میرے داغستان کا عظیم سپہ سالار شہید ہارون بزدار (کوہ سلیمان کا ہارون) – سلیمان بزدار

33

میرے داغستان کا عظیم سپہ سالار شہید ہارون بزدار (کوہ سلیمان کا ہارون)

تحریر: سلیمان بزدار

دی بلوچستان پوسٹ

ایک عظیم نوجوان، ایک باوقار ساتھی، ایک ہونہار طالب علم، ایک ملنسار راہشون، ایک سیاسی استاد، ایک جنگی کمانڈر اور پھر وطن کا عاشق، وطن پر قربان ہونے والے شہید ہارون جان۔

کبھی کبھار ان سے ملاقات کے بغیر شام کا ڈھلنا مشکل تھا۔ ان سے کچھ سیکھے بغیر ان کے محفل کو برخاست کرنا ناگوار سا لگتا تھا، مگر آج میں لکھ رہا ہوں اس عظیم باوقار ساتھی کی شہادت پر وہ الفاظ جو مجھ سے جڑ نہیں پا رہے۔ آج میں اپنے آپ کو یقین دلا رہا ہوں کہ واھگ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا، اب ان سے اس جہاں میں ملاقات ممکن نہیں۔

شہید ہارون جان کی شہادت کی خبر سن کر جب میں کل واپس وطن آیا تو مجھے کوہ سلیمان کا ہر وہ شخص غمزدہ لگا جو ہارون جان کو قریب سے جانتے تھے۔ ہر وہ شخص ان کی شہادت پر نازاں تھے مگر بچھڑنے پر غمزدہ۔ میں بھی غم سے نڈھال، دل و دماغ کو اس بات پر قائل کرتا جا رہا تھا کہ مجھے اپنے اس عظیم سپہ سالار کی عظیم شہادت پر فخر ہے۔ یقیناً مجھے فخر بھی ہے، مگر بچھڑنے کا یہ گہرا دکھ۔

چنالہ ان کا آبائی علاقہ، جہاں انہوں نے بچپن گزارا، نوجوانوں کے ساتھ کھیلوں میں حصہ لیا؛ جہاں وہ لہڑ (کہور) میں بیٹھ کر اپنے عظیم خیالات کا اظہار کرتے تھے؛ جہاں گھنے درختوں کے سائے تلے وہ عظیم فلسفے پر ہمیں سرکل دیتے تھے؛ جہاں وہ درآمدوں کو اپنے علاقے سے روک کر انہیں واپس بھیجتے تھے۔ کہتے تھے کہ ہارون کا علاقہ ہے، یہاں وہی آئے گا جو ہارون کا ہم خیال ہوگا، جو بلوچ کے بارے میں سوچے گا، نہ کہ سرکار کا دلار ہوگا۔

آج وہ علاقہ ویران سا لگ رہا ہے، مگر ایک امید ابھی بھی ہے کہ چنالہ کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ وہاں سینکڑوں ہارون کے شاگرد ہیں جو ہارون کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنانا چاہتے ہیں۔ وہ ضرور اس عظیم فلسفے کے پیروکار ہوں گے جو انہوں نے اپنے استاد سے سیکھا ہے۔

ہارون جان ایک سیاسی استاد تھے۔ وہ سیاست کو بخوبی سمجھتے تھے۔ وہ تونسہ و کوہ سلیمان کے ہر خطے میں جا کر لوگوں کو بلوچ قومی سیاست سے آگاہ کرتے تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو حقیقی سیاست کا دائرہ دکھا دیا۔ مگر بدقسمتی سے اس ریاست میں پرامن سیاسی نوجوانوں کو ٹارچر سیلوں کا نذر کیا جاتا ہے۔ ہارون جان ذاکر مجید، ڈاکٹر دین محمد، چیئرمین زاہد بلوچ کے پیروکار تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ اس ریاست نے ہمارے رہبروں کو کس اذیت ناک طریقے سے ٹارچر سیلوں سے نکال کر مارا۔ ہارون جان جانتے تھے کہ یہاں سیاست کرنے کا بھی ایک دورانیہ ہوتا ہے، مزید اب سیاست کی گنجائش نہیں، تو انہوں نے ہمیشہ دیگر ساتھیوں کی طرح پہاڑوں کا رخ کیا۔ وہ بولان، مکران، قلات، کاہان، چمالنگ اور کوہ سلیمان میں ایک گوریلا کمانڈر رہے۔

انہوں نے ایک کم عرصے میں دشمن کو وہ کاری ضرب لگائی جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری تین سال بیشتر انہی پہاڑوں میں گزارے۔ وہ جب لوٹ کر اپنے آبائی وطن کی طرف آتے تو سب دوستوں سے ملتے، ان کو اس عظیم فلسفے پر سرکل دیتے۔ یوں کچھ مہینے پہلے جب لوٹ کر محاذ کی طرف گئے تو پھر نہ لوٹے۔ یہ خبر لوٹی کہ ہارون لہڑی میں شہید ہو گئے۔

آپ کی شہادت پر میں نازاں، میرا اور آپ کا سنگت نازاں، کوہ سلیمان کا ذرہ ذرہ نازاں، غمزدہ چنالہ کی ہر شے نازاں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔