بلوچستان حکومت 100 فیصد ناکام ہوچکی، وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور گورنر راج پر غور کیا جائے۔ سردار عبدالرحمن کھیتران

33

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکنِ اسمبلی سردار عبدالرحمن کھیتران نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بلوچستان حکومت 100 فیصد ناکام ہوچکی ہے۔ مقتدر قوتوں اور وزیراعظم کو وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی اور صوبے میں گورنر راج کے نفاذ پر غور کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات خیبرپختونخوا سے بھی بدتر ہوچکے ہیں۔ بی ایل اے ہمارے فوجی جوانوں کو قتل کر رہی ہے اور جب مجھ پر حملہ ہوتا ہے تو ہمارا دل جلتا ہے۔ بعض لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہم بی ایل اے کی حمایت کرتے ہیں، جو سراسر غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں سے جو فیڈبیک جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر اسی کی بنیاد پر پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ جب تک مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، نقل مکانی کرانے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے صوبے میں ریاستی رٹ کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں حکومتی رٹ قائم ہے، تاہم حکومتی اتحادی اور اپوزیشن جماعتیں اس مؤقف پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر بی ایل اے کا کنٹرول ہے، اعلیٰ سرکاری افسران اور ریاستی مشینری سے وابستہ افراد کے اغوا کے واقعات، جبکہ رواں سال بی ایل اے کے آپریشن ’’ہیروف دوم‘‘ کے دوران کوئٹہ کے ریڈ زون تک تنظیم کے جنگجوؤں کی رسائی، حکومتی ناکامی کا ثبوت ہے۔