بلوچستان: مزید سات افراد جبری لاپتہ، پسنی سے دو سگے بھائی بھی حراست کے بعد لاپتہ

88

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ایک کم عمر طالب علم سمیت مزید سات افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں پسنی کے علاقے شادی کور سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے دو سگے بھائی بھی شامل ہیں، جبکہ کوئٹہ، پنجگور اور دیگر علاقوں سے بھی پانچ افراد کی جبری گمشدگی کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، یکم نومبر کو بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی کے مقام شادی کور سے پاکستانی فورسز نے کہدا گنج ولد دلداد اور بیگمان ولد دلدار کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، جس کے بعد سے دونوں لاپتہ ہیں۔ دونوں آپس میں سگے بھائی ہیں۔

دوسری جانب 27 اکتوبر 2026 کو کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی، قمبرانی روڈ سے 15 سالہ طالب علم یحییٰ بلوچ ولد پیر محمد کو رات تین بجے ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس واقعے میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور سی ٹی ڈی کے اہلکار ملوث بتائے جاتے ہیں۔

اسی طرح پنجگور کے علاقے پروم سے 5 اکتوبر کو 18 سالہ ڈرائیور زبیر بلوچ ولد سید بلوچ کو جیراک بارڈر سے دوپہر 12 بجے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا۔

اس واقعے میں ایف سی اہلکاروں پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
کوئٹہ کے علاقے ائیرپورٹ روڈ پر الائیڈ اسکول کے قریب سے 20 اگست 2026 کو 25 سالہ محمد اعظم ولد خدا داد کو رات ایک بجے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا گیا۔ ان کا تعلق منوجان روڈ، ہدہ کوئٹہ سے ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے ریڑھی بان ہیں۔

فراہم کردہ تفصیلات میں آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو ان کی گمشدگی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

مزید برآں، 16 اکتوبر 2026 کو کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ سے 28 سالہ دکاندار ظفر بلوچ ولد حاجی غلام محمد کو صبح تین بجے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ظفر بلوچ کو دوسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے اور اس واقعے میں ایم آئی اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں پر الزام عائد کیا گیا ہے۔