بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 30 اگست 2026 کو پسنی کے علاقے شادی کور میں دوکانی کراس کے مقام پر قابض فوج کے ایک حفاظتی مورچے کو آئی ای ڈی بم سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے فوجی مورچے میں بم نصب کر رکھا تھا، جیسے ہی فوجی اہلکار مورچے میں داخل ہوئے بم دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 1 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 1 زخمی ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 28 اگست 2026 کو خضدار کے علاقے توتک میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے تین مخلتف کیمپ و کوٹ پر بیک وقت حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں وہاں موجود ڈیتھ اسکواڈ کے 4 کارندے ہلاک, جبکہ 1 کارندے کو سرمچاروں نے زندہ گرفتار کر لیا جو تنظیم کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ مذکورہ کیمپ شفیق مینگل کا وہی ٹارچر سیل اور مرکز ہے جہاں سے 2014 میں 170 سے زائد لاپتہ بلوچوں کی اجتماعی قبریں اور لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں 27 اگست 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے کچکّی میں لاگر کوہ کے مقام پر قائم قابض فوج کی سیکیورٹی چوکی پر اسنائپر سے حملہ کیا۔ ہدف بنا کر کی گئی اس کارروائی کے نتیجے میں 1 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں 25 اگست 2026 کو سرمچاروں نے خاران شہر کے وسط میں قائم ڈی آئی جی پولیس، رخشان کے دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ دستی بم دفتر کے اندر جا گرا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود متعدد اہلکاروں زخمی ہوئے اور دشمن کو مالی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ قابض پاکستانی فوج، اور فوجی آلہ کار شفیق مینگل کے کیمپ و کارندوں، اور پولیس کے خلاف ان تمام کارروائیوں میں قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈز کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔











































