بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6409ویں روز بھی جاری رہا۔ اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ نعمت اللہ کی والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا 2016 سے جبری طور پر لاپتہ ہے۔ ان کے مطابق، کمیشن کی سطح پر ان کے بیٹے کی جبری گمشدگی ثابت ہونے کے بعد کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز نے ان کی بازیابی کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کیا، تاہم اس کے باوجود نہ تو ان کے بیٹے کو منظرِ عام پر لایا گیا ہے اور نہ ہی خاندان کو ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس صورتِ حال کے باعث اہلِ خانہ شدید کرب اور اذیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز سے مطالبہ کیا کہ وہ نعمت اللہ سمیت دیگر جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر فوری عمل درآمد یقینی بنائے اور متعلقہ حکام کو قانونی تقاضوں کے مطابق ان افراد کو منظرِ عام پر لانے اور ان کے خاندانوں کو معلومات فراہم کرنے کا پابند بنائے۔
دریں اثنا، عبدالرحمن مری ولد محمد بخش کے لواحقین نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سے رابطہ کرکے بتایا ہے کہ عبدالرحمن مری 13 جنوری 2015 سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔
لواحقین کے مطابق، 13 جنوری 2015 کو صبح تقریباً 9 بجے عبدالرحمن مری کو ہزار گنجی مری کیمپ، کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا۔ انہیں ایک روز تک سریاب تھانے میں رکھا گیا، جہاں بعد ازاں ذاتی مچلکے پر رہا کردیا گیا۔ تاہم رہائی کے اگلے روز انہیں دوبارہ تفتیش کے لیے فون کال کے ذریعے سریاب تھانے طلب کیا گیا۔ جب وہ تھانے پہنچے تو انہیں مزید دو روز تک حراست میں رکھا گیا، جس کے بعد وہ اسی تھانے سے لاپتہ ہوگئے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد سے آج تک عبدالرحمن مری کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی خاندان کو ان کی خیریت یا موجودگی سے آگاہ کیا گیا، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہیں۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے مطالبہ کیا ہے کہ عبدالرحمن مری کی جبری گمشدگی کے معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور انہیں فوری طور پر بازیاب کرکے اہلِ خانہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے مطابق مجاز عدالت میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں، جبکہ ان کی گمشدگی کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے ۔


















































