خضدار میں شفیق مینگل کے ڈیتھ اسکواڈ کے ٹھکانے پر حملہ، پانچ کارندے ہلاک – آپریشن مرگِ غداران جاری – بلوچ لبریشن آرمی

68

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے خضدار کے علاقے وڈھ کے مقام آڑینجی میں اواک کے علاقے میں قابض ریاست کے پروردہ، بدنامِ زمانہ قومی غدار اور ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق لغور مینگل کے ایک اہم اور سرگرم ٹھکانے پر ایک کامیاب حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ٹھکانے پر موجود تمام 5 مسلح کارندے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جن میں عبدالحئی، نعمت اللہ، یحییٰ، نصیر احمد اور نام نہاد سرکاری وردی کی آڑ میں ڈیتھ اسکواڈ کے لیئے کام کرنے والا پولیس کارندہ نورا محمد زئی شامل ہیں۔ سرمچاروں نے اس کامیاب کارروائی کے بعد موقع سے دشمن کا تمام اسلحہ اور دیگر عسکری سازوسامان بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔

ترجمان نے کہاکہ یہ کارروائی بلوچ لبریشن آرمی کے اس فیصلہ کن عزم کا تسلسل ہے جس کے تحت قومی غداروں، اور قابض ریاست کی سرپرستی میں چلنے والے مسلح ڈیتھ اسکواڈز کے مکمل صفائے کے لیئے رواں سال ‘آپریشن مرگِ غداران’ کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس سے قبل بی ایل اے کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ نے خضدار ہی میں شفیق مینگل کے مرکزی عسکری کمپاؤنڈ پر ایک فدائی حملے کے ذریعے اس کے 34 کارندوں کو ہلاک کیا تھا، جہاں یہ بزدل سرغنہ اپنے ساتھیوں کو مرنے کے لیئے چھوڑ کر بلٹ پروف گاڑی میں دم دبا کر فرار ہوگیا تھا۔ ‘آپریشن مرگِ غداران’ کے تحت دھرتی کے ان غداروں اور ان کے تمام کارندوں کے لیئے اب فرار کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے، اور تنظیم کے عسکری دستے ان کے ہر خفیہ ٹھکانے کو مٹی میں ملانے کے لیئے مسلسل سرگرمِ عمل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس موقع پر بلوچ لبریشن آرمی واضح الفاظ میں ان تمام افراد کو تنبیہ کرتی ہے جو کسی نادانی، لاعلمی، مجبوری یا فریب میں آکر شفیق لغور مینگل یا دیگر ڈیتھ اسکواڈز کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ بی ایل اے ایسے افراد کو ایک حتمی اور واضح موقع دیتی ہے کہ وہ فوری طور پر شفیق مینگل اور اس کے ڈیتھ اسکواڈ سے اپنے تمام تر تعلقات، روابط اور عسکری معاونت کو مکمل طور پر منقطع کردیں اور ایک پرامن شہری کی زندگی اختیار کریں۔ ایسے افراد کو بی ایل اے کی طرف سے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

مزید کہاکہ تاہم، اس واضح تنبیہ اور دیئے گئے موقع کے بعد بھی اگر کوئی شخص شفیق لغور کے ساتھ وابستہ رہا، اس کے لیئے مخبری کرتا رہا یا اس کے دہشتگرد جتھے کا حصہ بنا رہا، تو اسے قومی غدار تصور کیا جائے گا اور وہ اتنا ہی بڑا مجرم اور گنہگار ہوگا جتنا خود شفیق لغور مینگل ہے۔ ایسے کسی بھی سہولت کار اور ڈیتھ اسکواڈ کارندے کے لیئے اب تنظیم کی پالیسی میں کوئی رعایت، مصلحت یا معافی کی گنجائش نہیں ہے، اور وہ سرمچاروں کے حملوں کا براہِ راست ہدف ہوں گے۔

آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی اپنے اس عزم پر غیر متزلزل کھڑی ہے کہ بلوچ سرزمین کو غداروں اور ریاستی استحصالی آلہ کاروں سے مکمل طور پر پاک کرنے تک ‘آپریشن مرگِ غداران’ پوری شدت اور طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔