قبائلی نظام یا سماجی ارتقاء
تحریر: شاہ زیب بلوچ ایڈوکیٹ
دی بلوچستان پوسٹ
قبائلی نظام انسانی ارتقاء کا ایک بہترین سماجی نظام تھا، جس نے خاندانوں کو اکٹھا کرکے کئی ہزار سالوں تک معاشرے کو متحد رکھنے میں ایک مکینیکل کردار ادا کیا۔ چودھویں صدی کے وسط میں نوآبادیاتی نظام نے شہنشاہیت کا نعم البدل نظام میں تبدیل ھونا شروع کردیا تھا اور آہستہ آہستہ سرمایہ داریت نے نوآبادیاتی نظام کے بطن سے پیدا ھوجانے کے بعد صنعتی انقلاب کو یورپ اور پوری دنیا میں پھیلانا شروع کردیا تھا۔ اس کشمکش میں نوآبادیاتی نظام کے منفی اثرات بھی محکوم اقوام و طبقات پر مرتب ھونے لگے تو انسانی فطرت نے اپنے دفاع میں منصفانہ نظام لانے کے لئے آشتراکی (کمیونزم)، جمہوری اور ترقی پسندانہ رویوں پر مبنی نظام کو ھموار کرانے کے لیے سیاسی جدوجہد کیا۔
بلوچ اور اسکے سرزمین پر بھی عالمی تبدیلیاں اثر انداز ھورھے تھے جسکے سبب موجودہ قبائلی نظام کا بنیادی ڈھانچہ آہستہ آہستہ بدلنا شروع ھوا اور بالخصوص بلوچ انجمن اتحاد (1920) کے تشکیل سے لیکر قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی(1948) تک کے سخت گیر قبائلی نظام کے موجودگی میں اپنے سیاسی و جمہوری بقاء کو برقرار رکھنا ایک بہترین کارنامہ تھا، جسے آئندہ آنے والے وقت میں بلوچ وانندہ گل (بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن 1967) نے بلوچ طلباء میں باالخصوص نوآبادیاتی و سرمایہ داریت کے منفی عوامل و اثرات کے خلاف نیشنلزم(قومیت) اور سوشلسٹ نظریات کے تحت تربیت دینا شروع کیا جو ایک تسلسل سے آج تک جاری ھے۔
نیشنلزم اور سوشلزم کے نظریات نے قبائلی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا جسکے سبب شیرو مری اور سردار خیر بخش خان مری بھی انھیں نظریات سے ملبوس ھوکر سیاسی جدوجہد کرتے چلے گئے اور ھر مقام و جگہوں پر ترقی پسندانہ سوچ کے بیج بوتے چلے گئے اور بالآخر عملی طور پر بلوچ سرزمین کے طول و عرض میں آج بھی نوآبادیاتی نظام و سرمایہ داریت کے خلاف ھر طرح کی آواز کی گونج سنائی دے رہی ھے۔
سستی شہرت حاصل کرکے یا اسمبلی میں اچھل کود کر قبائلی نظام کے خلاف بولنے سے کریڈٹ حاصل کرنے کا مقصد صرف اور صرف اپنے آقاؤں کو خوش رکھنا ھے کیونکہ جو معاملات پہلے چند ایک سردار کرتے تھے اب انکی جگہوں پر متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والے منشیات فروشوں، قاتلوں اور رجعت پسندانہ عناصر کو اسمبلیوں میں لاکر استعمال کیا جارہا ہے۔
قبائلی ڈھانچہ بلوچ کا قومی ورثہ ہے جس کی حفاظت کرنا بھی ضروری ھے، کیونکہ ھماری تاریخ اور فلسفہ انھیں راستوں سے ھوکر گزرتے ھیں لیکن ان روایات کا خاتمہ کرنا لازمی ھے جو کہ بلوچ کے مستقبل اور مستقل ترقی کے سامنے رکاوٹویں حایل کرتے ھیں۔ جاپان اور برطانیہ دور جدید کے سب سے مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں شمار ھوتے ھیں لیکن آج بھی برطانیہ میں قبائلی سرداران دارالعمرا (House of Lords) میں بیٹھ کر قانون سازی میں حصہ لیتے ہیں، جبکہ جاپان کے صدارتی اختیار آج بھی یوگوگاوا نسل( yogogawa dynasty) سے تعلق رکھنے والے بادشاہ کے پاس ہے جسکے ماتحت شوگنز (Shoguns) کا مکمل قبائلی ڈھانچہ ہے۔
ریاست بلوچستان میں اپنی ناکامی کا مکمل ملبہ قبائلی نظام پر ڈال رھے ھیں جسکا مقصد آیندہ آنے والے وقت میں ایک مضبوط سیاسی بیانیے کو ابھی سے فروغ دینا ھے۔ قبائلی نظام بلوچ کے آیندہ آنے والے ترقی پسندانہ دور میں شامل ھونے کے لئے ارتقائی تسلسل کی کڑی ھے جسے ھر ممکن رجعت پسندی کے غیر فطری اور انسان دشمن عناصر و نظریات سے دور رکھنا لازمی سیاسی جزو ھے، تاکہ عالمی سامراجی قوتوں کے استعماریت سے بلوچ اور اسکے سرزمین کو محفوظ رکھا جاسکے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































