اسلام آباد میں پاکستانی فوج کی زیرِ صدارت ایک تین روزہ کانفرنس کے حوالے سے بلوچستان کی سیاسی صورتِ حال، صوبائی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلی اور ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کانفرنس کا آغاز 17 اگست کو ہوا اور اس کے آخری روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے اختتامی خطاب متوقع تھا، اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض صوبائی وزرا، پارلیمانی رہنماؤں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
ان ذرائع کے مطابق شرکا میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سرفراز بگٹی، صادق سنجرانی، سید احسان شاہ، ظہور بلیدی، گھرام بگٹی اور شازین بگٹی سمیت دیگر نام شامل ہیں۔
اسی طرح ذرائع نے بعض ایسے افراد کی شرکت کا بھی دعویٰ کیا ہے جنہیں بلوچستان میں ’ڈیتھ اسکواڈز‘ سے منسلک کیا جاتا رہا ہے، ان میں شفیق مینگل، فرید رئیسانی، جمال رئیسانی، فدا حکیم رند اور یاسر بھرام کے نام لیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کانفرنس کے ایک سیشن میں پاکستانی فوج کے ایک جنرل نے بلوچستان کی تاریخ، ریاستی تعلقات اور صوبے میں جاری شورش کے بارے میں شرکا کو بریفنگ دی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بریفنگ کے دوران بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی پاکستان سے وابستگی کی تاریخ پر بھی سخت زبان استعمال کی گئی۔
مبینہ طور پر بریفنگ میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان کبھی ایک آزاد ریاست نہیں رہا اور برطانوی دور کے بعد معاہدے کے ذریعے اسے پاکستان کا حصہ بنایا گیا، اس دوران بلوچستان کے بعض قبائلی سرداروں پر بھی سخت تنقید کی گئی۔
ذرائع کے مطابق بریفنگ میں نواب اکبر بگٹی کی 2006 میں قتل سے قبل ریاست کے ساتھ کشیدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، فوجی افسر نے اکبر بگٹی کی مسلح مزاحمت کے پس منظر میں شازیہ خالد کے ریپ کے معاملے کو بھی زیرِ بحث لایا اور اس واقعے سے متعلق الزامات کو مسترد کیا۔
شازیہ خالد کا معاملہ دراصل 2005 میں بلوچستان کے سوئی علاقے میں پیش آنے والے ایک ریپ کیس سے متعلق تھا، جس میں ایک فوجی افسر پر الزام عائد کیا گیا تھا، اس واقعے کے بعد بلوچستان میں شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا اور اسے اس وقت کی حکومت اور فوج کے خلاف بلوچ قوم پرست حلقوں کے احتجاج کے بڑے عوامل میں شمار کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بریفنگ میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دیگر بلوچ مسلح تنظیموں پر بیرونی ممالک سے مالی معاونت حاصل کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
پاکستانی ریاست ماضی میں بھی بلوچ مسلح تنظیموں پر بیرونی حمایت اور فنڈنگ کے الزامات عائد کرتی رہی ہے، جبکہ بلوچ مسلح گروہ اور ان کے حامی اکثر ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی، مبینہ بریفنگ میں یہ کہا گیا کہ دنیا دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے اور پاکستان کے مفادات اب مغرب، خصوصاً امریکہ، کے ساتھ زیادہ وابستہ ہیں۔
اسی دوران چین کے حوالے سے بھی ایک سخت مؤقف منسوب کیا گیا، جس کے مطابق پاکستان چین کو اپنی سرزمین پر مستقل فوجی یا تزویراتی موجودگی قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایران کے بارے میں بھی مبینہ طور پر شدید تنقید کی گئی اور الزام عائد کیا گیا کہ ایران نے پاکستان کے اندر بدامنی اور دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔
کانفرنس کے حوالے سے سامنے آنے والے سب سے اہم دعووں میں پاکستان میں صوبائی ڈھانچے میں تبدیلی اور ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کا امکان شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق بریفنگ میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ پاکستان میں جلد صوبوں کی تقسیم کی جائے گی اور اس کے بعد ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کی جائے گی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ کیا جا چکا ہے اور حکومت کے نئے ڈھانچے کا اعلان مستقبل قریب میں کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کانفرنس کے آخری سیشن میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی شرکت اور اختتامی خطاب متوقع تھا۔
اگرچہ اس اجلاس کے ایجنڈے، شرکا اور مبینہ بریفنگ کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔


















































