کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے، تربت پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرا دیا گیا۔
بلوچستان کے مختلف شہروں میں آزادیٔ صحافت پر پابندیوں، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں اور معاشی استحصال کے خلاف صحافیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
منگل کے روز کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں صحافیوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس “پی ایف یو جے” کے مطالبات کی حمایت میں احتجاج کیا، اس موقع پر تربت پریس کلب کے زیر اہتمام بھی مظاہرہ کیا گیا، جہاں صحافیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں جبکہ پریس کلب کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرایا گیا۔
تربت میں احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی، سابق صدر طارق مسعود اور صحافی الطاف بلیدی نے کہا کہ صحافیوں کو آزادیٔ اظہار پر پابندیوں، انتقامی کارروائیوں اور میڈیا مالکان کے معاشی استحصال کا سامنا ہے، جبکہ متعدد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملازمتوں سے فارغ کیا جارہا ہے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ برطرف صحافیوں کو بحال کیا جائے، تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں اور آزادیٔ صحافت پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔
انہوں نے صحافیوں کے پیشہ ورانہ، معاشی اور بنیادی حقوق کے تحفظ اور آزادانہ صحافت کے فروغ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔



















































