لسبیلہ اور جیونی میں 13 اہلکار ہلاک، لیتھیم کمپنیوں کو حتمی تنبیہ جاری کرتے ہیں – بی ایل اے

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز صبح تقریباً 9 بجے بلوچ لبریشن آرمی کے ہر اول دستے فتح اسکواڈ نے لسبیلہ کے علاقے والپٹ میں کشاری کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کی 15 ایف ایف کی بم ڈسپوزل پارٹی کے گاڑیوں کے قافلے کو ایک منظم اور مہلک حملے میں نشانہ بنایا۔

ترجمان نے کہاکہ سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنانے کے بعد براہِ راست حملے کا آغاز کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں قابض فوج کی دو گاڑیاں مکمل تباہ ہو گئیں جبکہ مزید دو گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ حملے میں قابض پاکستانی فوج کے 9 اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ 11 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک وزخمی ہونے والوں میں ‘لائٹ انجینئرنگ بٹالین’ اور ’15 ایف ایف’ کے اہلکار شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دریں اثناء جیونی میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران قابض پاکستانی فوج اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے 4 کارندوں، غلام مصطفیٰ (سکنہ پنجاب)، صنم مسیح (سکنہ شیخوپورہ، پنجاب)، کنول شہزاد (سکنہ کوئٹہ) اور دانش اقبال (سکنہ کرک) کو ہلاک کر دیا۔ بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ زراب گزشتہ کچھ عرصے سے ان کارندوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی، جو قابض فوج کے ذیلی ادارے ‘نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن’ (این ایل سی) سے منسلک ہوکر جیونی میں استخباراتی نقل وحرکت میں مصروف تھے۔

ترجمان نے کہاکہ مزید برآں، ماشکیل میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ‘لیتھیم’ نکالنے والے ایک استحصالی پروجیکٹ کی سائٹ کا کنٹرول حاصل کرکے وہاں موجود 4 ڈرلنگ مشینوں سمیت 5 گاڑیوں کو نذرِ آتش کرکے تباہ کر دیا۔ کارروائی کے دوران حراست میں لیئے گئے کمپنی کے اہلکاروں کو تنظیمی پالیسی کے تحت سخت تنبیہ کے بعد بحفاظت رہا کردیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ لیتھیم اکیسویں صدی کی عالمی توانائی کی تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرک بیٹریوں کی پیداوار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ایک انتہائی نادر، اور تزویراتی معدنیات ہے۔ بلوچ سرزمین لیتھیم کے ان نایاب قدرتی ذخائر سے مالامال ہے جو بلوچ قوم کی آنے والی نسلوں کے محفوظ معاشی، سیاسی وجغرافیائی مستقبل کی بنیادی ضمانت ہیں۔ شدید ترین معاشی تباہی اور دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی قابض پاکستانی ریاست، جس کے پاس اپنے نوآبادیاتی تسلط اور عسکری اخراجات کو برقرار رکھنے کے لیئے مالی وسائل ختم ہوچکے ہیں، اب بلوچ قوم کے اس قیمتی اثاثے کو عالمی منڈی میں غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں نیلام کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ بی ایل اے یہ واضح کرتی ہے کہ قابض ریاست کی جانب سے بلوچ لیتھیم کی لوٹ مار کے ذریعے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کا یہ عمل بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور بلوچ قومی مرضی کی شدید ترین خلاف ورزی ہے۔

مزید کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی ایک حتمی اور واضح پالیسی کے تحت تمام بین الاقوامی وعلاقائی کان کنی کمپنیوں، نجی سرمایہ کاروں اور گلوبل کنسورشیمز پر یہ حقیقت آشکار کرتی ہے کہ قابض پاکستانی فوج یا اس کی کسی بھی کٹھ پتلی انتظامیہ کو بلوچ سرزمین کی حدود کے اندر لیتھیم یا کسی بھی دیگر معدنیات کا سودا کرنے کا کوئی قانونی، اخلاقی یا جغرافیائی استحقاق حاصل نہیں ہے۔ قابض پاکستان کے ساتھ لیتھیم کی تلاش، ایکسپلوریشن، لیسنسنگ یا ڈرلنگ سے متعلق کیا گیا ہر معاہدہ، دستخط شدہ دستاویز اور مالیاتی شراکت داری مکمل طور پر کالعدم، غیر قانونی اور باطل تصور ہوگی۔ عالمی کمپنیاں اسلام آباد کی غاصب اور غیر مستحکم انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے تجارتی معاہدوں سے مکمل طور پر پرہیز کریں اور بلوچ سرزمین پر جاری تمام لیتھیم پروجیکٹس سے اپنی سرمایہ کاری، عملہ اور لاجسٹک وسائل فوری طور پر نکال لیں۔

آخر میں کہاکہ بی ایل اے اپنی ‘معاشی ناکہ بندی’ کی حکمتِ عملی کے تحت بلوچ قومی وسائل اور بالخصوص لیتھیم جیسے حساس قومی اثاثوں کا دفاع تمام عسکری قوت کے ساتھ کرنے پر کاربند ہے۔ ماشکیل میں لیتھیم نکالنے والی استحصالی پروجیکٹ سائٹ کا کنٹرول حاصل کرکے ڈرلنگ مشینری کو نذرِ آتش کرنا اس پالیسی کے عملی نفاذ کی ایک واضح کڑی اور حتمی تنبیہ ہے۔ اگر کسی بھی بین الاقوامی یا مقامی کمپنی نے قابض فوج کی عسکری چھتری کے فریب میں آکر لیتھیم کی چوری میں معاونت کی، تو اس کی تمام ڈرلنگ سائٹس، فیلڈ کیمپس، نقل و حرکت اور تکنیکی عملہ بی ایل اے کا براہِ راست عسکری ہدف ہوں گے۔ بلوچ قوم اپنے ساحل، وسائل اور نایاب معدنیات کے تحفظ کے لیئے ہر حد عبور کرے گی اور آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام تک استحصالی منصوبوں کے خلاف یہ جنگ پوری شدت سے جاری رہے گی۔