نوشکی کے مختلف کلیوں کی ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی کی ممکنہ نقل مکانی، عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
نوشکی کے کلی بٹو، کلی احمدوال، کلی ہارونی اور کلی جورکین تک کی آبادی کو فوجی آپریشن کے پیش نظر عارضی طور پر دو ماہ کے لیےخالی کرانے کے فورسز حکام کے حکم نے مقامی آبادی میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کردی ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق مذکورہ علاقوں کے رہائشی پہلے ہی فورسز کرفیو کے باعث مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھروں، کاروبار، مال مویشی فصلات زرعی ٹیوب ویلز اور معمول کی زندگی چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور کرنا ایک سنگین انسانی مسئلے کو جنم دے سکتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اچانک نقل مکانی کے اعلان سے شہری ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں خصوصاً خواتین، بچوں، بزرگوں، مریضوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اپنے گھروں سے منتقل ہونا انتہائی مشکل صورتحال پیدا کرسکتا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ عسکری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے خالی کرانے کے فیصلے پر انسانی ہمدردی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرثانی کی جائے۔

















































