انٹیلی جنس پر مبنی مختلف کارروائیوں میں ایم آئی کے کارندوں سمیت 12 ریاستی آلہ کار ہلاک – بلوچ لبریشن آرمی

412

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 31 مارچ سے 13 جولائی 2026 کے دوران مقبوضہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کرتے ہوئے قابض پاکستانی فوج، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور مقامی ڈیتھ اسکواڈز کے 12 اہم مخبروں اور آلہ کاروں کو ہلاک کر دیا۔ ان کارروائیوں کے دوران حراست میں لیئے گئے بلوچ دشمن عناصر کے خلاف بلوچ قومی عدالت میں باقاعدہ سماعت کی گئی اور قومی غداری سمیت سنگین بلوچ کش جرائم ثابت ہونے پر عدالت کی طرف سے انہیں سزائے موت سنائی گئی، جس پر سرمچاروں نے مقررہ مقامات پرعمل درآمد یقینی بنایا۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 5 جولائی کو بلیدہ کے علاقے الندور میں ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے سرگرم کارندے سہیل ولد ابراہیم کو ایک مسلح حملے میں ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندہ قابض فوج کے لیے مخبری کرنے، نئی بھرتیاں کرانے اور فوج کے تشکیل کردہ مسلح ڈیتھ اسکواڈ کا حصہ بن کر بلوچ کش سرگرمیوں میں براہِ راست ملوث تھا۔ یہ کارندہ بی ایل اے کے سرمچاروں، سنگت جابر نصیر عرف سمیر اور سنگت فقیر جان عرف میر جان کی شہادت میں بھی براہِ راست ملوث تھا۔

انہوں نے کہاکہ علاوہ ازیں، سرمچاروں نے 12 جولائی کو ماشکیل میں پاکستانی فوج کی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندوں کے ایک خفیہ ٹھکانے پر مسلح حملہ کر کے وہاں موجود پانچ کارندوں کو ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندے علاقے میں بھیس بدل کر قابض فوج کے لیئے مخبری کا نیٹ ورک چلا رہے تھے اور انہوں نے ایک دکان کو بطورِ سہولت کاری مرکز اور ٹھکانہ استعمال کر رکھا تھا۔

سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اہم کارندے حاجی منان ماککی اور اس کے دستِ راست آصف جوگزئی کو نوشکی کے علاقے مَل دوشئی سے حراست میں لیا۔ دورانِ تفتیش حاجی منان نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے مَل میں رہائش پذیر تھا اور نوشکی عسکری کیمپ میں تعینات پاکستانی فوج کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسفند یار ترین (سکنہ پشین) کے ساتھ براہِ راست منسلک تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اسے مَل اور گردونواح میں آزادی پسند سرمچاروں کی نقل وحرکت اور روٹس کی نشاندہی کا ٹاسک دیا گیا تھا، جبکہ وہ حافظ ممتاز کے ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کیمپ میں بھی باقاعدگی سے جاتا رہا ہے۔ مزید برآں، وہ علاقے میں قابض فوج کی ایما پر نام نہاد سرکاری جرگے منعقد کرنے اور فوجی پوسٹیں قائم کرنے میں سہولت کاری فراہم کرتا تھا۔ آلہ کار منان نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ قابض فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ کیئے گئے بلوچوں کے مجبور اہلخانہ سے ان کے پیاروں کو بازیاب کرانے کے بدلے بھاری رقوم بٹورنے اور ‘دعوتیں’ وصول کرنے کے گھناؤنے دھندے میں ملوث رہا ہے۔ ان تمام جرائم میں آصف ولد خان محمد جوگزئی مسلسل اس کا شریکِ کار رہا۔ دورانِ تفتیش آصف جوگزئی نے بھی حاجی منان کے ساتھ مل کر اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا۔ بلوچ قومی عدالت نے ان دونوں افراد کو دھرتی اور قوم سے غداری اور بلوچ کش اعمال میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائی، جس پر سرمچاروں نے جورکین کے مقام پر عمل درآمد کیا۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 13 جولائی کو نوشکی بازار میں قابض پاکستانی فوج کے ایک اور اہم ترین کارندے طارق بادینی کو مسلح حملے میں ہلاک کر دیا۔ مذکورہ کارندہ قابض فوج کے ریاستی ‘سرینڈر ڈراموں’ کا سہولت کار ہونے کے ساتھ ساتھ نوشکی شہر اور گردونواح میں قابض فوج کے مخبروں کے پورے نیٹ ورک کی سربراہی کررہا تھا۔ یہ آلہ کار چادر اور چار دیواری کی پامالی، گھروں پر فوجی چھاپوں اور خواتین و بزرگوں کی تذلیل و ہراساں کرنے کے واقعات میں قابض فوج کے ہمراہ براہِ راست شریک تھا۔ طارق بادینی اپنے سگے بھائی سلال بادینی اور کزن فرید بادینی کی مخبری کرکے انہیں قابض فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ کرانے کا بھی مرتکب ہوا تھا، جنہیں بعد ازاں اکتوبر 2022 میں قابض فوج نے زیرِ حراست شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں زرین جنگل، نوشکی کے مقام پر پھینک دی تھیں۔ مزید برآں، یہ کارندہ نوشکی میں قابض فورسز کی ایما پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں میں بھی ملوث تھا۔

انہوں نے کہاکہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے عزیز احمد (سکنہ قادر آباد، نوشکی) کو اس کے گھر سے حراست میں لیا۔ دورانِ تفتیش مذکورہ شخص نے اعتراف کیا کہ وہ قابض پاکستانی فوج کے لیے بطور آلہ کار کام کر رہا تھا۔ آلہ کار عزیز نے اعتراف کیا کہ وہ قابض فوج کے کیمپوں تک رسد پہنچانے سمیت نوشکی سے کوئٹہ تک فوجی اہلکاروں کو بھیس بدل کر اپنی نجی گاڑیوں میں منتقل کرنے کی لاجسٹک سہولت کاری فراہم کرتا تھا۔ عزیز احمد نے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا کہ وہ قابض فوج کے اسٹیشن پوسٹ، گلنگور پوسٹ اور 102 ونگ پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے خواتین کو لے جاتا رہا ہے، جہاں وہ مجبور خواتین کو بلیک میل کر کے قابض فوج اور خفیہ اداروں کے لیے بطور مخبر کام کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ اس سنگین قومی غداری کی پاداش میں آلہ کار عزیز احمد کو سزائے موت دے دی گئی۔ دورانِ تفتیش اس آلہ کار نے اپنے نیٹ ورک کے دیگر ساتھیوں کے ناموں سمیت کئی اہم تنظیمی راز بھی افشاں کیئے ہیں، جن کے خلاف جلد ہی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے پنجگور کے علاقے پاردان میں سرمچاروں کے عارضی ٹھکانے پر ہونے والے ڈرون حملے میں ملوث قابض فوج کے دو آلہ کاروں، مول جان ولد عبد القدوس اور وزیر ولد عبدالقادر (سکنہ سبزآپ، پنجگور) کو 31 مارچ کو حراست میں لیا تھا۔ ان دونوں کارندوں نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے ستار نامی شخص کی سربراہی میں چلنے والے ‘ڈیتھ اسکواڈ’ سے خفیہ طور پر منسلک تھے۔ رواں سال جنوری میں وہ ستار اور ملا شریف کی ہمراہی میں قابض فوج کے مرکزی کیمپ گئے، جہاں عسکری حکام سے ملاقات کے بعد انہیں سرمچاروں کی جاسوسی کے لیے ‘ٹریکنگ چپس’ دیئے گئے۔ آلہ کاروں نے اعتراف کیا کہ چپ رکھنے سے قبل انہوں نے علاقے میں سرمچاروں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی اور ڈیتھ اسکواڈ کے ہمراہ قابض فوج کے لیے لاجسٹک سہولیات فراہم کیں۔ ان دونوں کارندوں نے باقاعدہ اعتراف کیا کہ انہوں نے وہ ٹریکنگ چپس پنجگور کے علاقے پاردان میں سرمچاروں کے عارضی ٹھکانے تک پہنچائیں، جس کے فوراً بعد قابض فوج نے اس مخصوص لوکیشن پر ڈرون حملہ کرکے سرمچاروں کو نشانہ بنایا۔ اس ڈرون حملے کے اگلے ہی روز ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کی سربراہی میں ایک بڑا جتھا قابض فوج کے ہمراہ وہاں پہنچا اور علاقے میں فوجی جارحیت کا آغاز کیا۔ بلوچ قومی عدالت نے ان دونوں کارندوں کے اس سنگین قومی جرم پر انہیں عبرت ناک سزا دینے کا فیصلہ کیا، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے سرمچاروں نے یکم جولائی کو انہیں پنجگور کے علاقے گوارگو میں عبرت ناک موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ ڈرون حملے میں بلوچ لبریشن آرمی کے سات سرمچار، سنگت عبدالغفور عرف چاکر، سنگت امداد عرف نود، سنگت حافظ ممتاز عرف زیرک، سنگت حافظ زید عرف سگار، سنگت یاسر عرف عاجز، سنگت علی رضا عرف شیہک اور سنگت شاہجہان عرف ساوڑ جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی یہ واضح کردینا چاہتی ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کی مٹی پر اب کسی بھی قومی غدار، مخبر یا ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے کے لیئے کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہے گی۔ وہ تمام عناصر جو چند مراعات یا قابض فوج کی عارضی سرپرستی کے زعم میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف صف آرا ہیں، وہ جان لیں کہ ان کے آقاؤں کا حفاظتی حصار اب خود اپنی بقا کے لیئے ہچکیاں لے رہا ہے۔ بلوچ دھرتی سے غداری کرنے والوں کے خلاف ہماری گرفت اور کارروائیوں کا دائرہ کار اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں کسی قسم کی معافی، رعایت یا سمجھوتے کا کوئی امکان باقی نہیں بچا۔ اگر اب بھی دھرتی دشمن روش ترک نہ کی گئی، تو ان مخبرو و آلہ کاروں کا انجام تاریخ کا سب سے عبرت ناک باب بنے گا۔