کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ آج 6362ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین مہیم خان بلوچ نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرکے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے روزانہ جبری گمشدگیوں اور پہلے سے لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کی شکایات موصول ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کی لاشیں پھینکنے جیسے ماورائے آئین اقدامات سے بلوچستان کے حالات بہتر نہیں ہوں گے بلکہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔
نصراللہ بلوچ نے حکومت اور ریاستی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے تمام اداروں کو ملکی قوانین اور آئین کے مطابق اقدامات کا پابند بنائیں، لاپتہ بلوچ افراد کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے، لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور جن افراد پر الزامات ہیں، انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ بلوچستان میں جاری بے چینی کا خاتمہ ہو اور حالات کو بہتری کی جانب لے جایا جا سکے۔

















































