بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام سردار عطاء اللہ مینگل کی پانچویں برسی اور شہدائے شاہوانی اسٹیڈیم کی پہلی برسی کی مناسبت سے کراچی پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی، سماجی اور قوم پرست رہنماؤں، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہمارے پاس بولنے کے لیے بہت کچھ ہے لیکن آج ہم اس راہشون کی برسی بلوچستان میں نہیں مناسکتے جس نے اپنی پوری زندگی بلوچ اور بلوچستان کے لیے وقف کردی تھی یہ ایک المیہ ہے۔ اگر ہم بلوچستان میں یہ دن منائیں بھی تو شاید شہداء کی ایک اور فہرست بنے گی۔ جب ہم اپنے شہداء کی تصاویر بنائیں تو شاہراہ فیصل ان تصاویر کو آویزاں کرنے کے لیے کم پڑ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سردار عطاء اللہ مینگل کو سیاست میں لانے کے لیے میر غوث بخش بزنجو نے بارہا کوشش کی۔ بلدیاتی نظام کے تحت ایوب خان کے دور میں 25 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کے لیے 25 ہزار روپے کے فنڈز دیے گئے تو اسی واقعے کے سبب سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاست میں دلچسپی بڑھی۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ پنجاب کا مائنڈ سیٹ شروع دن سے مظلوم اقوام کو محکوم بنانے پر قائم ہے۔ لک پاس کے مقام پر 28 مارچ کو ہم پر خودکش حملہ کیا گیا اور 2 ستمبر کو ایک دفعہ پھر ہمارے جلسے پر، جب تمام سیاسی قیادت جمع تھی حملہ کیا گیا، لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود اس واقعے کی تحقیقات نہیں کی گئیں اور نہ ہی متاثرین سے کوئی پوچھ گچھ ہوئی۔ جس تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہمیں معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو قتل عام، جبری گمشدگیاں اور لاشیں پھینکی جارہی ہیں، یا زندہ خواتین کو گھروں سے نکال کر ویرانوں میں پھینکا جارہا ہے، اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ہمنواؤں کے نزدیک سب کچھ خیر خیریت ہے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ دانشور اور میڈیا کی سوچ اور قلم پر جہاں پہرہ لگادیا جائے، وہاں کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟ ہم نے جمہوری انداز میں ایوانوں میں جاکر اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کی کوشش کی۔ بلوچستان میں ہمارے جلسوں میں جھنڈا اٹھانا، کسی بہن کے سر پر دوپٹہ رکھنا یا کسی مظلوم باپ کے آنسو پونچھنا بھی جرم بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سردار نصیر موسیانی کے بیٹوں کو ان کے سامنے قتل کیا گیا اور انہیں اپنے بیٹوں کی نماز جنازہ میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جو اپنا غصہ ہندوستان کے بارڈر پر نہیں نکال سکتا، وہ اپنا غصہ بلوچوں پر نکال دیتا ہے۔ ہر بلوچ سرفراز بگٹی اور انوار الحق نہیں ہوسکتا جو کہتے ہیں کہ ان کی ماں بھی گرفتار کی جائے تو وہ کچھ نہیں کہیں گے۔
سردار اختر مینگل نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اونٹ، گائے اور گدھے پارلیمنٹ میں جمع کیے گئے ہیں۔ ایک سابق وزیراعظم کے خلاف سو ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں، لیکن ایک اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو احتجاج کے جرم میں تحقیق کے بغیر 25 سال قید کی سزا سنادی جاتی ہے، ایمان مزاری کو ایک ٹویٹ پر ان کے شوہر کے ساتھ قید کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم ظلم و زیادتی کے خلاف بولتے ہیں تو غدار قرار دیے جاتے ہیں جبکہ قصیدہ خوانی اور تعریف میں قوالیاں گانے والے محب وطن کہلاتے ہیں۔ جس شخص کو بلوچستان کے جغرافیہ کا علم نہیں اور وہ بلوچستان پر ٹویٹ کرکے اپنی بیوی کو اگلے سینیٹ کے لیے بلوچستان سے سینیٹر بنائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مستونگ میں باغات کی کٹائی اپنی نالائقی اور گناہوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔ جو خاتون گھر سے باہر نکلنے کو عیب سمجھتی تھی، وہ بچیاں آج مزاحمت کررہی ہیں۔ سمی دین بلوچ اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان کی پاپولر لیڈر بن گئی ہیں۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہر برسراقتدار آمر نے اپنے بازوئے شمشیر کے ذریعے اس ملک پر تجربہ کیا۔ ایوب خان سے موجودہ فوجی اسٹیبلشمنٹ تک سب نے اس ملک اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ پاکستان کا موجودہ نظام چڑیا گھر کی ممتاز بیگم کی مثال ہے، جس کا دھڑ سیاسی اور سر فوجی ہے۔
انہوں نے نئے صوبوں کی بحث پر کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے لیے کبھی کوئی تحریک نہیں چلی۔ صوبوں کی تقسیم کا فیصلہ انتہائی غلط ہوگا اور اس ملک کو مزید تقسیم کی جانب ایک قدم ہوگا۔ ون یونٹ بنانے والے آج صوبوں کی تقسیم کی بات کررہے ہیں، حالانکہ سیاسی اکابرین نے ون یونٹ کے خلاف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ یہ قومیں نسل کشی اور قتل عام برداشت کرسکتی ہیں لیکن اپنی شناخت مٹانے کے لیے خاموش نہیں رہیں گی۔
تعزیتی ریفرنس سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کو اس کی اصل ساخت کے ساتھ بحال کیا جائے۔ عمران خان اس ملک کے وزیراعظم رہے، مگر انہیں اس لیے قید کیا گیا ہے کہ وہ اصل حکمرانوں کی اطاعت گزاری سے انکاری ہیں۔ ملک کو تباہی اور بربادی کی جانب لے جانے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج بھی آئین و قانون اور عدلیہ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں، انہیں غدار کہا جاتا ہے۔ سردار عطاء اللہ مینگل جیسے اکابرین کے سیاسی نقش قدم پر غیر متزلزل جدوجہد کے ذریعے ہی غیر سیاسی عناصر کو شکست دی جاسکتی ہے۔
تحفظ آئین پاکستان کے رہنما علامہ راجہ عباس ناصر نے بھی تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئین کی بالادستی اور اس کی اصل روح کے مطابق بحالی پر زور دیا۔
کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا اجتماع کراچی پریس کلب کی میزبانی میں ہورہا ہے۔ جب جب ملک کے اندر جبر کا ماحول پیدا کیا گیا، کراچی پریس کلب نے پہل کی۔ جب آزادی کی بات ہو یا گھٹن ختم کرنے کی بات ہو، پریس کلب آگے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ آج کل میڈیا میں پروگرام کہیں اور سے بن کر آگے آتے ہیں۔ مین اسٹریم میڈیا پر صوبے بنائے جانے کی بات ہورہی ہے۔ پہلے ایک لیڈر کو 2018 میں امام بناکر پیش کیا گیا، آج سردار اختر مینگل، ماہ رنگ بلوچ اور عمران خان کے نام لینے پر پابندی ہے۔
فاضل جمیلی نے کہا کہ علی وزیر آج کس گناہ میں بند ہیں، کوئی نہیں بول رہا۔ ایمان مزاری آج بند ہیں، کوئی ان کا نام نہیں لے رہا۔ آج کے میڈیا کو میں ’’طوطا میڈیا‘‘ کہتا ہوں، کوئی تکلیف پر بات نہیں ہورہی۔ لیڈروں کو چور کہا گیا، پھر انہیں حکمران بنایا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ ملک کے اصل حکمران کون ہیں۔
محمد علی تالپور نے کہاکہ جہاں بات نہیں مانی جائے اور سیاسی کارکنوں کو سچ بات کہنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑے وہ جمہوری جدوجہد نتیجہ خیز نہیں ہوتا، ظلم و جبر کے خلاف واحد راستہ مزاحمت ہے۔
جسقم رہنما الٰہی بخش بھگت نے سردار عطاء اللہ مینگل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن سردار عطاء اللہ مینگل کو سلام پیش کرتے ہیں۔ میرا رہبر سائیں جی ایم سید تھا اور آج میں جو کچھ ہوں انہی قائدین کی وجہ سے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سردار عطاء اللہ مینگل نے عدم تشدد کا فلسفہ اپنایا، ایسے لیڈر اور رہنما آج کے دور میں نہیں ہیں۔ ہم آج سب مظلوم ہیں۔ آج میڈیا پر سب کچھ اوپر سے چل رہا ہے اور ہمارے بچوں کو مسنگ کیا جاتا ہے۔
الٰہی بخش بھگت نے کہا کہ آج ان لوگوں کو سندھ نہیں بلکہ کراچی چاہیے، انہیں بلوچستان نہیں بلکہ گوادر چاہیے۔ کراچی پر تو اس وقت پہلے سے ہی قبضہ ہوا ہے۔ آج خالد مقبول صدیقی صوبوں کی بات کررہے ہیں، جبکہ مصطفیٰ کمال ماضی میں خالد مقبول صدیقی کو را کا ایجنٹ قرار دیتے رہے ہیں۔
قومی عوامی تحریک کے رہنما مظہر راہجو نے کہا کہ سردار عطاء اللہ مینگل کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ عوام کے حقوق کی بات کرنے والوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا، اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوتا اور ہم غلامی قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی بات کی جارہی ہے، جبکہ ریاست کے دہشت گرد صوبوں کی بات کررہے ہیں۔ ملک کے نظام کو تباہ کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ نئے صوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے قاری عثمان نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات خراب ہیں، ملک کے حالات پر رحم کیا جائے اور ملک میں امن قائم کیا جائے۔ ’’نکا اور کاکا‘‘ کھلونوں سے ملک نہیں چلتا۔ چار صوبے سنبھال نہیں رہے اور نئے صوبوں کی بات کی جارہی ہے۔ حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے صوبوں کی بات کی جارہی ہے، پہلے امن قائم کیا جائے، پھر صوبوں کی بات کی جائے۔
تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاسی جدوجہد، بلوچ اور دیگر مظلوم اقوام کے حقوق کے لیے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کی مضبوطی، سیاسی آزادی اور صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

















































