بی ایل اے نے پنجگور حملے میں جاں بحق ہونے والے سات ارکان کی تفصیلات جاری کر دی

266

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان جنوری 2026 میں ضلع پنجگور کے علاقے پاردان میں ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے والے اپنے سات سرمچاروں کی شناخت اور ان کے بارے میں تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

تنظیم کے بیان کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں عبدالغفور عرف چاکر، امداد بلوچ عرف نود، حافظ ممتاز عرف زیرک، حافظ زید عرف سگار، یاسر بلوچ عرف عاجز، شاجہان عرف ساوڑ اور علی رضا عرف شیہک شامل ہیں۔

بیان کے مطابق عبدالغفور عرف چاکر کا تعلق کشانی بازار، گوارگو، پنجگور سے تھا اور وہ پیشے کے اعتبار سے ایک اسکول ٹیچر تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے 20 نومبر 2025 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور بنیادی تربیت مکمل کرنے کے بعد پنجگور کے محاذ پر سرگرم رہے۔

تنظیم کے مطابق امداد بلوچ عرف نود، جن کا تعلق گرمکان، پنجگور سے تھا، 17 ستمبر 2025 کو تنظیم میں شامل ہوئے تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مختلف کارروائیوں میں شریک رہے اور لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کے استعمال میں مہارت رکھتے تھے۔

بی ایل اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حافظ ممتاز عرف زیرک، جن کا تعلق دمبان، رخشان، پنجگور سے تھا، 25 اگست 2025 کو تنظیم میں شامل ہوئے۔ تنظیم نے انہیں محنتی اور متحرک رکن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تربیت مکمل کرنے کے بعد مختلف عسکری سرگرمیوں میں شریک رہے۔

بیان کے مطابق حافظ زید عرف سگار، جو تسپ، پنجگور کے رہائشی اور حافظِ قرآن تھے، 26 اگست 2025 کو تنظیم میں شامل ہوئے تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی تربیت کے بعد پنجگور کے محاذ پر تعینات رہے اور مختلف ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔

بی ایل اے نے یاسر بلوچ عرف عاجز کے بارے میں کہا ہے کہ وہ 2021 سے تنظیم سے وابستہ تھے، ابتدا میں شہری سطح پر سرگرم رہے جبکہ 2023 میں پہاڑی محاذ میں شامل ہوئے۔ بیان کے مطابق انہوں نے مختلف علاقوں میں تنظیمی ذمہ داریاں نبھائیں۔

تنظیم کے مطابق شاجہان عرف ساوڑ کا تعلق گرمکان، پنجگور سے تھا اور انہوں نے 27 اگست 2024 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مختلف کارروائیوں میں شریک رہے اور ان کے دو بھائی بھی اس سے قبل شہید ہو چکے تھے۔

بیان میں علی رضا عرف شیہک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ تسپ، پنجگور کے رہائشی تھے اور اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس سوشیالوجی کی ڈگری رکھتے تھے۔ تنظیم کے مطابق انہوں نے 21 اکتوبر 2024 کو شمولیت اختیار کی اور بنیادی تربیت مکمل کرنے کے بعد پنجگور کے محاذ پر سرگرم رہے۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد جنوری 2026 میں پنجگور کے علاقے پاردان میں ایک ڈرون حملے میں جاں بحق ہوئے۔