بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی تحصیل جیونی میں عوام کی نقل و حرکت پر پابندی برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے شہر میں داخل ہونے اور شہر سے باہر جانے کے لیے سخت اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ شہریوں کو صرف دو اوقات میں نقل و حرکت کی اجازت ہے: صبح 7:00 بجے سے 10:00 بجے تک، اور پھر دوپہر 3:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک۔ ان اوقات کے علاوہ کسی بھی شخص کو شہر میں داخل ہونے یا شہر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
ان پابندیوں کے باعث روزگار، تعلیم، علاج اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی اجتماعی سزا بھگتنے پر مجبور ہیں جس کا نہ کوئی عدالتی فیصلہ موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی واضح قانونی جواز عوام کے سامنے رکھا گیا ہے۔
شہریوں نے کہا کہ وہ کسی رعایت کے نہیں بلکہ اپنے بنیادی اور آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نقل و حرکت کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جبکہ اجتماعی سزا نہ انصاف ہے اور نہ ہی کسی مسئلے کا پائیدار حل۔
واضح رہے کہ رواں سال 3 جولائی کو پانوان میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے کیمپ پر بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ کے خودکش حملے کے بعد پاکستانی فوج نے مقامی آبادی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
علاوہ ازیں، نوشکی میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر شہر کے تمام مالیاتی ادارے بند کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث کاروباری حضرات اور شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

















































