مستونگ کے باغات اور ریاستی عملداری کا بحران۔ ٹی بی پی اداریہ

1

مستونگ کے باغات اور ریاستی عملداری کا بحران – ٹی بی پی اداریہ

حال ہی میں، بلوچستان کے متنازعہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں مستونگ کے عوام کے لئے دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب ہوکر کہا کہ اگر باغات سے پاکستانی فورسز پر حملے کیے گئے تو باغوں کے مالکان کو سہولت کار سمجھا جائے گا۔ سرفراز بگٹی کے مطابق، مستونگ کے عوام کے پاس دو ہی راستے ہیں؛ یا تو وہ نقل مکانی و آئی ڈی پیز بننے کے لیے تیار ہو جائیں یا پھر ان کے باغات کو ختم کر دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں اور اہم شاہراہوں پر بلوچ مسلح آزاد پسند تنظیموں کی کاروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ خود مستونگ میں بھی حالیہ ہفتوں اور اس مہینے کے دوران پاکستانی فورسز پر نمایاں حملے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی، اطلاعات کے مطابق مستونگ اور اس کے گردونواح میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔

مستونگ بلوچستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جو غیر معمولی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ کوئٹہ کے قریب واقع ہے اور بلوچستان کے وسطی علاقوں کو ملانے والے راستوں کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ بلوچستان کے متنازعہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی جانب سے مستونگ کے عوام کو باغات ختم کرنے یا نقل مکانی کی تیاری کرنے کی دھمکی محض ایک سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ یہ بلوچستان میں ریاست کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت سکیورٹی کی ناکامیوں کا بوجھ بالآخر عام آبادی کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت بار بار بلوچستان میں اپنی رٹ قائم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن ریاستی عملداری صرف سڑکوں پر فورسز کی موجودگی، چیک پوسٹوں یا بھاری ہتھیاروں سے قائم نہیں ہوتی۔

بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ ریاست کی جانب سے اپنائی گئی پالیسیاں، مسلسل فوجی آپریشنز، فضائی طاقت کا استعمال، گرفتاریاں، چھاپے اور طاقت کے دیگر ذرائع اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ریاست اسے کمزور کرنے یا غیر مقبول بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ باغات کو تباہ کرنے سے مسلح تنظیموں کی سرگرمیاں رک جائیں گی، تو یہ سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سطحی سوچ کی عکاسی ہے۔ آج باغ ہے، کل کوئی پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے، پرسوں کوئی ویران عمارت، پھر کوئی شاہراہ، بازار یا گنجان آباد علاقہ۔ کیا ہر وہ جگہ تباہ کر دی جائے گی جہاں سے کوئی مسلح کارروائی ممکن ہو؟