امریکی ایوان نمائندگان ٹرمپ کے ہاتھ سے نکل گیا، ڈیموکریٹس کو کنٹرول دوبارہ حاصل

39

امریکی ریاستوں ورمونٹ، ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، جورجیا اور فلوریڈا کے متعدد علاقوں میں پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ کے 206 اور ریپبلکن کے 120 ارکان کو برتری حاصل ہے۔

سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے 53 نشستوں سے سادہ اکثریت حاصل کر لی، جبکہ سینیٹ میں ریپبلکنز ارکان کی تعداد 41 ہو گئی ہے۔

435 رکنی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار ہوتی ہے۔

امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 100میں سے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔

انھوں نے کئی ہفتوں تک اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ایسے ووٹ دیں جیسے وہ خود انتخاب لڑ رہے ہوں۔ ایسے وقت میں جب ان کی مقبولیت ریکارڈ کم سطح پر تھی، خود کو ریپبلکن انتخابی مہم کا مرکز بنانا ہمیشہ ایک خطرناک حکمتِ عملی تھی، اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ الٹا اثر دکھا گئی ہے۔

اب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’مسٹر ویٹو‘ بن جائیں گے۔ وہ اپنے صدارتی ویٹو کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول کانگریس سے منظور ہونے والے کسی بھی بل کو قانون بننے سے روک سکتے ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس بھی اب ان کی مطلوبہ قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ کانگریس کے ذریعے ٹرمپ کے بعض متنازع فیصلوں اور ان طریقوں کی تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں جن کے ذریعے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد وہ اور ان کا خاندان مالی فائدہ حاصل کرتے رہے ہیں۔