بلوچستان کے مختلف علاقوں سے چار افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کوئٹہ سے ایک طالب علم جبکہ ضلع آواران کے علاقے جھاؤ سے باپ بیٹے سمیت تین افراد شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے ایسٹرن بائی پاس کے رہائشی 20 سالہ طالب علم کفایت بلوچ ولد ہدایت اللہ بنگلزئی کو 18 ستمبر 2026 کی رات تقریباً 9 بجے یونیورسٹی آف بلوچستان کے سامنے سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ان کی جبری گمشدگی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار ملوث ہیں۔
دوسری جانب ضلع آواران کے علاقے جھاؤ میں پاکستانی فورسز نے باپ اور بیٹے سمیت تین افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یکم نومبر 2026 کو پاکستانی فورسز نے چھاپے کے دوران مولابخش ولد داؤد اور ان کے بیٹے غفار ولد مولابخش کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز پاکستانی فوج نے علاقے میں ایک اور چھاپہ مار کر دوست محمد ولد احمد کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

















































