ایک مہروان سنگت کے نام ۔ سازین بلوچ

15

ایک مہروان سنگت کے نام
تحریر: سازین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

بہادری، فکر اور نظریہ، اور جب سوال آپ کی وجوہ کا ہو، تو وہ آپ کو کسی بھی قسم کے فیصلے اور قربانی سے نہیں روک سکتے۔ جب آپ کی فکر آپ کو یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ آپ کا مقصد کیا ہے، اور اس کا جواب دینے کے لیے مزاحمت اور قربانی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، تو ایسے ہی ایک نوجوان کو اپنے سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ وہ کس راستے پر ہے، اور پھر وہ اس فیصلے کو اپنا لیتا ہے۔ فرق اس بات سے نہیں پڑتا کہ قربانی کیا تھی، اور شہید سہیب جان نے بھی قربانی کا راستہ اختیار کیا۔

کبھی کبھی آپ کسی سے بہت کم ملتے ہیں۔ آپ کو کسی کو جاننے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا، لیکن گزرے ہوئے وہ چند لمحے بھی زندگی بھر یاد رہتے ہیں۔ شہید سہیب سے ملنے کے لیے زیادہ وقت تو نہیں مل سکا، مگر وہ کم وقت بھی ایک یاد بن گیا۔ کبھی انسان ان لمحوں کو یاد کرکے خود کو یہ تسلی دے دیتا ہے۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ اب وہ وقت اور وہ انسان دونوں نہیں رہے۔

22 جولائی، آج بھی وہ دن میرے سینے میں نقش ہے جب سنگت نے آپ کی تصویر بھیجی اور ساتھ میں یہ بھی لکھا تھا:

“سنگت ہم سے رخصت کر چکا ہے۔”

یہ دیکھتے ہی میں ایک خاموش کیفیت میں چلا گیا اور اس بات پر یقین کرنا جیسے مشکل ہی ہو گیا۔ دل و دماغ میں ایک ہی سوال تھا کہ یہ سب اتنی جلدی کیسے ہو گیا؟ آپ کو اتنی جلدی نہیں جانا تھا، لیکن میں یہ سوچ کر خود کو تسلی دے رہی تھی کہ آپ کی جس چیز کی خواہش تھی، وہ پوری ہو گئی۔ آپ کو اس سرزمین کا حق ادا کرنا تھا۔ وہ فکر، جسے یہ ریاست آپ سے چھیننے کے لیے آپ کو زنداں میں قید کرتی رہی، لیکن وہ اپنی اس ناکام کوشش میں کامیاب نہ ہو سکی۔

اور اس وقت مجھے آپ کی کہی ہوئی ایک بات یاد آگئی۔ ہم بیٹھے تھے اور سنگت نے ایک بااختیار سوال پوچھا کہ:

“سرزمین اور شہیدوں کا حق ادا کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟”

سہیب اس کی طرف دیکھ کر مسکرا کر بولا:

“قربان، سرزمین کا اور شہیدوں کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ اگر حق کی بات ہے تو ہمیں اپنا حق ادا کرنا ہے، اور وہ انسان کو خود پتا ہوتا ہے کہ سرزمین کا کیا حق ہے۔ آج اگر کوئی اس کا حق ادا کر رہا ہے تو وہ وہی لوگ ہیں جو گھر، زندگی، خواہش، سب کچھ چھوڑ کر اپنے آپ کو اس وطن اور آنے والی نسل کے لیے قربان کر رہے ہیں۔ اس ظلم کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ تم پر ہے کہ ان شہیدوں کا حساب لینا ہے یا پھر خود کو یہ تسلی دینی ہے کہ میں کچھ نہیں کر سکتا، اور اپنی کمزوری کو اپنی سوچ پر مسلط کرنا ہے۔”

یہ سن کر سنگت نے پوچھا:

“تمہارا کیا خیال ہے؟”

سہیب اس بات پر بااختیار انداز میں ہنسا اور بولا:

“قربان، یہ کون نہیں چاہتا کہ وہ خود کو اس سرزمین کے لیے فنا کر دے، لیکن اس بات کا جواب میں نہیں دے سکتا۔”

وہ ریاست کے ظلم کو برداشت کر چکا تھا، لیکن اس کے بعد بھی اپنے شعور اور فکر پر اس سوچ کو آنے نہیں دیا، اور آپ نے خود کو قربان کرکے یہ ثابت کر دیا کہ سرزمین کا حق کیسے ادا ہوتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔