امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو بالآخر ’سخت کارروائی‘ کرنا پڑے گی۔
دوسری جانب ایرانی حکام خبردار کیا ہے کہ دوبارہ چھڑنے والی جنگ پچھلی سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو آئیووا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مزید حملے اس لیے روک رکھے ہیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ان کے مطابق ’ایران کے خلاف کارروائی مکمل نہ کرنے کی واحد وجہ ہے کہ میں نرمی برتنا چاہتا ہوں، میں کوشش ہے کہ لوگوں کی جانیں بچیں، لیکن کسی نہ کسی وقت ہمیں ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنا پڑے گی۔’
اس سے قبل ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران میں ایک یا دو اہداف باقی ہیں جنہیں نشانہ بنانا ضروری ہے اور ان پر چند منٹوں میں حملہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کا ذکر کیا، جہاں زیر زمین جوہری تنصیب موجود ہونے کا شبہ ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کو روکنے کے لیے ہونے والی کوششیں غیر یقینی کی صورت حال میں ہیں۔
علاوہ ازیں امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے۔
اتوار کو سامنے آنے والی امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون کال میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو کب اور کس حد تک بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سنیچر کو ہونے والی اس گفتگو میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر بھی بات کی۔
اس موقع پر نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران پر حملے شروع کریں جبکہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پہلے مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔
رپورٹ میں ایک اعلٰی اسرائیلی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ یہ گفتگو ’سخت‘ تھی جبکہ امریکی عہدیدار نے اسے ’براہ راست اور واضح‘ بات چیت قرار دیا۔
آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بیک وقت دو راستے اختیار کیے ہیں۔
ایک طرف فضائی حملے اور دیگر فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ دوسری طرف معاہدے کے لیے کوشش بھی کرتے رہے تاکہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہو اور تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جا سکے۔
سنیچر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی ایک یا دو اہم معاملات باقی ہیں جن کو طے کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کرنے کی کوئی جلدی نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی ایران کی فوجی طاقت اور جوہری پروگرام کو بری طرح نقصان پہنچا چکا ہے۔
صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے سنیچر کو انکشاف کیا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک خط موصول ہوا ہے جس میں تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔
اسی طرح مذاکرات کی بحالی کی ایک اور علامت اس طرح بھی سامنے آئی ہے کہ قطری حکام کا ایک وفد جمعے کو تہران پہنچا جہاں ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کی گئی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اس دورے کا مقصد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث صدر ٹرمپ کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ امریکہ میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے پر ووٹرز ناراض ہیں۔
اسی وجہ سے یہ خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ اس کا اظہار ووٹر اپنے ووٹ کی شکل میں کر سکتے ہیں۔



















































