ترکیہ کی خفیہ ایجنسی کی پاکستان میں مبینہ کارروائی، داعش خراسان کا رکن اوغر بہادر گرفتار، ترکیہ منتقل

22

ترکیہ کی خفیہ ایجنسی نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی خطے میں کارروائی کرتے ہوئے داعش کے رکن اوغر بہادر کو گرفتار کرکے ترکیہ منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گرفتار شخص داعش میں ’’عبداللہ‘‘ کے خفیہ نام سے سرگرم تھا اور داعش خراسان (ISKP) کے نیٹ ورک سے وابستہ بتایا جاتا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق، ترکیہ کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ MIT نے اپنی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اوغر بہادر کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا تھا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ ترکیہ سے افغانستان اور پاکستان کے خطے میں منتقل ہوا تھا اور وہاں داعش کے متعدد کیمپوں میں مختلف ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق، اس کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کی گئی اور اسے افغانستان-پاکستان خطے میں گرفتار کرنے کے بعد ترکیہ منتقل کر دیا گیا۔

ترک حکام کے مطابق، ترکیہ منتقلی کے بعد ابتدائی تفتیش کے دوران اوغر بہادر نے داعش کے اندر اپنی سرگرمیوں، تنظیم کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں اور افغانستان-پاکستان خطے میں داعش کی کارروائیوں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔

اس نے ترکیہ سے افغانستان-پاکستان خطے میں داعش کے ارکان کی منتقلی کا انتظام کرنے والے شخص عمر اوزگور آلتون سے اپنے روابط کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں، جو داعش میں ’’ابو یاسر الترکی‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق، اوغر بہادر 2024 میں ترکیہ سے افغانستان-پاکستان خطے منتقل ہوا تھا، جہاں اس نے داعش میں شمولیت اختیار کی اور تنظیم کے مختلف کیمپوں میں سرگرم رہا۔

رپورٹ کے مطابق، اسے داعش میں شامل ہونے کی ترغیب دینے والا شخص اوزگور آلتون تھا، جسے 2025 کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ آلتون ترکیہ سے افغانستان-پاکستان خطے میں داعش کے ارکان کی منتقلی میں فعال کردار ادا کر رہا تھا۔

ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق، اوغر بہادر افغانستان-پاکستان خطے میں احمد قازانجی کے ساتھ بھی کام کر چکا تھا، جو داعش میں ’’ابو عبیدہ‘‘ اور ’’ابو ابراہیم‘‘ کے ناموں سے سرگرم تھا۔

احمد قازانجی کو 2026 کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ داعش کے میڈیا ونگ میں سرگرم تھا۔

ذرائع کے مطابق یہ تازہ کاروائی پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان میں سرانجام دیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچ آزادی پسندوں جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ ریاستی اداروں کے سرپرستی میں داعش کو بلوچستان میں محفوظ ٹھکانے دیے گیے ہیں ۔

بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے رواں سال ڈیٹھ اسکواڈ کے سربراہ شفیق مینگل کے ٹھکانے پر ایک منظم حملے میں بھی داعش سے وابسطہ افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا تھا ۔