بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 17 ستمبر 2026 کو جھل مگسی میں قابض فوج کی سرپرستی میں سرگرم ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں کو ایک منظم حملے میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے 2 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ بقیہ اہلکار خوفزدہ ہو کر موقع سے فرار ہو گئے۔
انہوں نے کہاکہ 15 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے کوئٹہ شہر میں سریاب روڈ اور اس کے گرد و نواح کے حصوں میں ایک مربوط عسکری کارروائی کے تحت مرکزی شاہراہ پر مکمل ناکہ بندی قائم کرکے علاقے میں آزادانہ گشت کیا اور اسنیپ چیکنگ کی، جبکہ سرکاری عمارتوں اور بینک کے بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا۔
ترجمان نے کہاکہ 15 ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے دالبندین کے علاقے دالبندین کراس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو عوام سے بھتہ خوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں حراست میں لے لیا اور ان کے قبضہ سے پسٹل بھی ضبط کیا گیا، یہ کارروائی مقامی عوام کی جانب سے مسلسل موصول ہونے والی شکایات کے پیشِ نظر انجام دی گئی۔ سرمچاروں نے ان اہلکاروں کو تنظیمی سطح پر سخت تنبیہ کرنے کے بعد رہا کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کرتی ہے کہ وہ عوام الناس کو بلاجواز تنگ کرنے، ہراساں کرنے اور بھتہ خوری جیسے جرائم سے مکمل طور پر گریز کریں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید کہاکہ اسی روز ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے زامران کے علاقے آرچنان کور کے مقام پر قائم قابض فوج کی سیکیورٹی چوکی پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے ہمہ جہت حملہ کیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان نے کہاکہ 14 ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے گریشہ کے علاقے تاپکو میں ایک کارروائی کے دوران ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے خاص کارندے احسان ولد حضور بخش کو اس کے گھر میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص براہِ راست فوجی جارحیت میں سہولت کاری، اور ہمارے ساتھی سرمچار شہید زبیر بلوچ، شہید قندیل اور شہید سفر کی شہادت میں بلاواسطہ ملوث تھا۔ علاوہ ازیں وہ علاقے میں چوری، مقامی تاجروں و کاروباری حضرات سے بھتہ خوری اور دیگر سماجی برائیوں کا مرتکب بھی رہا تھا۔ سرمچاروں نے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔
ترجمان نے کہاکہ 13 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے نال کے علاقے کوڑاسک میں قابض فوج کی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ صمد کے کارندوں کو حملے میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 2 ڈیتھ اسکواڈ اہلکار شدید زخمی ہو گئے، جن کے قبضے سے تمام اسلحہ سرمچاروں نے ضبط کر لیا۔
انہوں نے کہاکہ اسی روز ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے نال کے علاقے کوڑاسک میں واقع یوفون کے مواصلاتی ٹاور کو فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا اور اس سے ملحقہ تمام اہم مشینری کو نذرِ آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ اسی روز سرمچاروں نے بیلہ اور اوتھل کے درمیانی علاقوں ٹیھارو اور وایاری کے مقامات پر قائم پولیس کی 2 چیک پوسٹوں پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں پوسٹوں کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ سرمچاروں نے وہاں موجود تمام سیکیورٹی اہلکاروں سے ان کا حربی ساز و سامان اپنے قبضے میں لے لیا، تاہم وہاں تعینات پولیس اہلکاروں کو حراست میں لینے کے بعد تنظیمی اصولوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بغیر کسی نقصان کے محفوظ طریقے سے رہا کر دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ اسی تاریخ کو قلات کے علاقے گراڑی میں ٹول پلازہ کے قریب سرمچاروں نے کارروائی کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے کارندے انسپکٹر غفار خلجی کو گرفتار کر لیا۔ مذکورہ شخص اس وقت تنظیم کی تحویل میں ہے جس سے تفتیشی عمل جاری ہے۔
ترجمان نے کہاکہ علاوہ ازیں، 13 ستمبر کو سرمچاروں نے تربت کے علاقے نودز میں 3 گھنٹے تک مسلسل ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں تنظیمی عمل داری اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا اور قابض فوج اور اس کے مقامی سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔
بیان میں کہا کہ 12 ستمبر 2026 کو سرمچار آواران کے علاقے کولواہ میں مالار شم کے مقام پر معمول کے گشت پر تھے کہ قابض فوج کی سرپرستی میں قائم مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے ایک مسلح جتھے نے سرمچاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ مستعد سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ پر حملہ کر دیا۔ سرمچاروں کی پیشگی کارروائی کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے حواس باختہ ہو کر منتشر ہو گئے اور اپنی موٹر سائیکلیں موقع پر ہی چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان کارروائیوں اور ناکہ بندیوں میں قابض پاکستانی فوج اور ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈز کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات اور تنظیمی تحویل میں لیے گئے افراد کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔













































