بلوچ لبریشن آرمی نے لیتھیم و دیگر معدنیات کو نکالنے والی کمپنیوں کو تنبیہ کیا ہے کہ وہ ‘استحصالی پروجیکٹس’ سے دور رہیں۔ مزید کہا گیا کہ بی ایل اے اپنی ‘معاشی ناکہ بندی’ کی حکمتِ عملی کے تحت بلوچ قومی وسائل اور بالخصوص لیتھیم جیسے حساس قومی اثاثوں کا دفاع تمام عسکری قوت کے ساتھ کرنے پر کاربند ہے۔
یہ بیان بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے اتوار کے روز ماشکیل سمیت لسبیلہ و جیونی میں پاکستان فوج اور معدنیات نکالنے والی کمپنی کے سائٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دیا۔
خیال رہے ہفتے کے روز بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے لسبیلہ میں پاکستان فوج کے قافلے اور جیونی میں پاکستان فوج سے منسلک نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) کے اہلکاروں کو مسلح حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ مذکورہ حملوں میں پاکستانی حکام نے آٹھ اہلکاروں کے ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کے بیان کے مطابق حملوں میں 13 اہلکار ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوئیں۔
بلوچ لبریشن آرمی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ لیتھیم اکیسویں صدی کی عالمی توانائی کی تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرک بیٹریوں کی پیداوار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ایک انتہائی نادر، اور تزویراتی معدنیات ہے۔ بلوچ سرزمین لیتھیم کے ان نایاب قدرتی ذخائر سے مالامال ہے جو بلوچ قوم کی آنے والی نسلوں کے محفوظ معاشی، سیاسی وجغرافیائی مستقبل کی بنیادی ضمانت ہیں۔ شدید ترین معاشی تباہی اور دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی قابض پاکستانی ریاست، جس کے پاس اپنے نوآبادیاتی تسلط اور عسکری اخراجات کو برقرار رکھنے کے لیئے مالی وسائل ختم ہوچکے ہیں، اب بلوچ قوم کے اس قیمتی اثاثے کو عالمی منڈی میں غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں نیلام کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ بی ایل اے یہ واضح کرتی ہے کہ قابض ریاست کی جانب سے بلوچ لیتھیم کی لوٹ مار کے ذریعے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کا یہ عمل بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور بلوچ قومی مرضی کی شدید ترین خلاف ورزی ہے۔
ترجمان جیئند بلوچ نے مزید کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی ایک حتمی اور واضح پالیسی کے تحت تمام بین الاقوامی وعلاقائی کان کنی کمپنیوں، نجی سرمایہ کاروں اور گلوبل کنسورشیمز پر یہ حقیقت آشکار کرتی ہے کہ قابض پاکستانی فوج یا اس کی کسی بھی کٹھ پتلی انتظامیہ کو بلوچ سرزمین کی حدود کے اندر لیتھیم یا کسی بھی دیگر معدنیات کا سودا کرنے کا کوئی قانونی، اخلاقی یا جغرافیائی استحقاق حاصل نہیں ہے۔ قابض پاکستان کے ساتھ لیتھیم کی تلاش، ایکسپلوریشن، لیسنسنگ یا ڈرلنگ سے متعلق کیا گیا ہر معاہدہ، دستخط شدہ دستاویز اور مالیاتی شراکت داری مکمل طور پر کالعدم، غیر قانونی اور باطل تصور ہوگی۔ عالمی کمپنیاں اسلام آباد کی غاصب اور غیر مستحکم انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے تجارتی معاہدوں سے مکمل طور پر پرہیز کریں اور بلوچ سرزمین پر جاری تمام لیتھیم پروجیکٹس سے اپنی سرمایہ کاری، عملہ اور لاجسٹک وسائل فوری طور پر نکال لیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے اپنی ‘معاشی ناکہ بندی’ کی حکمتِ عملی کے تحت بلوچ قومی وسائل اور بالخصوص لیتھیم جیسے حساس قومی اثاثوں کا دفاع تمام عسکری قوت کے ساتھ کرنے پر کاربند ہے۔ ماشکیل میں لیتھیم نکالنے والی استحصالی پروجیکٹ سائٹ کا کنٹرول حاصل کرکے ڈرلنگ مشینری کو نذرِ آتش کرنا اس پالیسی کے عملی نفاذ کی ایک واضح کڑی اور حتمی تنبیہ ہے۔ اگر کسی بھی بین الاقوامی یا مقامی کمپنی نے قابض فوج کی عسکری چھتری کے فریب میں آکر لیتھیم کی چوری میں معاونت کی، تو اس کی تمام ڈرلنگ سائٹس، فیلڈ کیمپس، نقل و حرکت اور تکنیکی عملہ بی ایل اے کا براہِ راست عسکری ہدف ہوں گے۔ بلوچ قوم اپنے ساحل، وسائل اور نایاب معدنیات کے تحفظ کے لیئے ہر حد عبور کرے گی اور آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام تک استحصالی منصوبوں کے خلاف یہ جنگ پوری شدت سے جاری رہے گی۔
















































