ایسا شہر ہے جہاں مختلف زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ اردو، پشتو، بلوچی، براہوی اور دیگر زبانوں کا ادبی سرمایہ یہاں موجود ہے۔ اس شہر میں ادیبوں، شاعروں، طلبہ، اساتذہ اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے ہمیشہ کتاب اور مطالعے کے ذریعے اپنی فکری دنیا کو وسعت دی ہے۔

مگر آج سوال یہ ہے کہ وہ کتابی ماحول کہاں ہے؟ وہ چھوٹی چھوٹی دکانیں جہاں کتابوں کے ڈھیر نظر آتے تھے، وہ قارئین جو گھنٹوں کتابوں کی تلاش میں رہتے تھے، وہ طالب علم جو اپنی جیب خرچ سے کتاب خریدتے تھے—کیا یہ سب ہماری اجتماعی یاد کا حصہ بنتا جا رہا ہے؟

اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آنے والی نسل کو شاید یہ یقین کرنا مشکل ہو کہ کوئٹہ کی کچھ گلیاں کبھی کتابوں اور قارئین سے آباد ہوا کرتی تھیں۔ اور پھر ان گلیوں اور شاہراہوں پر کتاب دوستوں کی جگہ نشئی افراد نے قبضہ جمالیا۔

کتاب انسان کو کسی موضوع کے ساتھ وقت گزارنے، مختلف دلائل سمجھنے اور گہرائی سے سوچنے کا موقع دیتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئٹہ کے بک شاپس کو دوبارہ آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم واقعی کوئٹہ کی کتابی ثقافت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو صرف افسوس کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

شہر میں مقامی کتاب فروشوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نوجوانوں کو کتاب خریدنے اور پڑھنے کے لیے راغب کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح قدیم اور تاریخی بک شاپس کے مالکان کے معاشی مسائل بھی حل ہوں گے۔

کوئٹہ کی گلیوں میں اگر کتابوں کی دکانیں بند ہوتی جائیں اور ان جگہوں پر صرف ویرانی، بے روزگاری اور نشے کے مناظر باقی رہ جائیں تو یہ صرف ایک کاروبار کا نقصان نہیں ہوگا؛ یہ شہر کی فکری اور سماجی زندگی کے لیے بھی ایک نقصان ہوگا۔

ہمیں یہ سوال خود سے کرنا ہوگا کہ ہم نوجوانوں کے لیے علم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں یا انہیں نشے اور بے مقصد زندگی کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟

کتاب کسی معاشرے کی واحد ضرورت نہیں، مگر علم کے بغیر کوئی معاشرہ دیرپا ترقی نہیں کر سکتا۔

کوئٹہ کو دوبارہ کتابوں اور قارئین کا شہر بنانے کی ضرورت ہے۔ بند ہوتی ہوئی ہر بک شاپ ہمیں ایک سوال دے کر جاتی ہے، اور اس سوال کا جواب صرف کتاب فروش نہیں بلکہ پورا معاشرہ دے گا۔

آئیے کتاب کو دوبارہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ بک شاپس کو آباد کریں، اور نوجوانوں کو کتاب سے جوڑیں۔ کیونکہ جس شہر میں کتابیں دم توڑتی ہیں، وہاں صرف دکانیں بند نہیں ہوتیں—فکر کے دروازے بھی آہستہ آہستہ بند ہونے لگتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔